- الإعلانات -

کشمیر کے اختیارات بھارتی وزارت داخلہ کے سپرد

دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ بی جے پی جموں کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کوسنجیدہ نہیں ۔ ایک جانب بی جے پی ریاست کا درجہ بحال کرنے کو لے کر بہت زیادہ باتیں کرتی ہے مگر دوسری جانب بزنس رولز بنا کر یوٹی کے وزیر اعلیٰ کو ایک کٹھ پتلی بنا کر رکھ رہی ہے ۔ جموں وکشمیر میں نئے بزنس رولز کے تحت یو ٹی کے ایل جی کے پاس نہ صرف زیادہ اختیارات ہوں گے بلکہ امور داخلہ اور آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے تبادلے اور تقرری کا اختیار بھی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہی رہے گا ۔ مقبوضہ کشمیر میں نئے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کٹھ پتلی کا کردار ادا کرے گی ۔ وزیراعلیٰ کی حیثیت میونسپل کونسلر جیسی ہو گئی ۔ کانسٹیبل کا تبادلہ کرنے کے بھی اختیارات نہیں ۔ نئے بھارتی قوانین کے تحت گورنر ہی مختار کل ہوگا ۔ یہاں تک کہ انسداد رشوت خوری کے لئے بنائے گئے اداروں کا کنٹرول بھی ایل جی کے پاس ہی رہیں گے ۔ نئے بزنس رولز کے تحت اگرچہ یو ٹی کے وزیر اعلیٰ کے پاس بھی کئی محکموں کا کنٹرول رہےگا ۔ تاہم یہ وہ محکمے ہیں جن کی کوئی خاص اہمیت یا افادیت نہیں ہے ۔ نئے بزنس رولز کے تحت ایک وزیر اعلی ایک پولیس اہلکار کا تبادلہ بھی عمل میں نہیں لا سکے گا ۔ کل ملا کر نئے بزنس رولز کے تحت ایل جی یو ٹی کا مختار کل ہوگا جب کہ ایک اختیارات کے معاملے میں وزیر اعلی کو ایک کونسلر کے درجے تک پہنچایا گیا ہے ۔ دوسری جانب نئے بزنس رولز کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ نئے بزنس رولز کو سامنے لا کر یہی لگتا ہےکہ مرکزی حکومت کو جموں وکشمیر یو ٹی کو ریاست کا درجہ دینے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے ۔ اگرچہ وزیر اعظم نے 15 اگست کو لال قلعہ سے یہ کہا تھا کہ یوٹی کو ریاست کا درجہ دوبارہ دیا جائےگا، لیکن نئے بزنس رولز کو سامنے لانےکے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اعلان بھی صرف ایک کھوکھلا دعوی تھا ۔ بی جے پی نئی حد بندی جلد از جلد مکمل کرکے یہاں اپنا وزیر اعلی بٹھانا چاہتی ہے ۔ بھی کہنا تھا کہ نئے بزنس رولزکے تحت نا ہی وزیر اعلی کے پاس کوئی اختیار ہوگا اور خاص کر یہاں کی اسمبلی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔ الطاف بخاری کا مطابق 370 کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے ۔ تاہم جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری کا کہنا تھا کہ وہ روز اول سے ہی ریاست کے درجے کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور مطالبہ کرتے رہیں گے ۔ عوام کی رسائی بیورو کریسی تک نہیں ہے اور مرکزکو چاہئے کہ وہ ریاست کا درجہ فوری طور پر بحال کرے ۔ تاکہ یہاں ایک مضبوط اور با اختیار اسمبلی پھر سے بنے ۔ دوسری جانب نئے بزنس رولز کو لےکر پی ڈی پی کا کہنا تھا کہ بی جے پی دوغلی پالیسی اپنا رہی ہے اور اس کو جموں وکشمیر کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ بلکہ بی جے پی اپنے اقتدار کے لئے یہ سب کچھ کر رہی ہے ۔ اسمبلی کی اپنی ایک ایک اہمیت وآئینی افادیت ہوتی ہے اگرچہ جموں کشمیر یوٹی کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کو لے کر بی جے پی کے اندر سے بھی آوازیں اْٹھ رہی ہیں ۔ تاہم پارٹی کے اکثر لیڈران اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کرتے جبکہ یو ٹی میں پارٹی کے صدر رویندر رینا کا کہنا تھا کہ تمام تو یوٹی میں نظم و نسق چلانے کےلئے اسی طرح بزنس رولز بنائے جاتے ہیں اور مرکزی حکومت نے تمام تر پہلووں کو دھیان میں رکھ کر ہی یہ بزنس رول ترتیب دیئے ہوں گے جبکہ بی جے پی کے سابق نائب وزیر اعلی کویندر گپتا اس مسئلے پر بڑی بیباکی سے کام لے کر کہہ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر یو ٹی کو ریاست کا درجہ فوراً واپس ملنا چاہئے کیونکہ یہ تمام لوگوں کا مطالبہ ہے ۔ اس طرح نئے بزنس رولزکو لے کر یوٹی میں اس وقت بیان بازی کا دور پھر شروع ہوا ہے اور نئے اختیارات کو لے کر سیاسی حلقوں میں ایک کھلبلی سی مچ گئی ہے ۔ کشمیر پر جو حملہ کیا وہ بھارت نے ناصرف ملکی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔ بھارت کا یہ اقدام جموں و کشمیر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردوں کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کیخلاف ہے ۔ شملہ معاہدے کے خلاف ہے اور جنیوا کنونشن کے خلاف ہے ۔ یہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو اب مزید دبانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ انہیں اپنے برابر کا انسان نہیں سمجھتے ۔ یہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں ۔ بھارت کی قابض فورسز نے دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرکے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبد اللہ کو گرفتار کرلیا تھا جس پر دونوں کشمیر رہنماؤں نے اپنے ٹوءٹس میں کشمیریوں کو پیغام دیا تھا ۔ نظر بندی کے بعد اپنے ایک ٹوءٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ کتنا ظالمانہ رویہ ہے کہ ہم جیسے منتخب نمائندوں کوجنہوں نے ہمیشہ امن کیلئے جدوجہد کی نظر بند کردیا گیاہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ کس طرح مقبوضہ کشمیر کے باشندوں اور ان کی آواز کوکچلا جارہاہے ۔ یہ وہ کشمیر ہے جس نے ایک سیکولر اور جمہوری بھارت کا انتخاب کیا تھا ۔ اب کشمیر کو انتہائی ناقابل بیان رویے کا سامنا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے موجودہ حالات میں اپنی گرفتاری سے قبل برطانوی میڈیا پر کہاہے کہ اب ہم کہاں جائیں ;238; لگتا ہے کہ ہم بھارت کو پاکستان پر ترجیح دینے میں غلط تھے ۔ بھارت کوکشمیر کاعلاقہ چاہئے ، عوام سے کوئی غرض نہیں ہے ۔ آج کا دن بھارت کی جمہوریت کیلئے سیاہ ترین دن ہے ۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر کو غزہ پٹی کی طرح بنانا چاہتا ہے ۔ بھارت کشمیریوں کے ساتھ وہی کچھ کرنا چاہتاہے جو اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کررہاہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد بھارتی عزائم ناپاک ہیں ۔ وہ لوگ کہاں جائیں جو اقوام متحدہ میں انصاف کیلئے جاتے تھے ۔