- الإعلانات -

اپنے ہی گرا تے ہیں نشیمن پر بجلیاں

مہنگائی بیکاری بے روزگاری اوپر سے کورونا وبا نے گزشتہ سات آٹھ مہینوں میں وہ منظر پیش کئے ہیں کہ جیتے جی موت کا رقص برپا تھا سینکڑوں نہیں ہزاروں اپنے پرائے اس وبا کی بھینٹ چڑھے اور اس سے بھی زیادہ تعداد میں وبا سے لڑ تے ہوئے ہسپتالوں اور طبی کیمپوں کے مکین ہوئے خدا کا شکر ہے کہ ہم دیگر ممالک کی نسبت بڑی حد تک محفوظ رہے کورونا جاتے جاتے ملک کو طوفانی بارشوں کے سپر دکر گیا جس نے شمالی علاقہ جات، جنوبی پنجاب ،اندرون سندھ اور خاص طور پر کراچی کو کچھ اس طرح سے ٹارگٹ کیا کہ روشنیوں کا شہر پوش علاقوں سے لیکر جھو نپڑ پٹی تک نہروں اور دریاءوں میں بدل گیا تین ہزار سات سو اسی کلو میٹر رقبہ پر اڑہائی تین کروڑ لوگو ں کا یہ شہر کبھی روشنیوں کا شہر ہوا کر تا تھا امن و امان صفائی ستھرائی نکا سی آب کیلئے سو ڈیڑھ سو چھوٹے بڑے نالے تھے لیکن عام آدمی کی کمزوریوں مجبوریوں اور ضرورتوں نے گزشتہ تین چار دہائیوں سے دو بڑی جماعتوں کو اقتدار میں رکھ کر چور چوکیدار کو بھی مدعو کر لیا جرائم بھتہ خوری آگ لگانے جلانے گٹروں میں پھینکنے بوڑی بند کر نے قبضے کرانے سرکاری فنڈز لُوٹنے ہڑپ کر نے لانچوں ہوائی جہازوں سے ریا ستی حکومتی وسائل کو بیرون ملک بھجوانے عام آدمی کی فلاح و بہبو د اور تعمیر و ترقی کی بجائے ذاتی ترقی جیسے اصولوں پر عمل کر تے ہوئے اس شہر کو جو دنیا بھر میں آبادی کی لحاظ سے ساتواں اور گندگی کے لحاظ سے پانچواں شہر بنا کر جو خدمت کی سو کی لیکن خالیہ بارشوں میں غریب اور امیر کی ایک ساتھ بڑے پیمانے میں تباہی نے گڈ گورننس اور عوام سے محبت کے وہ تمام پول کھول دئیے کہ جنہیں دیکھ سن کر ہر باضمیر شحض ماتم کناں ہے غریبوں کی جھونپڑیاں بہہ گئیں تو امیروں کے گھروں بازاروں گلیوں میں چھ چھ فٹ پانی نے انہیں بھی نہیں بخشا لاکھوں لوگو ں کی عمر بڑھ کی کمائی گز رگئی اور دوران بڑی سیا سی جماعتوں کے لیڈروں کا بیچارے عوام کا ساتھ رویہ بذات خود افسوسناک رہا کراچی میں صو بائی حکومت سے لیکر مقامی حکومتوں تک اور بلدیاتی اداروں سے لیکر عوامی سہو لیات کے درجنوں سرکاری اداروں تک کے ہزاروں افسرواہلکار جو بھاری تنخواہیں اور مراعات کیساتھ شاہانہ زندگیاں گزار رہے ہیں غائب تھے عوام کی مدد کو فوج رینجر چھیبا ایدھی الخدمت اور ایسے دیگر اداروں نے کام کیا خیر اللہ اللہ کر کے سیلابی پانی تو اُتر گیا لیکن بہت سے خوبصورت چہرے اور بڑے نام بھی عوام کے دلوں سے اُتر گئے بارشی پانی کے بعد شہری علاقوں میں کیچڑ کچرا ور گندگی ابھی بڑا عذاب ہے جس نے آبادیوں میں تعفن پھیلا رکھا ہے مکھی مچھر اور حشرات الارض بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں