- الإعلانات -

خود کو فطرت کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت

جب سورج کی روشنی زمین پر پڑھتی ہے تو اس کا کچھ حصہ زمین جذب کرلیتی ہے اور اسے ہیٹ انرجی میں تبدیل کر دیتی ہے اس ہیٹ انرجی کا کچھ حصہ زمین فضا میں ریفلکٹ کر دیتی ہے فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین، ناءٹروجن کے آکسائیڈز، آبی بخارات وغیرہ جیسی گیسیں زمین کی ریفلیکٹ کردہ ہیٹ انرجی کا کچھ حصہ جذب کرلیتی ہیں جس سے فضا کا ٹمپریچر بڑھ جاتا ہے یہ گیسیں گرین ہاؤس گیسیں کہلاتی ہیں اور اس مظہر کو گرین ہاؤس ایفیکٹ کہتے ہیں اس نکتے کو ذرا دلچسپ انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں گرین ہاؤس شیشے یا شفاف پلاسٹک شیٹس کا بنا ہوا ایک بڑا کمرہ ہوتا ہے یہ اپنے اندراگائی گئی نباتات کو گرم ماحول مہیا کرتا ہے تاکہ سردیوں کے موسم میں ان کی بہتر نشوونما ہو سکے یہ زمین سے رفلیکٹ ہونے والی حرارت کو جذب کر لیتی ہے گرین ہاؤس کی دیواروں اور چھت میں جذب ہونے والی حرارت اس کے اندرونی ماحول کو گرم رکھتی ہے اوزون آکسیجن کی وہ شفاف تہہ ہے جو سورج کی خطرناک تابکار شعاعوں کو نہ صرف زمین کی طرف آنے سے روکتی ہے بلکہ زمین پر اس کے نقصان دہ اثرات کا خاتمہ بھی کرتی ہے ۔ اوزون کی تہہ کا 90 فیصد حصہ زمین کی سطح سے 15 تا 55 کلومیٹر اوپر بالائی فضا میں پایا جاتا ہے ۔ کلوروفلورو کاربنز جو ایئر کنڈیشنرز،ریفریجریٹرز،سپرے کے ڈبوں غیرہ میں استعمال ہوتے ہیں ان آلات سے رسنے کے بعد فضا میں داخل ہوجاتے ہیں اور اوزون کی تہہ میں پہنچ کر کلوروفلوروکاربنز کے ساتھ تعامل کرتے ہیں نتیجتا اوزون کی تہہ پتلی ہو جاتی ہے اس عمل کو اوزون ڈیپلیشن کہتے ہیں سورج سے آنےوالی الٹراوائلٹ شعاعیں اوزون کی پتلی تہہ سے گزر کر زمین پر پہنچتی ہیں اور زمین پر موجود جانداروں میں آنکھوں کے مسائل اور جلد کے کینسر جیسی کئی انتہائی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتی ہیں یہ الٹرا وائلٹ شعاعیں زمین کے اوسط درجہ حرارت میں بھی اضافہ کرتی ہیں انسانی سرگرمیوں مثلا ایندھن کے جلنے وغیرہ سے ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے اس سے گرین ہاؤس ایفیکٹ کا عمل تیز ہو جاتا ہے گرین ہاؤس ایفیکٹ ا اور اوزون ڈیپلیشن کی شرح بڑھنے سے زمین کا اوسط درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اسے گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برفانی علاقوں اور پہاڑوں پر برف کے پگھلنے کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے سمندر میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے یہی چیز نشیبی ساحلی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنتی ہے ۔ 1974 میں امریکی کیمیا دانوں نے اوزون کی تہہ کے تحفظ سے متعلق آگاہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو 75برسوں میں اوزون کی تہہ کا وجود ختم ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ خاتمے کی صورت میں نہ صرف دنیا بھر کا درجہ حرارت انتہائی حد تک بڑھ جائے گا بلکہ قطب جنوبی میں برف پگھلنے سے چند سالوں میں دنیا کے ساحلی شہر تباہ ہو جائیں گے ۔ دسمبر 1994 میں اقوام متحدہ نے 16 ستمبر کے دن کو اوزون کی حفاظت کے دن سے منسوب کیا جس کا مقصد اس تہہ کی اہمیت کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ زمین کی سطح سے تقریباً 19 کلو میٹر اوپر اور 48 کلو میٹر کی بلندی تک اوزون کی تہہ ہے ۔ جونقصان دہ بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتاہے ۔ اگر یہ تہہ نہ ہو یا کمزور ہو جائے،جیسا کہ بعض مقامات پر ہو چکی ہے ۔ اس سے جانداروں میں بہت سی بیماریاں اس شدت سے پھیل جائیں کہ کنٹرول نہ ہو سکیں ۔ اس کے علاوہ زمین کا درجہ حرارت ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے گا ۔ اوزون میں آکسیجن کے تین ایٹم ہوتے ہیں ، زمین کی سطح کے قریب اوزون ایک فضائی غلاف ہے ۔ اس غلاف یا پٹی کا کام ان شعاعوں سے بچانا ہے، جو انسان کے لیے نقصان دہ ہیں ۔ اسے چھلنی سمجھیں جو نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے روکتی ہے ۔ اوزون دراصل ایک قدرتی فلٹر ہے، جو سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹر وائلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتا ہے ۔ یہ نقصان دہ شعاعیں جلد کے کینسر کے علاوہ دھوپ سے پیدا ہونے والی جلن اور آنکھوں میں موتیا کے علاوہ پودوں اور فصلوں کو جلانے کا سبب بھی بنتی ہے کلوروفلور وکاربن یعنی سی ایف سی مرکبات کا استعمال عام طورپر انرجی سیور بلب، ڈیپ فریزرز، ریفریجریٹرز، کار، ایئر کنڈیشنر، فوم، ڈرائی کلین، آگ بجھانے والے آلات اور صفائی کےلئے استعمال ہونے والی اشیاء میں ہوتاہے ۔ بعض مصنوعی کھاد میں استعمال ہونےوالے مرکبات مثلاً ناءٹرس آکسائیڈ بھی اوزون کےلئے تباہ کن ہیں ۔ امریکی ماہرین ماحولیات نے1974ئ میں اوزون کی تہہ کے تحفظ سے متعلق آگاہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا اوزون کی تہہ کے خاتمے کی صورت میں نہ صرف دنیا بھر کا درجہ حرارت انتہائی حد تک بڑھ جائے گا ،بلکہ قطب جنوبی میں برف پگھلنے سے چند سالوں میں دنیا کے ساحلی شہر تباہ ہو جائیں گے ۔ صنعتی کارخانے زہریلی گیس (کاربن مونو آکسائیڈ) خارج کرتے ہیں ۔ یہ زہریلے اجزا اوزون کی گیس اوآکسیجن کے ساتھ مل کرکاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے اوزون کی تہہ میں ایک شگاف انٹارکٹیکا میں پیدا ہوچکا ہے، جس سے سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ (اب یہ سائنس دان کہتے ہیں تو ماننا پڑے گا ویسے شگاف اتنی دور جا کر انٹار کٹیکا میں پیدا ہوا حالانکہ قدرتی ماحول امریکہ و ایشیاءوالے خر اب کر رہے ہیں ) ۔ ہم دیکھ رہے ہیں موسموں میں شدت پہلے سے بڑھ گئی ہے ۔ اوزون کی تہہ کو بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری نے اوزون کی تہہ کو ختم کرنے والے مواد پر پابندی لگانے کےلئے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں سی ایف سی گیسز کے اشیاء میں استعمال کو ترک کر دیا گیا ہے ۔ موسمیات کے عالمی ادارہ کیک سینئر سائنٹفیک افسر گاءپر بریتھن کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ میں کمی اب زیادہ دیر تک برقرار رہے گی تاہم اس میں اوزون کی تہہ میں اضافہ کا بھی کوئی امکان نہیں ہے اور 2050ء تک اوزون کی تہہ میں کمی ہونے کا سلسلہ بند ہو جائے گا اور یہ تہہ اپنی اصل حالت میں بحال ہو جائے گی کیونکہ اس وقت تک فضا میں زیادہ ٹھنڈے اوراوزون کی تہہ کیلئے نقصان دہ مادے پیدا ہونا یا ان کے اخراج کا سلسلہ بند ہو جائے گا ۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی بار ایسے شواہد ملے ہیں کہ انٹارکٹیکاکے اوپر اوزون کی کم ہوتی ہوئی تہہ میں بہتری رونما ہوئی ہے ۔ سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے 15 سالوں کے مقابلے میں ستمبر 2016 ئ میں اوزون کا سوراخ 40 لاکھ مربع فٹ چھوٹا تھا ۔ یہ رقبہ تقریباً انڈیا کے رقبے کے برابر ہے ۔ اوزون کو تباہ کرنے والے کیمیائی مادوں کے استعمال میں طویل مدت سے کمی کے بعد ظاہر ہوئے ہیں ۔ اوزون کی تہہ کو مزید نقصان سے بچا نے کےلئے ۔ جنگلات کا بے دریغ کٹا;63; روکنا ہو گا، سڑکوں پر دھواں دینے والی گاڑیوں اور ویگنوں کے استعمال میں کمی کرنا ہو گی، کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کا مناسب بندوبست کرنے ساتھ ساتھ ائیرکنڈیشن پلانٹس کے بے تحاشہ استعمال کے خاتمے کےلئے سخت قانون بنا کر ان کا نفاذ کرنا ہو گا ۔ اوزون کی باریک سطح انسان کی قوتِ مدافعت کے نظام، جنگلی حیات اور زراعت کےلئے بھی نقصان دہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2000 کے مقابلے میں ستمبر 2015 میں اوزون کا سوراخ 40 لاکھ مربع فٹ چھوٹا تھا ۔ یہ رقبہ تقریباً انڈیا کے رقبے کے برابر ہے ۔ یہ عمل اوزون کا تباہ کرنے والے کیمیائی مادوں کے استعمال میں طویل مدت سے کمی کے بعد ظاہر ہوئے ہیں ۔ اس تحقیق سے یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ آتش فشاؤں سے بھی اس مسئلے میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ پروفیسر سولومون اور ان کے ساتھیوں نے 2000 سے 2015 کے درمیان کرہ ہوائی میں اوزون کا تفصیلی جائزہ لیا ہے 1980 کی دہائی کے وسط میں برطانوی سائنس دانوں نے پہلی بار کرہ ہوائی میں انٹارکٹا کے اوپر دس کلومیٹر بلندی پر اوزون کی تہہ میں ڈرامائی کمی ہوتے ہوئے دیکھا ۔ اوزون اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ سورج سے مضر الٹراوائلٹ تابکاری شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے ۔