- الإعلانات -

’412‘دن اور خاموش یو این او

یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہےں کہ انڈیا کے غیر قانونی قبضے والے کشمیر میں نہتے کشمیریوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لینا ایک معمول بن چکا ہے اور اس صورتحال پر افسوس ہی ظاہر کیا جا سکتا ہے ۔ اس حوالے سے چند ماہ قبل نہتے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کا جائزہ لیتے ایک بھارتی خاتون صحافی ’پرینکا دوبے‘ نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا تھا’’ جنوری 2020کی ٹھنڈی صبح تھی ۔ ہسپتال میں مریضوں کے مخصوص لباس میں ملبوس ایک 30 سالہ کشمیری شخص خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا ہوا ہے ۔ اس نے سر پر اونی ٹوپی اور ہاتھوں میں دستانے بھی پہن رکھے ہیں اور اس کے ہاتھوں میں ڈپریشن کے علاج کی پرچی ہے جس پر اس کا نام لکھا ہوا ہے ۔ تعارف کے بعد جب ان کا حال پوچھا تو انھوں نے آہستہ سے سر اٹھایا تو بڑی گہری آنکھیں اور غم میں ڈوبا ہوا اداس چہرہ نظر آیا ۔ میں نے آہستہ سے ایک بار پھر صحت کے بارے میں دریافت کیا ۔ اس بار اس نے کہا: کیا بتاؤں ;238; کہاں سے شروع کروں ;238; چلیے آپ کو کل رات کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ ابھی جو رات گزار کر ہسپتال آیا ہوں ۔ دس بجے بھارتی فوج ہمارے علاقے میں آئی اور محاصرہ کر لیا ۔ صبح کی نماز تک تمام مردوں کو کھڑا رکھا ۔ پھر وہی تفتیش، وہی تھپڑ ۔ ہمارا کوئی قصور نہیں تھا ۔ یہ دیکھو، میرا کیا حال ہو گیا ہے! میں ڈپریشن میں ہوں ۔ ;39;اچانک اسی وقت کچھ مریضوں نے ہسپتال میں داخل ہونے کے لیے کیمپس کا مرکزی دروازہ کھولا، اندر آنے والی سرد ہوا کے جھونکے سے ہم دونوں لرز گئے ۔ باہر برف پڑ رہی تھی ۔ یہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے ایک گھنٹہ پر واقع پلوامہ ضلعے کا ایک سرکاری ہسپتال ہے ۔ ہم ہسپتال کے چھوٹے سے ;39;دماغی صحت مرکز;39; میں موجود ہیں ۔ وادی میں جاری اس برفیلی سردی میں بھی پلوامہ کے اس چھوٹے سے ذہنی صحت مرکز میں کشمیری مریضوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہے ۔ صبح دس بجے سے شروع ہونے والے او پی ڈی میں نو بجے ہی تقریباً 50 پچاس سے زیادہ مریض قطار میں کھڑے ہیں ۔ میں اور راشد اب بھی مرکزی دروازے کے اندر بنچ پر بیٹھے ہیں ۔ اس نے بتایا: ;39; میں بجلی کا کام کرتا ہوں ۔ میں پلوامہ شہر میں رہتا ہوں ، لیکن میرے گاؤں کا نام وشبوک ہے ۔ جب سے آرٹیکل 370 کو ہٹایا گیا ہے، میرا کام بہت کم ہو گیا ہے ۔ یہاں رہنے والے سبھی لوگوں کا کام اور کاروبار ختم ہوا تو میرا کیونکر بچتا;238; پہلے دو ماہ تک تو کام مکمل طور پر بند رہا ۔ میری تو عمر بھی کم ہے، مجھے تو ڈپریشن نہیں ہونی چاہیے تھی! لیکن اب ڈاکٹر کے پاس آیا ہوں کیونکہ میں ڈپریشن میں ہوں ۔ سارا دن دل گھبراتا رہتا ہے ۔ ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور یاداشت بھی ختم ہونے لگی ہے ۔ ;39;پلوامہ ضلعی ہسپتال میں ماہر نفسیات ڈاکٹر کی او پی ڈی میں یہ ایک بہت مصروف اور یخ بستہ صبح ہے ۔ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم ہوئے پانچ ماہ گزر چکے ہیں ۔ دریں اثنا جہاں وادی میں کئی ہفتوں تک فون بند رہے وہیں انٹرنیٹ خدمات آج تک معطل ہیں ۔ جب تک ڈاکٹر مریضوں کو دیکھتے ہیں میں ان کے ساتھ گفتگو کا انتظار کرتی ہوں ۔ شدید ذہنی تناؤ جیسے اداسی، افسردگی، خوفناک خواب آنا، نیند نہ آنا، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی)، پسینہ آنا، یاد داشت جانا اور خود کو الگ تھلگ اور تنہا محسوس کرنے جیسی کیفیات سے متاثر مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی شکایات کا پلندہ کھول رہے ہیں ۔ ڈاکٹر ان کے مسائل کو ہمدردی اور صبر سے سن رہے ہیں ۔ اسی دوران وہ افسردگی کے عالم میں رونے والی ایک کشمیری خاتون کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہیں اور تسلی دیتے ہیں ۔ مذکورہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کشمیر سنہ 1989 سے ہی ذہنی صحت کی ہنگامی صورتحال سے گزر رہا ہے ۔ اس دوران جب بھی یہاں صورتحال خراب ہوئی ہے جیسے 2008، 2010 اور 2016 کے مظاہرے یا اب آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد، اس طرح کے ہر بڑے اتار چڑھاؤ کے دوران تشدد اور تناؤ میں اضافہ ہوا ہے ۔ لوگوں کی نفسیات پر آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ;39;ایک عام کشمیری نے اس طرح اچانک آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کو اپنی شناخت اور شہریت پر حملہ کے طور پر لیا ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ پیر کے دن ہی اس کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس دن میرے پاس او پی ڈی تھی لیکن اچانک ٹریفک کے ساتھ ساتھ فون کی سہولیات بند ہونے کی وجہ سے لوگ ہسپتال نہیں پہنچ سکے ۔ جو اسپتال میں تھے ان کے چہروں پر اداسی تھی ۔ پانچ اگست کے بعد یہاں کے لوگ بہت دنوں تک مسکرا نہیں سکے ۔ اس کے بعد میں نے جو سارے مریضوں کو ابتدائی طور پر دیکھا تھا انھوں نے ایسے سوالات اٹھائے جیسے ;39;آگے کیا ہوگا، ہمارا مستقبل کیا ہے;23839; ہر ایک گہرے صدمے میں تھا ۔ ;39;اس کے بعد رفتہ رفتہ جب ٹریفک اور دیگر پابندیوں میں معمولی نرمی کی گئی اور مریضوں نے آنا شروع کیا تواو پی ڈی میں ہی آنے والے مریضوں کی تعداد میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہو گیا ۔ انھوں نے کہا: ;39;پہلے جہاں 70 سے 100 مریض آتے تھے اب ان کی تعداد 200 ہو گئی ہے ۔ یہ تقریباً 150 فیصد کا اضافہ ہے ۔ ابتدائی طور پر اس ہسپتال میں ایک کوآپریٹو دکان کے علاوہ دوا کی تقریباً ساری دکانیں بھی آٹھ ہفتوں تک بند رہیں ۔ اس کے بعد جب مریضوں نے آنا شروع کیا تو وہ مستقبل کا خطرہ محسوس کرتے ہیں ۔ ان میں اضطراب یا افسردگی یا ڈپریشن سب سے زیادہ ہے ۔ ‘‘ ایسے میں بھارت کے زیر قبضہ کشمیر یوں کی حالت زار کا اندازہ ہر کوئی بخوبی کر سکتا ہے ۔ اس معاملے کا یہ پہلو اور بھی اہم ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کا یہ دل خراش سلسلہ رکا نہےں بلکہ 412روز گزرنے کے باوجود بجائے کسی بھی قسم کی کمی آنے کے یہ سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ ایسے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس کے موقع پر مظلوم کشمیری عالمی امن کے ٹھیکے داروں کی جانب دیکھتے ہوئے با زبان خاموشی پوچھتے ہےں کہ

کب بدلیں دن ہمارے

کب راس آئے گا زمانہ