- الإعلانات -

سیکیورٹی فورسزکاجنوبی وزیرستان میں کامیاب آپریشن

سیکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دہشت گردوں کے سرغنہ احسان اللہ عرف احسان سنڑے کو شمالی و جنوبی وزیرستان کے درمیانی علاقہ میں تین ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ٹویٹر پر پیغام میں بتایا ہے کہ دہشت گرد کمانڈر احسان اللہ سنڑے خفیہ معلومات پر کئے گئے آپریشن کے دوران مارا گیا ۔ احسان سنڑے کیخلاف آپریشن گھڑیوم کے علاقے شکتو میں کیا گیا ۔ احسان سنڑے شکتو کے علاقے میں ہونےوالی حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کا ذمہ دار تھا ۔ ان ہی کارروائیوں میں لیفٹیننٹ ناصر اور کیپٹن صبیح سمیت متعدد فوجی شہید ہوئے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بےگناہ پاکستانیوں ، لیفٹیننٹ ناصر اور کیپٹن صبیح سمیت فوج کے کئی شہدا کے اہلخانہ کےلئے ;200;ج یوم قرار ہے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی کاوشیں ہیں ، شہدا کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں دہشت گردوں کےخلاف کامیاب کارروائی کرنےوالے دستے مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے ایک طویل جنگ لڑی ہے اس جنگ میں پاکستان نے بھاری مالی وجانی نقصان اٹھایا ہے ۔ اصل میں ہمارا ازلی دشمن بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن قائم رہے اور اس نے دہشت گردی کی تنظی میں پال رکھی ہیں جن کووہ استعمال کرتاہے ۔ بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کررہا ہے ۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں کامیاب آپریشن ضرب عضب اور ردالفسادکے باعث دہشت گردوں کو ختم کیاگیالیکن افغان سرزمین پردہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو اب بھی شدید خطرہ لاحق ہے جو پاکستان کے جانی نقصان کے علاوہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کا باعث ہے ۔ را اور این ڈی ایس مل کر پاکستان کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کےلئے متحرک ہیں ۔ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی اور لاقانونیت کے پیچھے پڑوسی ملک اور اس کے اتحادی ملوث رہے ہیں ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں ۔ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کو ہوا دینے کےلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہا ہے جس کے ناقابل تردید شواہد پاکستان امریکا کو بھی پیش کر چکا ہے مگر اس کی خاموشی اس امر پر دلالت کرتی کہ دہشت گردی کو فروغ دینے میں اس نے بھارت کو فری ہینڈ دے رکھا ہے جبکہ بڑی ہوشیاری سے وہ دہشت گردی کے خاتمے کےلئے پاکستان پر ڈومور کے ذریعے دباوَ ڈالتا رہتا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو پوری دنیا سراہتی ہے ۔ ادھردوسری جانب بھارتی فوج نے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پھر کنٹرول لائن کے تتہ پانی اور رکھ چکری سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی ۔ ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے جان بوجھ کر بھاری ہتھیاروں سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کی زد میں آ کر گیارہ سالہ لڑکی شہید اور چار شہری زخمی ہوگئے ۔ شدید زخمی ہونے والوں میں ایک 75 سالہ خاتون اور دو معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔ شہید ہونیوالی11 سالہ لڑکی کا تعلق ڈیرہ صاحبزادیاں سے بتایا گیا ہے ۔ پاک فوج نے دشمن کو بھرپور جواب دیا ۔ بھارتی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ پاکستان میں متعین بھارت کے ناظم الامور گورو آہلو والیا کو دفتر خارجہ طلب کر کے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی، ایک بچی کی شہادت اور چار شہریوں کے زخمی ہونے پر سخت احتجاج کیا گیا ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ نہیں ہٹا سکتا ۔ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی علاقائی امن و سلامتی کےلئے خطرہ ہے، بھارت 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے ۔ بھارت جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول پر سویلین آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ رواں برس اب تک بھارت کی جانب سے دو ہزار 225مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس سے 18 شہری شہید اور 176زخمی ہوئے ۔ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے گروپ کو کنٹرول لائن تک رسائی دے ۔ فائرنگ گولہ باری سے مسجد اور درجنوں رہائشی مکانات شدید متاثر جبکہ مویشی ہلاک زخمی ہوئے بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ تتہ پانیہجیرہ سبزہ بٹل اور درہ شیر خان روڈز پر ٹریفک گھنٹوں تک معطل رہی عوام گھروں میں محصور رہے پاک فوج کے کرارے جواب نے دشمن کی توپوں کے منہ بند کر دیئے ۔ ایک طرف بھارت ایل او سی پر شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے تو دوسری طرف اس کے جاسوس طیاروں کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی بھی معمول بن چکی ہے ۔ کرونا وائرس سے بوکھلایا ہوا بھارت سرحدوں پر بھی حواس باختگی کا شکار ہے ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارتی چیرہ دستیوں کا نوٹس لے ۔

