- الإعلانات -

بھارت میں مسلم دشمن ذہنیت میں مسلسل اضافہ

بھارت میں مسلمان دشمن ذہنیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ہندوتوا پالیسی پر عمل پیرا بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے دور حکومت میں مسلمانوں کو کہیں کورونا وائرس کی آڑ میں نفرت کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو کہیں غداری جیسے الزامات میں دھرلیا جاتا ہے ۔ بھارت میں صحافیوں ، وکلاء اور طلبہ کو جھوٹے مقدمے بناکر گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہاں تک کہ بھارت میں اسلامو فوبیا کا لفظ ٹوءٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز مواد پھیلانے پر ہندو قوم پرست سیاستدان پر پابندی عائد کردی ہے ۔ گذشتہ ماہ امریکی اخبار ;39;وال سٹریٹ جرنل;39; کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ کس طرح وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت کے رکن اور قانون ساز ٹی راجا سنگھ نے اپنے ذاتی فیس بک پیج کا استعمال کرتے ہوئے روہنگیا تارکین وطن کو گولی مارنے اور مساجد گرانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ رواں برس مارچ میں فیس بک کے داخلی نگرانی کے شعبے نے اس اکاوَنٹ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے راجا سنگھ پر فیس بک کے استعمال پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی تاہم بھارت میں کمپنی کی پبلک پالیسی کی اعلیٰ ترین عہدیدار انہکی داس نے بی جے پی کے رہنماؤں پر ;39;فیس بک کے نفرت انگیز مواد کے اصولوں کو نافذ کرنے کی مخالفت کی;39; اگرچہ یہ اس مواد کے معاملے کو کمپنی میں اندوری طور پر اٹھایا گیا تھا ۔ اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کے شدید ردعمل کے بعد اب فیس بک نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمان ٹی راجہ سنگھ کے اکاوَنٹ کو بالآخر بلاک کر دیا ہے ۔ جمہوری اقدار کے دعویدار بھارت کی ریاست مہارشٹرا میں ایک شہری نے ایک مسلمان ڈیلوری بوائے کو دروازے سے لوٹا دیا ۔ برکت عثمان پٹیل کا کہنا ہے کہ اس سے ڈیلوری محض اس لئے نہیں لی گئی کیونکہ وہ مسلمان ہے ۔ یہ کہا گیا کہ مسلما ن ہو! واپس جاوَ، ہم تم سے سامان نہیں لیں گے ۔ یہ آواز اب بھارت میں بڑھنے لگی ہیں ۔ اس سے پہلے میرٹھ کے ایک کینسر اسپتال نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر داخل کرنے سے انکار کردیا تھا کہ انہیں کورونا وائرس سے محفوظ ہونے کا دستاویزی ثبوت پیش کرنا ہوگا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے جامیہ ملیہ کے دو طلبا کو غداری، قتل اور شرپسندی کے الزامات لگا کر گرفتار کیا ہے ۔ طلبا پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے فروری میں ہونے والے فسادات کو ہوا دی اور ریاست کے خلاف سازش اور غداری کی ۔ گرفتار ہونےوالے طلبا میں ایک پی ایچ ڈی اور دوسرا ایم فل کا طالب علم ہے ۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مضمون میں بھارتی ویب ساءٹ دی وائر کی ایڈیٹر سدھارتھ ورداراجن نے کورونا وائرس سے متعلق مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کو بھارت میں تعصب اور جبر کی وبا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق مسلمانوں کے خلاف نریندرمودی حکومت کے جھوٹ کا پردہ چاک کرنیوالے آزاد صحافیوں پر راتوں رات جھوٹے کیسز بنائے جارہے ہیں اور انہیں دھمکایا جارہا ہے ۔ اسی طرح بھارتی ویب ساءٹ ’اسکرول ان‘ نے اپنی رپورٹ میں مسلمان مخالف ایسی 69 جھوٹی وڈیوز کی نشاندہی کی ہے جس میں مسلمانوں کو بھارت میں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی گئی ہے جس کا میڈیا اسکینر نامی تنظیم نے سراغ لگایا ۔ بھارت میں پڑھے لکھے اور سمجھدار طبقے نے ان فسادات کا ذمہ دار انتہا پسند مودی حکومت اور آر ایس ایس کے ساتھ ساتھ مقامی پولیس کو بھی ٹھہرایا جس پر بھارتی میڈیا نے انہیں پاکستانی ایجنٹ ہونے کا طعنہ دے دیا ۔ ابھی حال ہی میں مسلمانوں کے حق میں بولنے والی بالی ووڈ اداکارہ سوارا بھاسکر کو بھارتیوں نے دہلی میں ہونے والے فسادات کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ۔ بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر نے مسلمانوں کے حق میں دو لفظ کیابول دیے ، وہ انتہا پسند میڈیا کے نشانے پر آگئیں ۔ سوارا بھاسکر نے بابری مسجد اور رام مندر پر بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ’ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں کی سپریم کورٹ ایک ہی فیصلے میں یہ کہتی ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنا قانون کی خلاف ورزی تھی اور پھر اْسی فیصلے میں اْن ہی لوگوں کو اعزاز بھی دیتی ہے جنہوں نے بابری مسجد کو شہید کیا تھا ۔ ہمارے دلوں میں ایک ڈر تھا کہ اگر یہ ہوگیا تو کیا ہوگا;238; وہ ہوگیا تو کیا ہوگا;238; اور اب وہ ڈر ہمارے سامنے آگیا ہے کیونکہ ہمارے وردی میں ملبوس قانون کے رکھوالے ہی ہمارے اِس ڈر کو مزید بڑھا رہے ہیں ۔ یہ قانون کے رکھوالے ہی مسلمانوں پر تشدد کرتے ہیں ۔ اْن کی جائیداد اور گھروں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ اْن کو گالیاں دیتے ہیں اور اْن کے گھروں میں گھس جاتے ہیں ۔ بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان گوشت کھاتے ہیں ۔ اس پر بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اداکارہ کے خلاف جنگ شروع ہو گئی ۔ ابھی حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ نے سدرشن ٹی وی کے پروگرام بنداس بول کے نشر ہونے پر پابندی لگا دی ہے ۔ اس متنازع پروگرام کے حال ہی میں جاری پرومو میں دعوی کیا گیا تھا کہ چینل سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی ;34;دراندازی;34; کی بڑی سازش کا پردہ فاش کرنے کیلئے ایک پروگرام نشر کرنے کیلئے پوری طرح سے تیا رہے ۔ سدرشن ٹی وی پر نشر ہونےوالے پروگرام کا مقصد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنا نیز ان کیخلاف نفر ت پھیلانا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ جس طرح سے کچھ میڈیا ادارے مباحثہ کا انعقاد کررہے ہیں یہ تشویش کا باعث ہے ۔ عدالت نے سدرشن ٹی وی کے پروگرام کو سماج کو بانٹنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی آزادی بے لگام نہیں ہوسکتی ۔ میڈیا کو بھی اتنی ہی آزادی حاصل ہے جتنی ملک کے کسی دوسرے شہری کو ہے ۔ آپ بھارتی ٹی وی مباحثہ کا طریقہ دیکھئے کہ اینکر ان مہمانوں کو میوٹ کردیتے ہیں جن کی رائے ان سے الگ ہوتی ہے ۔ زیادہ تر وقت اسکرین پر صرف اینکر ہی بولتا ہے ۔