- الإعلانات -

وکلا بارالیکشنوں میں آسانیاں پیدا کریں

حضرت علی ;230; سے پوچھا گیا کہ جانور اور انسان میں کیا فرق ہے تو آپ نے فرمایا جو صرف اپنے لئے سوچے وہ جانور ہے اور جو دوسروں کےلئے سوچے وہ انسان ہے ۔ انسان ہونے کے ناطے آءو سوچیں کہ وکلا بار کے الیکشنوں میں کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ وکلا بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ وکلا الیکشن پاکستان بھر کی تمام بارز میں ہر سال ہر حالت میں مقررہ وقت میں منعقد ہوتے ہیں ۔ جبکہ وکلا بار کونسلز کے الیکشن کا چراغ ہر پانچ سال بعد روشن کیا جاتا ہے ۔ وکلا الیکشن جمہوری نظام کی عکاسی کرتے ہیں مگر جمہوری ہے نہیں ۔ جمہوری اس لئے نہیں کہتے کہ الیکشن میں بار کا ہر وکیل امیدوار نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ وکلا کے الیکشن کی راہ میں پیسہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ اگر آپ پانج سو ہزار وکلا کو کھانا کھلا نہیں سکتے ہو، ہر کسی کی پورا سال ساتھی وکلا کی برتھ ڈے منا نہیں سکتے ہو ، وکلا کی غمی خوشی میں ان کے آبائی علاقوں میں جا نہیں سکتے ہو ، الیکشن کےلئے بار کے اخراجات جمع کرانے کی جسارت نہیں رکھتے ہو وکلا کے سالانہ ڈیوز جمع نہیں کرا سکتے ہو تو پھر آپ کسی بار کے عہدے دار بنے کا خواب بھی دیکھ نہیں سکتے ۔ اس لئے کہ موجودہ صورتحال میں الیکشن کے روز کھانے کی رقم امیدواروں سے وصول کی جاتی ہے ۔ اگر اتنی رقم امیدوار دینے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ الیکشن سے باہر ۔ کیا کبھی سوچا ہے ایسا کرنے سے کتنے وکلا کا الیکشن لڑنے کا راستہ بلاک کر دیا جاتا ہے ۔ ایسا کرنے کا بار کا کوئی قانون نہیں ہے ۔ یہ قانون ان کا بنایا ہوا ہے جو نہیں چاہتے کہ ہر کوئی الیکشن میں حصہ لے ۔ یہی کھانا آپ کے راستے میں حائل ہے ۔ اسے ختم کیا جانا ضروری ہے ۔ الیکشن کونارمل دن کی طرح بنائیں اور گزاریں ۔ ہر کوئی الیکشن کے دن عدالتوں میں بھی پیش ہو ۔ الیکشن کے روز ہونےوالے دیگر اخراجات بار کے فنڈ سے کئے جائیں ۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اگر کھانے نہیں ہو گا تو وکلا کا ٹرن آءوٹ بہت کم ہو جائے گا ۔ بھائی ہونے دو ۔ کیا کم ٹرن آءوٹ سے الیکشن کینسل ہو جاتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ یعنی یہ کہنا چاءتے ہیں وکلا کھانا کھانے آتے ہیں ووٹ ڈالنے نہیں آتے ۔ بھائی ایسا نہیں ہے وکلا کو بد نام نہ کیا جائے ۔ ہائی کورٹ کا صدارتی امیدوار کہا جاتا ہے کہ پچاس لاکھ لگاتا ہے ۔ اتنی بھاری رقم لگا کر کوئی جیتا ہے اور کوئی ہارتا ہے ۔ یہ تمام امیدوار بظاہر الیکشن وکلا کی خدمت کرنے کے جذبے سے لڑتے ہیں ۔ جبکہ ایسے جذبے والے وکلا بہت کم ہیں زیادہ وہ ہی ہیں جو بار الیکشن بزنس سمجھ کر الیکشن لڑتے ہیں ۔ کیا کچھ وکلا اپنی صدیوں کی بھوک نکالتے کےلئے الیکشن لڑتے ہیں یا ،ججز بنے کی سیڑھی پر چڑھنے کےلئے الیکشن لڑتے ہیں یا وکلا کی خدمت کرنے کےلئے ۔ بہرحال اس کےلئے بھاری قیمت ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسے چند وکلا کی خاطر الیکشن کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ہر وکیل الیکشن لڑنے کا سوچ نہیں سکتا ۔ یہ سچ ہے الیکشن لڑنا خالہ جی دا گھر نہیں ۔ لیکن پھر بھی ہر سال وکلا کی خدمت کرنے سے سرشار وکلا کی ایک خاصی تعداد الیکشن لڑتی دکھائی دیتی ہے ۔ کچھ تو ہے کہ وکلا اپنے اور اپنے خاندا ان کی خدمت کرنے کے بجائے وکلا کی خدمت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ کیوں بھائی ۔ قربان جاءوں ایسے وکلا پر جن کے اندر وکلا کی خدمت کرنے کا جذبہ پایا جاتا ہے کچھ ایسے وکلا بھی ہیں جو عہدوں پر نہیں رہتے تو بے چین نظر آتے ہیں کہ کب الیکشن ہونگے ۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کا ایک معیاد اپنے عہدے کا ختم نہیں ہوتا اور دوسرے الیکشن کےلئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ ا لیکشن جیتنے کے بعد یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میری و کالت کا برا حال ہو چکا ہے ۔ آئندہ میرے باپ کی بھی توبہ ۔ مگر الیکشن آتے ہی امیدوار کی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور منت سماجت اتنی کہ گدھے کو باپ بنا لیتے ہیں ۔ قربان جائیں ان وکلا گروپوں پر جو ایسے امیدوار کی سلیکشن کرتے ہیں جو پہلے سے عہدوں پر ہوتے ہیں اور پھر ان کے منہ میں چمچہ ڈالتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے ۔ یہ آپ بھی سمجھتے ہیں کہ ایساکیوں ہو رہا ہوتا ہے ۔ اس کے ذمہ دار میں اور آپ ہیں جو انہیں رد نہیں کرتے ۔ کچھ امیدواروں کو دیکھ کر لگتا ہے الیکشن واقع ہی بزنس ہے اور وہ آرام نہیں کرتے بار بار الیکشن لڑتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ اس ڈاکٹر جیسے لگتے ہیں جن کے مریض کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب اب مزید مجھے فزیو تھراپی کی ضرورت نہیں ہے لیکن ڈاکٹر صاحب ہر بار نئے تیل نئی لوشن کے ساتھ مالش کرنے آ جاتا ہے اور باز نہیں آتا ۔ ایسا ہی حال ہمارے چند وکلا کا ہے ۔ جو الیکشنوں میں کسی نہ کسی عہدے پر کھڑے رہتے ہیں ۔ انہی کے بارے میں کہا جاتا ہے کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے ۔ ہ میں بھی کچھ حیا اور شرم ہونی چائیے ان جیسوں کو سپورٹ نہ کریں ووٹ نہ دیں ۔ ان میں چند وکلا ایسے بھی ہونگے جو وکلا کی واقع ہی خدمت کر نے الیکشن لڑتے ہیں ۔ وکلا کے ویلفیئر کے کام کرتے ہیں ۔ ایسے وکلا اکو سالوں سال یاد رکھا جاتا ہے ۔ مگر ایسے وکلا کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ کچھ سفید پوش وکلا الیکشن لڑنے کا سوچتے ہیں مگر حالات دیکھ کر رک جاتے ہیں ۔ اگر کچھ رہنما اصول وکلا بنا لیں تو ہر کوئی باعزت الیکشن لڑ سکتا ہے ۔ نمبر ایک بار الیکشن جیتنے والے وکلا پر تا حیات ا اسی سیٹ پر لیکشن لڑنے پر پابندی لگا دی جائے ۔ نمبر دو جو وکلا الیکشن میں حصہ لیں گے ان پر جج بنے کی پابندی عائد کر دی جائے کہ ایسے وکلاکو جج نہیں بنایا جائے گا ۔ بعض وکلا اس لئے الیکشن لڑتے ہیں کہ جج بن کر جو ڈیشری کا حصہ بن جائیں گے کیونکہ ہمارے بہت سے ججوں کی تعداد اسی راستے سے جج بن چکے ہیں ۔ لہٰذا اس سیڑھی کو ہمیشہ ہمیشہ کےلئے اتار کر زمین پر رکھ دیا جائے ۔ نمبر چار ۔ وکلا سے الیکشن کے روز کھانا کھلانے کی مد میں رقم لینے پر پابندی لگائے جائے ۔ نمبر پانچ ہر جیتنے والا امیدوار لکھ کر دے کہ میں اس عرضے میں کوئی نیا کیس نہیں لونگا ۔ نمبر چھ جو امیدوار کسی وکیل کے سالانہ ڈیوز جمع کرائے گا اسے الیکشن سے آءوٹ کر دیا جائے ۔ اس وقت سب سے بڑا خطرہ دو نمبر جعلی وکلا سے ہے ۔ ان کا راستہ روکے جانا بہت ہی ضروری ہے ۔ اس کےلئے قانون پر سختی سے عملدرآامد کرایا جائے ۔ جو پکڑا جائے وہ کم از کم سات سال جیل میں گزارے اور جو وکیل اس کے کیس کی پیروی کرے اس کا لائنس دو سال کےلئے معطل کر دیا جائے ۔ جعلی وکیل کی جائداد بھی قبضے میں لے لی جا ئے ۔ جعلی وکلا میں اس وقت ملک بھر میں ساٹھ ہزار کے قریب اضافہ ہو چکا ہے ۔ اب دو نمبر وکلا میں فی میل وکلا بھی شامل ہو چکی ہیں ۔ الیکشن میں بار ایسوایشن امیدواروں سے زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار اور کم از کم ایک ہزار بطور اخراجات کی مد میں لئے جائیں ۔ باقی اخراجات بار کے فنڈ سے کئے جائیں ۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ایک بہت خوشگوار تبدیلی آ پ دیکھ سکیں گے ۔ اس کےلئے وکلا برادری کو چائیے کہ اس پر اپنی آواز اٹھائیں اس پر ڈسکس کریں ۔