- الإعلانات -

پاکستان کی سیاست اورپاک فوج کادوٹوک موقف

اس وقت پاکستان کی سیاست میں ’’سلیکٹڈ‘‘کے حوالے سے جو پراگندگی مچی ہوئی تھی اس کو پاک فوج نے کلیئرکردیاہے اور قوم وسیاستدانو ں پر یہ بھی واضح کردیا کہ اُن کابالواسطہ یابلاواسطہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ ہمیشہ سیاستدان ہی فوج کے پاس جاتے ہیں ،فوج کبھی بھی سیاست میں نہیں پڑی مگر سیاستدان پھربھی بلاوجہ اداروں کو سیاست میں گھسیٹتے رہتے ہیں جوکہ کسی صورت بھی خوش آئندنہیں ہے ۔ اداروں کوبھی چاہیے کہ وہ اس حوالے سے محتاط رہیں ۔ اسی وجہ سے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے فوج کا سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے حالیہ قانون سازی انتخابی اصلاحات ،سیاسی اموریا نیب کے معاملات میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں ہے یہ کام سیاسی قیادت نے خود کرناہے پاک فوج کو سیاسی امور میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں ،موجودہ منتخب حکومت جو کہے گی ہم وہ کریں گے کل آپ حکومت میں آئیں گے ہم آپ کا بھی ساتھ دیں گے ہم ملک میں کسی کو کوئی فساد برپا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملکی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماءوں نے گزشتہ ہفتے ملاقات کی ۔ عسکری قیادت سے ملاقات میں اپوزیشن رہنماءوں نے صرف نیب پر تحفظات کا اظہار کیاجس کے جواب میں آرمی چیف کا کہناتھاکہ چیئرمین نیب کا تقرر اورالیکشن کمیشن کی تشکیل آپ نے کی ہے آپ جانیں اورآپ کا کام جانے آپ کا فرض ہے دیکھیں ٹھیک بندہ لگایاہے یا غلط ۔ ملاقات میں شہباز شریف بلاول بھٹوزرداری سراج الحق مولانا اسعد محمود اور شاہ محمود قریشی نے وفود کے ہمراہ شرکت کی ۔ ملاقات گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر سیاسی اتفاق رائے کےلئے تھی مگر اس میں دیگر سیاسی امور بھی زیر بحث آئے ۔ آرمی چیف نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر فوج ہمیشہ سول انتظامیہ کی مدد کرتی رہے گی ۔ فوج نہیں چاہتی کہ انتخابات کی ذمے داری لے ۔ الیکشن کرانا، الیکشن کمیشن نگران حکومت اور انتظامیہ کا کام ہے ۔ ماضی میں جب انتخابات ہوئے تنازعات اٹھتے رہے ہیں اس لئے فوج سکیورٹی کی ذمے داری ادا کرے گی،وہ بھی ان علاقوں میں جہاں انتظامیہ ضروری سمجھے گی کہ لا اینڈآرڈر کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ ملاقات میں آرمی چیف نے کہا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ،یہ نظام چلتا رہے گا ۔ نیزگزشتہ روزوزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز اہم ملاقات کی ہے جس میں ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی ۔ ملاقات میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، وفاقی کابینہ کے ارکان اور دیگر حکام شریک تھے ۔ اس موقع پر لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت پر بریفنگ دی گئی ۔ دوسری جانب وزیراعظم کی صدارت پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا ۔ جس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت اور اداروں کیخلاف بیان بازی بھارتی لابی کو خوش کرنے کی کوشش تھی حزب اختلاف اورہندوستان کا ایجنڈا ایک ہے ملکی ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کررہے ہیں ان پر تنقید غیرمنطقی ہے ہم ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی سازش ناکام بنائیں گے ۔ اے پی سی کے فیصلے سے کسی کو پریشانی نہیں اے پی سی میں بیٹھے چہروں اور ان کے ذاتی مقاصد سے قوم آگاہ ہے ۔ عمران خان نے ہدایت کی کہ اے پی سی کے فیصلوں کا مدلل اور منطق کے ساتھ دفاع کیا جائے ۔ ملک کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں ، اپوزیشن کی اداروں پر تنقید غیر منطقی اور اپنی کرپشن سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔ اجلاس میں حکومت نے اپوزیشن کی قرارداد پر بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیراعظم نے وفاقی وزرا کو اس حوالے سے ٹاسک بھی سونپ دیا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کی ضامن ہے، ملک پر جب بھی کوئی آفت آئی فوج نے اپنی قوم کا ساتھ دیا،فوج قوم کے ساتھ ہم آواز ہوکر ملک کی خدمت کر رہی ہے، لیبیا،عراق ،شام جیسے ممالک کمزورفوج کے باعث تباہ ہوئے، ہم ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی سازش ناکام بنائیں گے، اور عدالتوں اور فوج کو بدنام نہیں ہونے دیں گے ۔ دریں اثناوزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ادارے ایک پیج پر اور ملک کے اتحاد کی ضمانت ہیں ، پوری قوم اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔

اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کا اعلان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زری پالیسی کا اعلان کردیا اور شرح سود 7 فیصد کی سطح پر برقرار رکھی ہے ۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بیرونی ترسیلات میں اضافہ ہوا ، مالی سال میں مہنگائی 7سے فیصد رہے گی ، کورونا کی دوسری لہر سے برآمدی منڈیاں متاثر ہوسکتی ہیں ، 2019 کے مقابلے 2020 میں مالیاتی خسارہ کم رہا ۔ زری پالیسی کے جاری اعلامیہ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 7 فیصد پر برقرر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایم پی سی نے کہا کہ جون 2020 میں گزشتہ اجلاس کے وقت کے مقابلے میں کاروباری اعتماد اور نمو کا منظر نامہ بہتر ہوا ہے، اس سے پاکستان میں کووڈ19 کے کیسز میں کمی اور لاک ڈاءون میں نرمی نیز حکومت اور اسٹیٹ بینک کے بروقت فراہم کردہ مالی محرک کی عکاسی ہوتی ہے،ساتھ ہی ساتھ مہنگائی بھی کم بڑھی ہے ۔ اب توقع ہے کہ مالی سال 21 کے دوران اوسط مہنگائی سابقہ اعلان کردہ حدود 7-9 فیصد کے اندر رہے گی ۔ اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بروقت اور بہترین اور مثبت پالیسیوں سے ملکی معاشی صورتحال میں بہتری آنی شروع ہوگئی، کورونا وبا سے مقابلے کےلئے اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کے مثبت نتاءج سامنے آئے ۔ اسٹیٹ بینک کی کی مالی ، ہاءوسنگ اور تعمیرات، سیمنٹ اور پٹرولیم کے شعبوں کےلئے بنائی گئی پالیسی سے بھی معیشت کو تقویت ملی ہے، مہنگائی میں جس تیزی سے اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی ، وہ غیر موثر رہیں ، مہنگائی کی شرح میں اضافے کو کنٹرول کیا گیا، تاہم کورونا کی دوسری لہر سے برآمدی منڈیاں متاثر ہوسکتی ہیں ۔

بھارتی اقدامات سے علاقائی امن کو خطرہ ہے،اوآئی سی

بھارت کے غیرقانونی زیرتسلط جموں و کشمیر کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرنے کیلئے بھارت پر دباءو ڈالے ۔ نیویارک میں او;200;ئی سی رابطہ گروپ کے ارکان کا اجلاس ہوا ۔ نیویارک میں او ;200;ئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ہوا ۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب منیر اکرم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا پیغام پہنچایا ۔ رابطہ گروپ نے کہا کہ بھارت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عملدرآمد کےلئے دباو ڈالا جائے جن میں استصواب رائے کرانے کو کہا گیا ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنا حق خودارادیت استعمال کرسکیں ۔ بھارت کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ہے ۔ ارکان نے جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے بھارت پر دباءو ڈالیں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنایا جائے ۔ اقوام متحدہ کیلئے پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نئے سکونتی قوانین کے ذریعے منظم انداز میں کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کررہی ہے ۔ 16 لاکھ سکونتی سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلمان اکثریت کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنا ہے ۔ اردو کی حیثیت بھی تبدیل کی جا رہی ہے ۔ ;200;ر ایس ایس، بی جے پی حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے پیغام میں زوردیا کہ بھارت کےلئے یہ ضروری ہے کہ وہ غیر انسانی فوجی محاصرہ ختم کرے، مواصلاتی نقل و حرکت اور پرامن اجتماعات پر پابندیاں اٹھائے، اسیر سیاسی رہنماءوں کو رہا کرے اور نئے سکونتی قوانین واپس لے ۔ بھارت نئی جارحیت کا جواز پیش کر کے فالس فلیگ ;200;پریشن کر سکتا ہے ۔ بھارتی اقدامات سے علاقائی امن وسلامتی کو شدید خطرہ ہے ۔