- الإعلانات -

راج ناتھ کی پاکستان کو دھمکیاں

گزشتہ چار ماہ سے وزیر اعظم مودی نے ایک رٹ لگائے رکھی کہ بھارت کی ایک انچ زمین بھی کسی کے قبضے میں نہیں ہے لیکن بھارتی اپوزیشن پارٹیوں اور عوام نے ان کی بات پر یقین نہیں کیا ۔ کیونکہ انٹرنیٹ پر آنےوالے نقشوں نے تمام حقیقت کھول کر بتادی ۔ اب بھارتی حکومت نے پہلی بار یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ لداخ میں چین، بھارت کے 38 ہزار کلو میٹر مربع رقبے پر قابض ہے ۔ بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمان میں بھارت اور چین کے درمیان موجودہ کشیدگی کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج تمام طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے تیار ہے اور ملک کے مفاد کےلئے جو بھی بڑے اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی بھارت اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔ پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں انہوں نے یہ بات بھی تسلیم کی کہ چین بھارت کے 38 ہزار مربع کلو میٹر زمین پر غیر قانونی طور پر قابض ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ 1963 میں ایک سرحدی معاہدے کے تحت پاکستا ن نے بھی غیر قانونی طور پر اپنے زیر انتظام کشمیر کا 5180 مربع کلو میٹر کا علاقہ چین کو سونپ دیا تھا ۔ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے بھی 90 ہزار مربع کلومیٹر پر چین اپنا دعوی کرتا ہے ۔ بھارتی وزیر دفاع نے چین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرحد سے متعلق بھارت اور چین کے درمیان اختلافات ہیں لیکن دونوں کے درمیان لائن آف کنٹرول کا ایک معاہدہ بھی ہے جس پر بھارت سختی عمل کرتا ہے جبکہ چین اس کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے لیکن چین کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ لداخ کے حوالے سے بھارت کو ایک سخت چیلنج کا سامنا ضرور ہے تاہم اگر ضرورت پڑی تو بھارت کسی بڑے اور سخت قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریگا ۔ ہمارے فوجیوں کے حوصلے پوری طرح بلند ہیں اور بھارتی فوج کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کےلئے بھی پوری طرح تیار ہے ۔ ہم اپنے ملک کا سر جھکنے نہیں دیں گے ۔ ہمارے جوان چینی افواج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں ۔ لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان اس برس اپریل کے ماہ میں تنازعہ شروع ہوا تھا اور تب سے سفارتی اور فوجی سطح پر کئی دور کی بات چیت کے بعد بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے ۔ اس ماہ کے اوائل میں فریقین نے دونوں جانب سے ہوا میں فائرنگ کا بھی اعتراف کیا تھا ۔ دونوں جانب سے 100 سے دو سو راوَنڈ ہوا میں فائرنگ ہوئی جس کا مقصد ایک دوسرے کو مرعوب کرنا تھا ۔ اس سے قبل 15 جون کی درمیانی شب وادی گلوان میں دونوں فوجوں کے درمیان تصادم میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے ۔ سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے جب یہ سوال پوچھا کہ کہ وادی گلوان تو ماضی میں کبھی بھی متناعہ علاقہ نہیں تھا اور بھارتی فوجی وہاں پٹرولنگ کیا کرتے تھے ۔ آخر وہاں ہمارے فوجیوں کو اب پیٹرولنگ کی اجازت کیوں نہیں ہے;238; اسی طرح بھارتی فوج پیونگانگ جھیل میں فنگر آٹھ تک گشت کرتی تھی تو پھر اب اسے فنگر چار تک محدود کیوں کر دیا گیا ہے;238;اس پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کوئی واضح بات کرنے کے بجائے مبہم سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایل اے سی پر لڑائی کی اہم وجہ یہی ہے ۔ پیٹرولنگ کا روایتی طریقہ کار بالکل واضح ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت بھارتی فوجیوں کو پیٹرولنگ سے نہیں روک سکتی ۔ ہمارے فوجیوں نے اسی کےلئے تو قربانیاں دی ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ دوسری طرف ایک ایسے وقت جب لداخ میں چین اور بھارت کے درمیان زبردست کشیدگی کا ماحول ہے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے چین اور پاکستان کی جانب سے شمال اور مغربی سرحدوں پر بھارت کےخلاف مربوط کارروائی کے خطرے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے ۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ بھارتی مسلح افواج اس مشترکہ خطرے سے بھی نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ایسی صورت میں اسلام آباد کو زبردست نقصان سے دو چار ہونا پڑ سکتا ہے ۔ جنرل بپن راوَت کا کہنا تھا، ’’پاکستان اور چین میں اقتصادی تعاون، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی، معاشی اور مسلسل سفارتی تعاون کی وجہ سے اعلی سطح کی تیاریاں بھی ہیں ۔ مسلح افواج نے دونوں محاذوں کےلئے تیاری کر رکھی ہے جس میں پہلے محاذ کو فوقیت حاصل ہے اور دیگر محاذ کی اہمیت درجہ دوئم کی ہے ۔ اگر ہماری شمالی سرحد پر کوئی خطرہ پیدا ہوتا ہے تو پاکستان اس کا فائدہ اٹھا کر مغربی سرحد پر کچھ پریشانی پیدا کر سکتا ہے اور اسی لیے ہم نے خاطر خواہ احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں تاکہ پاکستان کی جانب سے ایسی کسی بھی کارروائی کی ناکامی کو یقینی بنایا جا سکے، اور وہ اپنے مشن میں کامیاب بھی نہیں ہو سکتے ۔ درحقیقت اگر انہوں نے ایسی کسی غلط کارروائی کی کوشش کی تو انہیں بھاری نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑ سکتا ہے ۔ چین کا کہنا تھا کہ سرحد پر کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کےلئے جو کوششیں ہوتی رہی ہیں ، بھارت کے اقدامات اس کے بالکل منافی ہیں اور چین اس کا سخت مخالف ہے ۔ ’’بھارت اپنے سرحدی فوجیوں کو قابو میں رکھے، ایل اے سی پر اشتعال انگیزی اور خلاف ورزیوں سے باز آجائے اور ان علاقوں سے اپنے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلالے جہاں انھوں نے دراندازی کی ہے ۔ انہیں ایسی کسی بھی حرکت سے باز رہنا چاہیے جس سے حالات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہو ۔ لیکن بھارت نے اس کے رد عمل میں چین پر اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی فوج نے اس علاقے میں صورت حال کو بدلنے کی کوشش کی جس کا بھارتی فوج کو پہلے سے پتہ چل گیا تھا اور بھارتی فوج نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا ۔