آفت کے دنوں میں بھی بجلی کمپنی نے عوام سے بے وفائی کی جو آفت کے بعد بھی جاری ہے اور زندگی بڑی تیز رفتار ہو گئی ہے جینا اب اتنا آسان نہیں رہا جتنا کہ تین چار د ہائیاں پہلے تھا بس ہر طرف دوڑلگی ہوئی ہے نت نئی ایجادات اور فکر معاش نے انسان کو مشین بنا دیا اور اس مشینی زندگی نے دیگر بہت سی خوبصورتیوں کیساتھ ساتھ دوستوں کی محفلیں قہقہے گپ شپ ملنا ملانا سبھی کچھ عام آدمی سے دور کر دیا ہے ب گیس کے مسئلے نے سرد موسم سے پہلے ہی سر اُٹھا کر نظام بجلی کو بھی ساتھ جکڑ لیا ہے تجارتی صنعتی اداروں سے لیکر عام آدمی تک لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہے اس سے پہلے کے مصیبت زدہ عوام بپھر کر سڑکوں پر آئےں او ر جوتم بیزار ہو سرکاری و غیر سر کاری اداروں اور محکموں کو باہر نکلنا ہو گا اور ہنگامی بنیادوں پر کام کر نا ہو گاوزیراعظم سے لیکر سپہ سالار تک اور شہباز شریف لیکر دوسرے سیاستدانوں تک بر بادی کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور اربوں روپے کے ترقیاتی پراجیکٹس کا بھی اعلا ن ہو چکا ہے کراچی کو مالی امداد سے بڑھ کر صاف ہاتھوں کی ضرورت ہے جو ان رقوم کو ایمانداری دیانتداری اور شفافیت کچھ اسطرح سے استعمال کریں کہ تباہی اور بر بادی کے مناظر خوبصورتی میں بدل کر کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنا سکے چھوٹے سے لیکر بڑے عوامی پراجیکٹ تک اگر لازم کر لیا جائے کہ منصوبے کی تختی پر انجینئر سے لیکر ٹھیکیدار تک اور منصوبے کے نگران افسر سے لیکر ذمہ دار وزیر تک کے نام اور کام کا تخمینہ درج ہونے کے ساتھ اس منصوبے کی مدت استعمال بھی درج ہو جائے اور ساتھ یہ شرط بھی درج ہو کہ اگر منصوبہ مقررہ مدت سے پہلے خراب ہوا تو ان سب کی جیبوں سے رقم نکلوانے کیساتھ ساتھ انہیں دوبارہ اپنی جیبوں سے منصوبہ بھی مکمل کر نا پڑے گا اور جیل کی ہوا کھانابھی لازمی ہو گی اگر انگریزی دور کے بنے ہوئے پل اور مغلیہ دور کی عمارتیں اپنی مدت پوری کر نے کے باوجود آج بھی صحیح سلامت کام کر رہی ہیں تو موجودہ ترقی یافتہ دور میں یہ منصوبے وقت سے پہلے جواب کیوں دے جاتے ہیں یہ ایک سوال ہے جسکا جواب حکمران ہی دے سکتے ہیں کراچی سے میرا پیار لڑکپن کے دور سے ہے جب کراچی اپنی خوبصورتیوں کی وجہ سے واقعی کراچی تھا پیار کر نے والے ہمدرد لوگ مہمانوں کو ہا تھوں پر لیتے آنکھوں پر بٹھاتے تھے کراچی سے وابستہ یہ حسین یادیں آج بھی میرا سرمایہ ہےں کراچی والوں کو اب کی بار پرانی روایات کو توڑتے ہوئے کراچی کی فلاح و بہبود کیلئے پرانے چہروں کی بجائے اپنے گلی محلوں سے پڑھے لکھے محنتی عوام دوست لوگوں کا انتخاب کر کے بھی دیکھ لینا چاہیے شاید اس سے ہی کراچی کے مسائل حل ہو سکیں ۔