- الإعلانات -

میری ز میں میرا آخری حوالہ ہے

برصغیر کے مسلمانوں نے تو آزادی ایسے فطری حق کو، طویل صد سالہ دور غلامی کے بعد نہایت جدوجہد اور انتھک قربانیوں سے ازسرنو حاصل کیا اور یہ وہی جانتے ہیں کہ یہ نعمت بے بہا انہیں کس قدر مہنگی پڑی کہ انہیں اس رحمت بے پایاں سے مسرور شادمان ہونے کےلئے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا اور ہزاروں عصمتوں کی قربانی ان کا مقدر ٹھہری ہیں بقول شخصے لہو برسا،بہے آنسو، لٹے راہرو، کٹے رشتے ابھی تک نامکمل ہے مگر تعمیر آزادی ، آزاد ی کی قدر و قیمت،پاک وبلند کے مقدس شہیدوں کی روحیں جانتی ہیں کہ ان پر کیسے کیسے مصائب کے پہاڑ ٹوٹے یا پھر وہ بچھے کھچے اور لٹے پٹے غازی اور ان کے نونہال آگاہ ہیں جو خاک و خون کے ہولناک طوفانی سمندر سے گزرے ;223;یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے ;223;لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا کیا یہی ہے آزادی قدروقیمت آئے دن ہم شخصیات کا قتل عام، بینک ڈکیتیاں ،بم دھماکوں کی وحشت و دہشت، علماء کی فرقہ وارانہ بیہودگیاں ،لسانی اور صوبائی بنیادوں پرلڑائیاں ، سیاستدانوں کی چیرہ دستیاں ، صنعت کاروں کی عیاشیاں اور دانشوروں کی غداریاں کس قوم کی ترجمانی کرتی ہیں یہ سب وبائیں اور ابتلائیں اس امر بیل کی مثل ہیں جو وطن عزیز کے شجر سایہ دار کا رس چوس چوس کر اسے جڑ سے اکھیڑ رہی ہیں آج کوئی عالم ہو یا سیاستدان آقا ہو یا نوکر تاجر ہو یا افسر استاد ہو یا شاگرد ڈاکٹر ہویا انجینئر ادیب ہویا شاعر، خطیب ہو یا صحافی،وزیر ہویا تاجر;245; سبھی اپنے اپنے محاذ پر غفلت کی نیند سوئے نہ جانے کن خوابوں میں کھوئے ہوئے ہیں بلکہ جب سے بابائے قوم محسن ملت حضرت قائداعظم نے حیات ظاہری سے منہ موڑا ہے کامرانیوں اور شادمانیوں نے بھی رشتہ توڑا ہے کہ اپنے پرائے سبھی نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے بقول شاعر یہ راز کوئی اب راز نہیں سب اہل بصیرت جان گئے ،ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا،آزادی حاصل کرلینا یقینا مشکل کام ہے لیکن اسے برقرار رکھنا مزید دشوارگزار مرحلہ ہے کہ کوئی شاہکار بنا کر اسے سنوارنا، نکھارنا اور دائمی حیثیت کے مقام عظمیٰ کی جانب ابھارنا ہیں اصل فنکاری اور ہنر مندی ہے نہ کہ اسے زمانے کے گھر والے سرد وگرم کے سپرد کر دیا اور آخرکار حالات اور موسمی تغیرات نے ملیاں میٹ کر دیا بانی پاکستان تو برابر اس امر کا احساس دلاتے رہے مگر ہم نے ان کی آواز پر کان نہ دھرا ;223; منزل وہی بنی جہاں رکھ دیا قدم ;223;ہر مرحلہ اسیر میرے نقش پا کا ہے یہی نہیں معمار وطن نے زندگی کے ہر شعبے میں اس قدر رہنما اصول چھوڑے بلکہ اپنی روشن تعلیمات سے نوازا کہ اگر انہیں مشعل راہ بنا تے تو ناکامی اور مایوسی ہمارے قدم تک نہیں چھو سکتی تھی اتحاد،تنظیم،یقین محکم،عمل ذوق، علم،تعمیر قوم،جرات و بے باکی، صداقت شعاری، خدمت گزاری خودداری،جذبہ اسلام، اتحاد ملت اسلامیہ حب خیرالانام صلی اللہ علیہ وسلم غرض کیا نہیں جو ہ میں نہ دیا ہو اور کیا نہیں جس پہ ہم نے ذرہ برابر بھی عمل کرکے دکھایا ہو اقبال نے کیا خوب کہا ہے وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا ;223;کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا کیا میں اپنی قوم سے یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ کیا ہماری بے مثال قربانیوں کا مقصد یہ تھا کہ پیارے دیس سرزمین پاک کے دو ٹکڑے کردیے جائیں اور جو بچا کھچا زمین کا ٹکڑا باقی رہ جائے اسے مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے آئے دن ہرزہ سرائی کرتے رہیں ستم بالائے ستم یہ کہ پھر پوچھنے والا بھی کوئی نہ ہو کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ جو بھی حکمران آئے عوام کے حقوق کی پاسبانی کی