- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام،عالمی برادری نوٹس لے

اس اعتراف کے بعد کہ دو ماہ قبل جولائی میں کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری کے جو تین نوجوان اچانک لاپتا ہوئے تھے انہیں بھارتی سپاہیوں نے ضلع شوپیاں میں ایک ;200;پریشن کے دوران ہلاک کر دیا تھا،پاکستان نے ان نوجوان کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی بین الاقومی نگرانی میں عدالتی تحقیقات کا بر وقت اور بجامطالبہ کیا ہے،کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کو جوکالے قوانین کے ذریعے اختیارات سونپے گئے ہیں وہ قابل مذمت ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی فوج کا بیان اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ قابض فورسز مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنگی جرائم میں ملوث ہیں ۔ تین کشمیری نوجوان امتیاز احمد، محمد ابرار اور ابرار احمد راجوری سے شوپیاں سیب کے باغات میں مزدوری کرنے ;200;ئے تھے، لیکن اسی شام ہی انہیں ایک نام نہاد ;200;پریشن میں قتل کردیا گیا ۔ بھارتی قابض افواج نے نوجوانوں کے بے رحمانہ قتل پر پردہ ڈالنے کے لیے انہیں نامعلوم دہشت گردقرار دیا تھا اور اپنے جرائم کو مزید چھپانے کے لیے ان کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کے بجائے غیر ملکی دہشت گردوں کے قبرستان میں دفن کردی تھیں ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ان نوجوانوں کے قتل عام کے بعد بھارتی قابض افواج نے خود ان کے ماورائے عدالت قتل کا اعتراف کیا ہے جو بھارتی قابض افواج کی ریاستی دہشت گردی کا خاصہ رہا ہے‘ ۔ اگرچہ یہ پہلا موقع نہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ناجائز قابض غاصب بھارتی افواج نے جعلی مقابلے میں بے گناہ نوجوان کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ کی ہو، گزشتہ سال 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کے بعد نہتے کشمیریوں کے خلاف مظالم کو نئی سطح پر لے جایا گیا ہے اور 300 سے زائد کشمیریوں کو، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں ، گزشتہ ایک سال کے دوران جعلی مقابلوں اور مقبوضہ کشمیر میں تلاشی و محاصرے کی کارروائیوں کے دوران ماورائے عدالت قتل کیا جا چکاہے ۔ بھارتی اعتراف کے بعد پاکستان کے اس مطالبے میں وزن ہے کہ تینوں نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کی بین الاقوامی نگرانی میں شفاف عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور عالمی برادری اس واقع کا نوٹس لے جو بھارتیہ جنتا پارٹی اور ;200;ر ایس ایس کی مسلمانوں بارے نسل کشی کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے اور کشمیری عوام کیخلاف جاری جارحیت پر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی سکیورٹی فورسسز کو کئی کالے قوانین کے تحت کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔ ان خصوصی قوانین کے تحت بھارتی فوج کو جموں و کشمیر میں ;200;زادی کے لیے چلائی جا رہی مسلح جدوجہد کو دبانے کےلئے بے پناہ اختیارات حاصل ہیں ۔ 05 اگست کو ریاست کی خصوصی خودمختار حیثیت ختم کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے جبری لاک ڈاوَن نافذ کر کے اضافی دستے تعینات کر دیئے تھے ۔ ہزاروں کشمیریوں کو بغیر الزام کے حراست میں لیا گیا جن میں سابق وزرائے اعلیٰ، سیاسی رہنما،مودی حکومت سے اختلاف کرنے والے کارکن، وکیل اور صحافی شامل تھے ۔ انٹرنیٹ اور فون سروس بند کر دی گئی ۔ مودی حکومت نے کشمیری عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کےلئے یہ اقدامات ضروری تھے مگر بعدا ازاں لوگوں تشددکے مستند اور سنجیدہ الزامات سامنے ;200;ئے ۔ اس معاملے کو پاکستان نے دنیا بھر میں اجاگر کیا اور بین الالقوامی برادی پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے ،اگرچہ دنیا کی بے حسی نمایاں رہی تاہم پاکستان کو یہ ضرور کامیابی ملی کہ امریکی کانگریس نے اس ایشو پردو سماعتیں کیں ۔ کئی قانون سازوں نے کشمیر میں ہندوستان کے اقدام بشمول سیاسی حراستوں اور ذراءع مواصلات کی بندش پر تنقید کی اور ;200;سام میں شہریتی تصدیقی عمل سمیت دیگر زیادتیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ۔ دوسری طرف پاکستان کو یہ کامیابی بھی ملی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کئی عشروں بعد پہلی دفعہ جموں و کشمیر پر ایک بند کمرہ اجلاس منعقد کیا ۔ اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازعہ میں ثالثی کرنے اور اسے حل کرنے کی پیشکش کی ۔ یورپی یونین نے بھی اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں جموں و کشمیر کی صورت حال کو اجاگر کیا اور ہندوستان سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیاں اٹھائے اور متاثرہ ;200;بادی کے حقوق اور بنیادی ;200;زادیوں کا احترام کرے ۔ یورپی پارلیمان نے کشمیر پر ایک خصوصی بحث بھی کی جس میں ہندوستان سے تقاضا کیا گیا کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی عالمی ذمہ داریوں کا احساس کرے ۔ کئی ارکان ہندوستان میں مختلف واقعات پر پریشانی کا اظہار کرتے رہے ۔ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق مشل بیشلٹ نے ستمبر میں جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ۔ یقینایہ سب پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا ضروری ہے ۔ مقبوضہ وادی میں بھارت کی ہٹ دھرمی جاری ہے ۔ کشمیر کی آبادی کا تناسب بگاڑا جا رہا ہے،اور غیر کشمیریوں کو تیزی کے ساتھ کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے ۔ بھارت پچھلے 73برس سے کشمیر میں یواین او کی قرادادوں اورانسانیت کی دھجیاں اڑا رہا ہے، یہ سب دنیا کی نظروں سے پوشیدہ نہیں لیکن نام نہاد مہذب حکومتیں اور ان کے عالمی ادارے معاشی مفاد کی خاطر فیصلہ کن بات کرنے کو تیار نہیں ۔ ظلم اور بربریت کے اس ساے سلسلے کا بوجھ یورپ اور مغربی ممالک پر ہے،وہی اس سارے قضیئے کے ذمہ دار ہیں خاص کر یہ تنازعہ برطانیہ کا پیدا کردہ ہے ۔ حالیہ واقعہ ماورائے عدالت تشدد کی بد ترین مثال ہے ۔ بھارت کے اس عمل کوروکنا ہو گا ورنہ کشمیر کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا تو پورا خطہ تباہی کا شکار ہوگا ۔ عالمی برادری اپنی مجرمانہ چشم پوشی سے نکلے اور زمینی حقائق کا ادارک کرے،آخر کب تک صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتا رہے ۔

