- الإعلانات -

اس کاپھانسی ہی علاج ہے

ہائی وے پر خاتون کو کھڑی کارسے درندوں نے زبردستی باہر نکال کیا ۔ اس کی عصمت دری کی ۔ ایک اور واقعی میں لاہور، اسلام ;200;باد موٹروے پر غنڈوں ;47;ڈاکوں نے گاڑی روک کر مسافروں کو لوٹا ادھرکراچی سپریم کورٹ نے صحافی مرید عباس کے قتل کے ملزم عادل زمان کی درخواست ضمانت خارج کرتے جیل بھجوانے کا حکم دیاتو ملزم پولیس سے طاقتور تھا اور ملزم عدالت سے فرار ہوگیا ۔ مرید عباس کے قاتلوں میں عادل زمان کا نام کس نے شامل کیا;238; عادل زمان کا قتل میں کیا کردار تھا ۔ مریدعباس کو کیوں قتل کیا گیا;238; یہ وہ سوالات ہیں جن سے ہ میں کوئی سروکار نہیں ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ عادل زمان کتنا طاقتور اور کتنا سابقہ صاحب اقتدار ہے ۔ ہم نے تو یہ دیکھنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اگرعادل زمان کی کیوں ضمانت منظور کی ہم نے تو یہ دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ سے درخواست ضمانت خارج ہونے پر ملزم عاطف زمان کیسے فرار ہوگیا ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ پولیس ملزمان کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کرنے میں کیوں ناکام ہوئی ہم نے یہ دیکھنا ہے پولیس عدالت کے حکم پر ملزم کو گرفتار کرنے سے کیوں قاصر ہیں ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ کراچی پولیس کی نا اہلی کی پر کوئی کارروائی کرتی ہے ۔ پولیس کی شکایت پولیس کو کرنا پڑتی ہے جس کا نتیجہ صفر نکلتا ہے جب تک پولیس کا پولیس کے خلاف نا انصافی پر انصاف ملنے کے ٹھوس اقدامات اور قانون سازی نہیں ہوتی یہ ملک پولیس اسٹیٹ رہے گا غریب کمزور اور کم علم لوگ پولیس کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے خبروں کے مطابق لاہور سیالکوٹ موٹروے پر زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کے ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے انعام غنی اور عثمان بزدار کےلئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ وہ موٹروے پر خاتون کو نہ صرف ڈاکوں نے لوٹا بلکہ اس کے بچوں کے سامنے اس کی عزت بھی لوٹ لی اور اس وقوعے پر سی سی پی او لاہور کے ریماکس غنڈوں کی درندگی جیسے ہیں ۔ غنڈوں درندوں نے تو درندگی اور غنڈہ گردی دکھائی سی سی پی او کو شرم نہ ;200;ئی کہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کو گاڑی کا پٹرول چیک کرنا چاہیے تھا ۔ شیخ صاحب گاڑی کی ٹنکی فل بھی ہو تو گاڑی خراب ہو سکتی ہے ٹینکی میں تیل ضرورت سے زیادہ ہو گاڑی کا ٹائر پھٹ سکتا ہے ۔ گاڑی کو کوئی مسئلہ بھی پیش ;200; سکتا ہے جنہوں نے عوام کو تحفظ دینا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہ میں نیند ;200;گئی جن لوگوں نے چلتی گاڑیوں کو روک کر مسافروں کو لوٹا ۔ سی سی پی او لاہور اس پر کیاتبصرہ کریں گے ذمہ دارشہری اور ذمہ دار افسران کو سی سی پی او کی طرح غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے حضور اس غیر ضروری گفتگو سے سی سی پی او کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کوتاہی ہوئی ہے یا مجرم حد سے بڑھ کر چالاکی دکھاتے ہیں تو واقعات ہوتے ہیں مگر اس طرح کا تبصرہ کرکے خاتون کو پٹرول چیک کرکے سفر کرنا چاہیے تھا جب انہوں نے ;200;سمان کو للکارا ہے ان کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کی بجائے مظلوم کی کمزوری کواچھالنابھی درندگی سے کم نہ ہے جرائم دنیا میں ہوتے رہیں گے جرائم کا خاتمہ ممکن ہے مگر جس طرح تاریخ رات کی تاریخی میں ایک مفلوج اور مجبور خاتون کو بچوں کے سامنے بے عزت کرنا قتل کرنے سے زیادہ گھناوَنا اور ظالمانہ فعل ہے پہلے ایسے گھٹیا کردار کے لوگوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے پورے پاکستان سے ایک صدا بلند ہوئی ہے کہ بات خواتین کی عصمت دری کے ہر فعل کی سزائے موت کا قانون بننا چاہیے ۔ معاشرے میں بہتری کےلئے جب تک سخت سزائیں مجرموں کےلئے مقرر نہیں کی جاتیں ۔ غنڈے درندے درندگی اور غنڈہ گردی سے باز نہیں ;200;ئیں گے ۔ گناہ کس معاشرے میں نہیں ہوتا;238; جرائم کا خاتمہ ناممکن ہے مگر ہمارے ہاں جس طرح کی سنگین معاشرتی جرائم ہو رہے ہیں جن میں بچوں کا اغوا اور پھر ان سے بدفعلی جرائم پیشہ افراد کے گھروں میں گھس کر ڈکیتی اور خواتین کی عصمت دری یہ وہ جرائم ہیں جن کی کسی صورت معافی وصلح نہیں ہونی چاہیے ۔ ان جرائم کے مجرموں کےلئے سزائے موت اور معافی و صلح غیرقانونی ہونی چاہیے جرائم معاشرے میں مایوسی اور اضطراب پیدا کرتے ہیں لہٰذا ایسے مجرموں کےلئے خصوصی قانون سازی کرکے ان کے جرائم پر سزائے موت اور ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ ان مجرموں سے جو ہر خاص و عام کو محفوظ بنانے کےلئے انتہائی سخت قانون اور مجرموں کےلئے سخت سزائیں کا ہونا ضروری ہے ۔ ورنہ یہ درندے کسی بھی وقت کسی بھی کمزور اور غریب کی عزت سے کھیل سکتے ہیں ضروری نہیں ۔ یہ درندے کسی غریب اور کمزور کی عزت پر حملہ ;200;ور ہو سکتے ہیں ۔ ان کےلئے امیر اور غریب میں کوئی فرق نہ ہے جرنیل ہو کہ جج صحافی ہوں کہ پولیس افسر سیاسی ہوں کہ بیوروکریٹ سب کو اس بات پر متفق ہونا ضروری ہے کہ عزتوں سے کھیلنے والوں کےلئے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ اگر زانی اور عصمت دری کرنے والوں کیلئے سخت قانون سازی نہ کی گئی تو کل کسی صحافی سیاستدان جرنیل اور بیوروکریٹ کی عزت محفوظ نہیں ہوگی ۔ مجبوراً لکھنا پڑتا ہے کہ معاشرے میں مادر پدر ;200;زادی اور خواتین کے حقوق کےلئے ;200;واز بلند کرنےوالے اس واقعہ پر خاموش ہیں ۔ جب تک ہم خواتین کی عزت اور عصمت کی نگرانی نہیں کریں گے ۔ معاشرہ نہ پرامن ہو سکتے ہیں اور نہ پروقار ۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے پاکستان ہمارے معاشرے کی ابتری کی انتہا اور ہمارے غلیظ کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے معاشرے کے متحرک لوگوں کو چونکا دیا ہے کہ ہمارے اندر اتنی بے غیرت اور بدکردار افراد بھی موجود ہیں ایسے معاشرے تباہی و بربادی کے شکار ہو کر رہتے ہیں ہم نے معاشرتی برائیوں کے خلاف بند نہ باندھا تو نہ کسی کسان اور نہ کسی حکمران کی عزت بچے گی ۔