- الإعلانات -

سید مودودی کی تصانیف کے مختلف زبانوں میں تراجم

اردو زبان میں قرآن حکیم کے متعدد تراجم ہو چکے ہیں لیکن مولانا مودودی کا ترجمہ ان میں منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ ’’اردو زبان میں قرآن مجید کے جتنے ترجمے ہو چکے ہیں ان کے بعد اب کسی شخص کیلئے محض برکت وسعادت کی خاطر ایک نیا ترجمہ شاءع کرنا وقت اورمحنت کا کوئی صحیح مصرف نہیں ہے ۔ اس راہ میں مزید کوشش اگر معقول ہوسکتی ہے تو صرف اسکی صورت میں جبکہ آدمی طالبین قرآن کی کئی ایسی ضرورت کو پورا کرے جو پچھلے تراجم سے پوری نہ ہوتی ہو ۔ ‘‘اس کے بعد انہوں نے اپنے ترجمے کا اسلوب یہ بیان کیا ہے کہ ترجمے کو پڑھتے ہوئے ایک عام ناظر قرآن کا مفہوم ومدعا بالکل صاف صاف سمجھتا چلا جائے اور اس سے وہی اثر قبول کرے جو قرآن اس پہ ڈالتا چاہتا ہے ۔ مولانا کی دیگر تصانیف کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے ۔ مولانا 25 ستمبر 1903 کو اورنگ آباد ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔ صحافی زندگی کا آغازاٹھارہ برس کی عمر میں جمعیت علمائے ہند کے اخبار الجمعیہ کی ایڈیٹری سے کیا اور اسی دور میں الجہاد فی الاسلام لکھ کر علمی دنیا سے متعارف ہوئے ۔ سید مودودی نے ابتدائی دور کے پورے گیارہ برس اپنے والد کی نگرانی میں رہے اور گھر پر تعلیم حاصل کی ۔ بعد ازاں انہیں مدرسہ فرقانیہ اورنگ آباد کی آٹھویں جماعت میں براہِ را ست داخل کیا گیا ۔ 1914ء میں انہوں نے مولوی کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے ۔ اس وقت ان کے والدین اورنگ آباد سے حیدرآباد منتقل ہو گئے جہاں سید مودودی کو مولوی عالم کی جماعت میں داخل کرایا گیا ۔ اس زمانے میں دارالعلوم کے صدر مولانا حمید الدین فراہی تھے جو مولانا امین احسن اصلاحی کے بھی استاد تھے ۔ تاہم والد کے انتقال کے باعث وہ دار العلوم میں صرف چھ ماہ ہی تعلیم حاصل کر سکے ۔ ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور متعدد اخبارات میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا جن میں اخبار;34;مدینہ;34; بجنور (اترپردیش)، ;34;تاج;34; جبل پور اور جمعیت علمائے ہند کا روزنامہ ;34;الجمعیت;34; دہلی صوصی طور پر شامل ہیں ۔ 1925ء میں جب جمعیت علمائے ہند نے کانگریس کے ساتھ اشتراک کا فیصلہ کیا تو سید مودودی نے بطور احتجاج اخبار;34;الجمعی;34; کی ادارت چھوڑ دی ۔ جس زمانے میں سید مودودی;34;الجمعی;34; کے مدیر تھے ۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے ۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد نفرت، دشمنی اور تعصب پر تھی اور اس نے اپنی کتاب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی جس پر مسلمان نوجوان علم دین نے غیرت ایمانی میں آکر سوامی شردھانند کو قتل کر دیا ۔ اس پر پورے ہندوستان میں ایک شور برپا ہو گیا ۔ ہندو دین اسلام پر حملے کرنے لگے اور علانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے ۔ اس پر سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی ۔ اس وقت سید مودودی کی عمر صرف 24 برس تھی ۔ اس کتاب کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: ’’اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے‘‘;34;الجمعی;34; کی ادارت اور اخبار نویسی چھوڑکر سید مودودی حیدرآباد دکن چلے گئے ۔ جہاں اپنے قیام کے زمانے میں انہوں نے مختلف کتابیں لکھیں اور 1932ء میں حیدرآباد سے رسالہ;34;ترجمان القرآن;34; جاری کیا ۔ 1935ء میں آپ نے ;34;پردہ;34; کے نام سے اسلامی پردے کی حمایت میں ایک کتاب تحریر کی جس کا مقصد یورپ سے مرعوب ہوکر اسلامی پردے پر کیے جانے والے اعتراضا

ت کا جواب دینا تھا ۔ 1938ء میں کانگریس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ بہت سے مسلمان اور خود علمائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ مل گئی ۔ کانگریس کے اس نظریہ کو ;34;متحدہ قومیت;34; یا ;34;ایک قومی نظریہ;34; کانام دیا جاتا تھا ۔ سید مودودی نے اس نظریے کے خلاف بہت سے مضامین لکھے جو کتابوں کی صورت میں ;34;مسئلہ قومیت;34; اور ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش;34; حصہ اول و دوم کے ناموں سے شاءع ہوئی ۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سید مودودی کی تحریرات سے بے حد متاثر تھے ۔ بقول میاں محمد شفیع (مدیر ہفت روزہ اقدام)، علامہ موصوف ’’ترجمان القرآن‘‘ کے اْن مضامین کو پڑھوا کر سنتے تھے ۔ اْن (مضامین) ہی سے متاثر ہوکر علامہ اقبال نے مولانا مودودی کو حیدرآباد دکن چھوڑ کر پنجاب آنے کی دعوت دی اور اسی دعوت پر مولانا 1938ء میں پنجاب آئے ۔ میاں محمد شفیع صاحب اپنے ہفت روزہ اقدام میں لکھتے ہیں کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی تو درحقیقت نیشنلسٹ مسلمانوں کی ضد تھے اور میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ میں نے حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ کی زبان سے کم و بیش اس قسم کے الفاظ سنے تھے کہ ’’مودودی ان کانگریسی مسلمانوں کی خبر لیں گے‘‘ ۔ جہاں علامہ اقبال بالکل واضح طور سے آزاد (مولانا آزاد) اور مدنی (مولانا حسین احمد مدنی) کے نقاد تھے وہاں وہ مولانا کا ’’ترجمان القرآن‘‘ جستہ جستہ مقامات سے پڑھواکر سننے کے عادی تھے ۔ اور اس امر کے متعلق تو میں سو فیصدی ذمہ داری سے بات کہہ سکتا ہوں علامہ نے مولانا مودودی کو ایک خط کے ذریعے حیدرآباد دکن کے بجائے پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی دعوت دی تھی ۔ بلکہ وہ خط انہوں نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا ۔ مولانا مودودی نے ترجمان القرآن کے ایک سلسلہ مضامین کے ذریعے جو 1938ء اور 1939ء کے درمیان میں شاءع ہوئے، کانگریس کے چہرے سے