- الإعلانات -

منی لانڈرنگ کاترمیمی بل پاس ہونا احسن اقدام

اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل کاپاس ہوناحکومت کی کرپٹ مافیا اور منی لانڈرر کےخلاف بہت بڑی کامیابی ہے ۔ وزیراعظم بھی اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن صرف اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کرتمام تر کوششیں کررہی ہے جبکہ حکومت کے سامنے عوام اورملک کامفاد ہے ۔ اس ترمیمی بل کے پاس ہونے کے بعد اپوزیشن اکٹھی ہوگئی ہے اوراپوزیشن لیڈرکہتے ہیں کہ وہ اے پی سی میں حکومت کے بارے فیصلہ کریں گے جبکہ حکومت نے واضح پیغام دیدیا ہے کہ وہ اپوزیشن سے ہرقسم کاکمپرومائزکرنے کے لئے تیار ہے لیکن کرپشن پرکوئی کمپرومائزنہیں کیاجاسکتا یہ بات بالکل انتہائی احسن ہے کیونکہ پاکستان میں کرپشن آ ج کی نہیں سترسال سے رچی بسی ہے ۔ ملک کے خزانے اورمال ودولت پرعوام کاحق ہے اس کا اختیارہے آخرکارمنی لانڈرنگ کے ذریعے قومی خزانہ کیوں لوٹاجائے اور اس میں جو بھی ملوث ہو اس کو قرارواقعی سزا لازمی ملنی چاہیے ۔ اس سلسلے میں اپوزیشن کو احتجاج کے بجائے حکومت کاساتھ دیناچاہیے اور حکومت کے لئے بھی لازمی ہے کہ وہ مساوات کی بنیاد پراقدامات کرے ،منی لانڈرنگ میں کوئی بھی ملوث ہو خواہ اس کاتعلق حکمران کی صفوں سے ہویا اپوزیشن کی یاپھرکسی بھی شخصیت سے ہو اس کو قانون کے کٹہرے میں لانا انتہائی ضروری ہے ۔ تب ہی انصاف قائم ہوسکتاہے اگر اس سلسلے میں اقرباء پروری کی گئی تو پھراس حوالے سے قانون سازی کاکوئی فائدہ نہیں ۔ یوں توقوانین موجود ہیں ان پرعملدرآمد بہت ضروری ہے ۔ جب تک عمل نہیں ہوگا اس وقت مسائل حل نہیں ہوسکتے ۔ گزشتہ روز اپوزیشن عددی اکثریت کے باوجود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی بلوں کی منظوری روکنے میں ناکام رہی، حکومت نے سینیٹ سے مستردکردہ اینٹی منی لانڈرنگ سمیت 8 بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس کرالئے، مشترکہ اجلاس میں اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل 2020، انسداد تطہیر زر(دوسری ترمیم)بل 2020، فن مساحت و نقشہ کشی (ترمیمی)بل 2020، عدالت عالیہ اسلام آباد(ترمیمی)بل 2019، انسداد دہشت گردی (ترمیمی)بل 2020، پاکستان میڈیکل کمیشن بل 2020، میڈیکل ٹربیونل بل 2019اور دارالحکومت علاقہ جات معذوروں کے حقوق بل 2020 منظور کر لئے گئے ۔ حکومت کے16، اپوزیشن کے 36ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے، اجلاس کے دوران شاہ محمود قریشی اور بابراعوان نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے بولنے کی مخالفت کی ،تحریک پر رائے شماری کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابہ کیا اور بات حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی تک چلی گئی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020منظور کر لیا گیا جبکہ وقف املاک بل میں ترمیم کی بھی منظوری دیدی ۔ اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر اچھال دیں اور ایوان سے واک آءوٹ کر گئی، رضا ربانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان مشیرہیں تحریک پیش نہیں کرسکتے، آئین اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ روکتاہے، جس پر وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ مشیر صرف ووٹ نہیں دے سکتا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے سے نہیں روکتا ۔ قبل ازیں سینیٹ نے انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل2020 مسترد کر دیا تھا ۔ چیف وہپ سینیٹر سجاد حسین طوری نے بل ایوان میں پیش کیا،انسدا دہشت گردی تیسرے ترمیمی بل پر ووٹنگ کے دوران حمایت میں 31 جبکہ مخالفت میں 34 ووٹ آئے جبکہ جماعت اسلامی نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ترمیمی بل اور سرویئنگ اینڈ میپنگ ترمیمی بل بھی منظور کیا گیا ۔ ضمنی ایجنڈے کے تحت میڈیکل ٹرییونل بل 2019 اور اسلام آباد معذور افراد کے حقوق کا تحفظ بل 2020 بھی منظور کرلیا گیا ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ ترمیمی بل کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور ملیکہ بخاری کی پیش کردہ شقوں کو منظور کرلیا گیا جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سب سے پہلے ڈاکٹر بابر اعوان کی جانب سے اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کی تحریک پیش کی گئی ۔ تحریک کی حمایت میں 200 جبکہ مخالفت میں 190 ارکان نے ووٹ دیا ۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ایک گھنٹہ 20 منٹ تک معطل رہی ۔ اجلاس کورم پورا نہ ہونے کو ایک گھنٹہ سے زائد وقت ہونے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا ۔ خواجہ آصف نے عدالت جانے کا اعلان کر دیا جس پر مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو بھی ساتھ لیکر جائیں جنہیں عدالتیں بلا رہی ہیں ۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن سے ہم ہر بات پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں مگر کرپشن پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ اپوزیشن سے متعلق میرے خدشات درست ثابت ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈرز کا مفاد پاکستان کے مفاد کے برعکس ہے ۔ ایف اے ٹی ایف قانون سازی نہ ہوتی تو ملک بلیک لسٹ میں چلا جاتاپابندیاں لگ جاتیں روپے پر مزید دباءو بڑھتا تو مہنگائی میں اضافہ ہوجاتا خواتین اور بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام اور ایسے واقعات میں ملوث مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے کےلئے قانون سازی کریں گے اللہ کا شکر ہے کہ کورونا کی مشکل صورتحال سے باہر آئے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت مثالیں دے رہاہے کہ کووڈ سے نکلنا ہے تو پاکستان سے سیکھویہ کہہ رہے تھے مودی سے سیکھوایسے لگتا ہے کہ اسحق ڈار کے والد کی سائیکل کی دکان نہیں تھی بلکہ مے فیئر میں قیمتی گاڑیوں ( مرسڈیز) کا شوروم تھا، شریف فیملی کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ گوالمنڈی میں پلے بڑھے بلکہ لگتا ہے کہ یہ سب بکنگھم پیلس میں پلے بڑھے ہیں یہ پیسہ کدھر سے آیا اور جواب مانگو تو کہتے ہیں سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے ۔ عمران خان نے اپنی جماعت اور اتحادیوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے لئے بہت اہم دن تھا، سب نے ثابت کیا ہے کہ یہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ، موٹر وے پر ہونے والے سانحہ سے پورا ملک ہل گیا ہے اس کی روک تھام کیلئے ہم تین سطحوں پر کام کر رہے ہیں ۔ پولیسنگ میں تیزی لانی ہے، ریپ کے مجرموں کا ڈیٹا بیس بنانا ہے ۔ ملزم عابد پہلے بھی زیادتی کے کیس میں ملوث ہے اور ایک مرتبہ پھر اس نے زیادتی کی ۔ ایسے مجرموں کو عبرتناک سزا دینے کیلئے بل تیار کر رہے ہیں ، چند دنوں میں ایوان میں پیش کریں گے ۔ ایف اے ٹی ایف قانون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گرے لسٹ ہ میں وراثت میں ملی ہے، بلیک لسٹ میں آنے سے ہم پر پابندیاں لگتی ہیں ۔ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں تو روپے پر دباءو بڑھتا ہے، پٹرول، ڈیزل، بجلی اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگی تو غربت بڑھے گی ۔ اپوزیشن آخر میں اس بات پر پھنس گئی کہ منی لانڈرنگ کو نکال دیں ۔ اگر انہوں نے منی لانڈرنگ نہیں کی تو انہیں کس بات کا ڈر تھا ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال پاکستان سے 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے لہٰذا اگر ہم منی لانڈرنگ روک لیں تو ہ میں قرض لینا ہی نہ پڑے یہ بل ملک کے مستقبل کےلئے بہت ضروری تھا ۔ میں اگر اپنی جائیداد اور پیسے کا حساب دے سکتا ہوں تو یہ کیوں نہیں دے سکتے، مے فیئر لندن کا مہنگا ترین علاقہ ہے ۔ آصف علی زرداری نے ایک فلیٹ اپنے نام سے خریدا جس کا کیس چل رہا ہے ۔ سابق چیئرمین نیب نے ان کے کیسز بند کئے ۔ حدیبیہ پیپر ملز اوپن اینڈ شٹ کیس تھا ۔ سابق چیئرمین نیب نے ان کے اس کیس کو بھی بند کر دیا ۔ ان کی کرپشن کی بات کریں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ سیاسی انتقام ہے ۔ پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ چوری کیا ہوا پیسہ واپس آئے جبکہ یہ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان کا چوری کا پیسہ محفوظ رہے ۔ اپوزیشن سے ملک اور جمہوریت کی خاطر ہر طرح کا سمجھوتہ کرنے کےلئے تیار ہیں تاہم کرپشن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