ایران کی دیرپا امن کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف

دوحہ قطر میں افغان طالبان نے اسلامی نظام کے نفاذ کے علاوہ مزید 737قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا ۔ علاوہ ازیں امیر قطر نے افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر سے الگ الگ ملاقات کی ۔ ملاقاتوں میں افغان امن عمل سے متعلق بات کی گئی ۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ مذاکرات میں افغان عوام کی امنگوں کے مطابق پائیدار سمجھوتے کی امید کرتے ہیں ۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ سمجھوتے میں آئینی، جمہوری اور سیاسی نمائندگی کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے ۔ افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ حنیف اتمر نے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کیلئے ہم پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہیں ۔ اپنے ٹویٹ میں انہوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس موقف سے مکمل اتفاق کیا ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف افغانوں بلکہ پورے خطہ کیلئے ترقی و خوشحالی کے مواقع لائے گا ۔ مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی اسفند یار ولی نے بیان میں کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا ;200;غاز خوش ;200;ئند ہے ۔ امید ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے ۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ۔ افغان سرزمین پر ایک طویل جنگ ہوچکی ہے ۔ فریقین انا چھوڑ کر عوامی مفاد ذہن میں رکھتے ہوئے قوم کے مستقبل کی فکر کریں ۔ دائمی امن اور اس خطے کی ترقی کیلئے جنگ بندی سب سے پہلے ہونی چاہئے ۔

تعلیمی اداروں کاکھلناخوش آئند

چھ ماہ کی طویل بندش کے بعد پہلے مرحلے میں آج سے تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں ۔ طلبہ ماسک سمیت دیگر کورونا ایس او پیز پر عملدر;200;مد کےلئے پرعزم ہیں ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے 14 مارچ سے تعلیمی ادارے بند تھے اور طویل بندش کے بعد آج سے سکولوں سمیت دیگر تعلیمی ادارے پہلے مرحلے میں کھل گئے ہیں ۔ سکولوں میں نویں ، دسویں اور کالجز میں سیکنڈ ائیر اور فورتھ ائیر کی کلاسز آج سے شروع ہوں گی ۔ 6ماہ کے بعد حکومت کی طرف سے تعلیمی ادارے کھولنے پر والدین نے سکھ کا سانس لیا ہے ۔ طلبہ ماسک سمیت دیگر ایس او پیز پر عملدر;200;مد کرنے کےلئے بھی پُرعزم دکھائی دیتے ہیں ۔ محکمہ سکولز پنجاب نے گوجرانوالہ سمیت صوبہ بھر کے نجی اور سرکاری سکولوں کےلئے شیڈول کا اعلان کردیا ۔ طلبہ کو کلاس وائز اے اور بی 2 گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ گروپ اے کے طلبہ ہفتے میں تین دن پیر، بدھ اور جمعہ کو سکول ;200;ئیں گے اور گروپ بی کے طلبہ منگل، جمعرات اور ہفتہ کے دن سکول ;200;ئیں گے ۔ سکول اوقات کار صبح 7;46;30 تا 1 بجے ہوں گے ۔ دریں اثنا اداروں کے کھلنے سے قبل اساتذہ اور طلبہ کے لازمی کرونا وائرس ٹیسٹ کے معاملہ پر سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے متعلقہ اداروں کو وضاحتی خط لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ یا طلبہ کے کرونا ٹیسٹ کی کوئی لازمی شرط نہیں رکھی گئی ۔ خط میں انہوں نے بتایا ہے کہ کورونا ٹیسٹ تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد حکومت پنجاب کی طرف سے کئے جائیں گے ۔ سرکاری سطح پر رینڈم سیمپلنگ کے علاوہ کسی ٹیسٹ کی کوئی شرط نہیں ہے ۔