سیاسی عدم استحکام ملک کے مفاد میں نہیں

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی جو طویل عرصہ سے پلان کی جا رہی تھی ،اپوزیشن کے باہمی اختلافات اورتضادات کی وجہ سے منعقد نہیں ہوپا رہی تھی،منی لانڈرنگ کے قوانین کی اسمبلی سے منظوری کے بعدفوری مل بیٹھنے پر مجبور ہوئیں ہیں ۔ اس اے پی سی کا ایجنڈاعوام پر واضح ہو چکا ہے کہ وہ احتساب کے عمل سے خاءف ہیں یہی خوف ہی ان کا مشترکہ دکھ ہے ۔ اپوزیشن کے اے پی سی کے نتاءج اور عوامی سطح پر اسکے کیا اثرات مرتب ہونگے ابھی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ بات طے ہے کہ اپوزیشن کی بڑی پارٹیوں میں مفادات کی جو خلیج ہے اسے ان دونوں کے لئے عبور کرنا ممکن نہیں رہا ہے ۔ مشترکہ سیاسی مفادات کے باوجود ان کے ذاتی مفادات اس میں بڑی رکاوٹ بن کرسامنے آتے ہیں اور اب کی بار بھی ایسا ہی ہوگا ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو ملکی معاشی اور سیاسی حالات اس کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے ۔ کورونا کرائسسز کے بعد بڑی مشکل سے ملکی معیشت پڑی پر چڑھتی دکھائی دیتی ہے ۔ خدانخواستہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بھاری نصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کی ساری ذمہ داری اپوزیشن پر ہی ڈالی جائے گی ۔ ویسے بھی یہ ساری مشق ابھی بے وقت کی راگنی ہے،اس لئے کسی بھی قسم کے ایڈونچرازم سے گریز کیا جائے ،یہی ملک کے لئے بہتر ہے ۔

پاک فوج کے شہداء کی قربانیوں کو سلام

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ;200;ئی ایس پی ;200;ر کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے اسپیل جا گاؤں کے قریب خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے ;200;پریشن کے دوران 2 سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ہے ۔ دہشت گردوں نے گزشتہ کچھ مہینوں سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر حملے کیے جارہے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق مارچ سے اب تک افسران سمیت 40 اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ 109 عام افراد کو موت کی نیند سلایا گیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک دشمن عناصر اپنے ماسٹرمائنڈ کے اشاروں پر علاقے کا امن تباہ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ بات تالیف قلب کے لئے حوصلہ افزاء ہے کہ افواج پاکستان ان ملک دشمنوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن کر کھڑی رہے گی اور انہیں اپنے مذموم عزائم دوبارہ موقع نہیں دے گی،یہ شہادتیں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ ان شہدا کے درجات بلند کرے ۔