بجائے اپنی کرسی اقتدار کو مضبوط کرتا رہے اور کیا اس کے غرض و غایت یہ تھی کہ علمائے کرام سیاسی ماہرین دانشوران قوم،اہل قلم اور صحافی حضرات جو اس کی صحیح راہنمائی وپیشوائی کر سکتے ہیں خود ہی ہوس ولالچ اور خوشامد ایسے امراض کا علاج کا شکار ہوجائیں تاکہ خدانخواستہ جو لنگڑا لولا پاکستان رہ گیا ہے وہ بھی چوروں ڈاکوؤں اور لٹیروں کے نرغے میں پھنس جائے! ایسا نہیں ہونا چاہیے یہ تو ہمارے اخلاق و کردار کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے یہ تو غیرت و حمیت قومی کی موت ہے اور یہ تو ایمان و ایقان کے خاتمے کا اعلان ہے وقت کا مغنی ہ میں رہ کر جذبہ عمل پرابھار رہا ہے مگر ہم ہیں کہ بدستور بے نیازیوں اور غفلت کی وادیوں کی راہ پر گامزن ہیں کیا وہ دن بھی آئے گا کہ ہم قوم کو اپنی ذات پر ترجیح دیں گے;238; اور کبھی کسی قسم کے فریب یا لالچ یا غرض کو ملی نصب العین اور قومی مقاصد پر حاوی نہیں ہونے دیں گے;238;کیا ہماریزندگی میں وہ ساعتیں بھی آئیں گی کہ ہم اپناتن من دھن وطن پر وار دیں گے اورکیا دشمنان وطن کو بھی گنگا جمنا میں غرق کردیں گے;238; نیز اندرون و بیرون ملک جہاں بھی کوئی عروس وطن کو گالی دینے کی ناپاک جسارت کرے گا اسے مثال عبرت بنائیں گے;238;کیا یہ باتیں محض تصوراتی حد تک ہی قائم رہیں گی کہ وطن تیری حرمت پہ کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور تیری کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کر کے دم لیں گے جب تک ہ میں کھوئی ہوئی عظمت نہ ملے گی تقدیر سے بھی برسر پیکار رہیں گے ۔ کیایہ ہماری خوش بختی نہیں ہے کہ ہم اس کی عنبر بار فضاؤں میں سانس لیتے ہیں ہم اس کے فلک بوس پہاڑوں کی رفعتوں سے حظ اٹھاتے ہیں ہم اس کے گھنے جنگلوں کے نظارے کرتے ہیں ہم اس کے وسیع و عریض صحراؤں کے کھلے بازوؤں میں جھولتے ہیں اگر دن کو اس کے آفتاب درخشاں کی روپہلی کرنوں سے فکر و نظر کو منور کرتے ہیں توشب تاریک کے سناٹوں میں چاند ستاروں کی شیریں ضیا باریوں سے کیف و مسرت کا سامان فراہم کرتے ہیں یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ ہم پاکستان کے باشندے ہیں ہ میں یہیں سے رزق ملتا ہے اور یہی ہمارا سائبان ہے کہ ہم اس کے سائے تلے سکھ کا سانس لے رہے ہیں اس سے محبت کا ثبوت نہیں دیتے اور نہ ہی اس کی خدمت کو شعار بنانا اپنا ایمان سمجھتے ہیں حالانکہ حب الوطنی کا دعوی بھی کرتے ہیں نیز آئے دن کرتے ہیں اور ہر جگہ کرتے ہیں اس کے برعکس ہر ملک کی عوام اپنی اپنی قومیت کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں بلکہ جاپان چین صنعت و حرفت امریکہ اور برطانیہ کی سیاسی و سماجی طاقت کویت و دبئی معیشت روس وہندوستان اپنے تمدنی حیثیت میں ترقی کر رہے ہیں اور ہم خاکم بدھن کرپشن میں بام عروج پرہیں کہ خود صاحبان اقتدار کا اعتراف ہے کہ ہم کرپشن میں دنیا میں دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی زبان اپن لباس اپنی تہذیب وثقافت کےلئے دلدادہ ہو جائیں نہ کہ غیر ملکی اور غیر اسلامی اقدار و روایات کو گلے کا ہار بنالیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہماری قومی زبان اردو ہے انگریزی بولنے سننے اور پڑھنے پڑھانے پر نازاں ہیں حیرت ہے کہ ہمارا ازلی دشمن ہندوستان تو اپنی زبان کو ہندی کہے اور ہم پاکستانی اپنی زبان کو پاکستانی کہنا بھی گوارا نہیں کرتے اس کو اپنانا تو دور کی بات ہے لبا س ہے تو شلوار قمیض کودیہاتی پن کی علامت سمجھتے ہیں اور ٹوپی کا استعمال شاید صرف علما اور نمازیوں کیلئے ناگزیر جانتے ہیں ;223;یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود ;223;اللہ سے دعا ہے کہ ہ میں جذبہ حب الوطنی سے سرشار کرے اور ہمارے حکمرانوں کو بھی ہدایت نصیب فرمائے کہ وہ صحیح معنوں میں پاکستان اور پاکستانی قوم کی خدمت کر سکیں ۔