- الإعلانات -

امریکہ پاکستان دھاندلی

امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ;200;نے والے الیکشن میں مجھے شکست ہوئی تو وجہ میرے ساتھ ہونے والی دھاندلی ہو گی ۔ مایوس امریکی صدر نے عوام کا شکریہ ادا کر دیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جس کو ووٹ دینا چاہتے ہیں اس کی کھل کر حمایت کرو تاکہ عوام کا منتخب شخص دھاندلی سے نہ کرایا جا سکے ،اگر پاکستان اور پوزیشن موجودہ حکومت کو دھاندلی سلیکٹڈ حکمران کہہ کر عوام میں اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ میرے دیس کی تمام اپوزیشن ایک ;200;ج بھی ہے، صرف جماعت اسلامی ہمیشہ کا حصہ ہونے کے باوجود اپوزیشن کے ساتھ ایک پیج پر نہیں ;200;رہی کیوں کہ جماعت اسلامی بہت پرانی جماعت ہے ۔ دنیا کا سب سے بڑا طاقتور انسان ہوتے ہوئے ;200;پ نے شفاف الیکشن پر الزام لگا رہا ہے کہ میری اور صرف دھاندلی سے ہوگی ۔ دھاندلی کون کرے گا;238; اگر ٹرمپ کو پتہ ہے تو قانونی کارروائی کریں اگر ظاہرہے میرے دیس کی حکمرانوں کی طرح الزامات لگانے ہیں تو ٹرمپ ;200;نے والے الیکشن میں ہار کر جناب بلاول بھٹو زرداری اور حضرت مولانا فضل الرحمن کی طرح عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے ۔ ٹرمپ جو خود با اختیار صدر ہے ،بات واضح نہیں کر رہا کہ اس کے ساتھ کون دھاندلی کرے گا لیکن میرے دیس کے سابق حکمران طبقات موجودہ پاکستان حکومت کو دھاندلی زادہ تو کہتے ہیں مگر نہ تو دھاندلی ثابت کر سکتے ہیں اور نہ ہی دھاندلی کرنے والوں کی نشاندہی کرتے ہیں ، اس کی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں جلد ;200;نے والے الیکشن میں مل کر الیکشن لڑنے کی کوشش کرکے دھاندلی کی راہ روکیں گے اور یہ ممکن ہے دھاندلی بھی نا ہو اور پھر بھی یہ سارا قبیلہ حکومت سے باہر ہو سکتا ہے ۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف ان دنوں جیل لاہور میں ہیں اور مریم اورنگزیب کے بقول موصوف کو کرونا ہو چکا ہے اور ان کو ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے حمزہ اگر واقعی کرونا کا مریض ہے تو اس کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے اس کا مکمل علاج کیا جائے اور اس بات کا بھی پتہ چلنا ضروری ہے کہ حمزہ کو کرونا کیسے ہوا ۔ کیا اس بیماری کے پیچھے حکمرانوں کا ہاتھ تو نہیں کیوں کہ مریم نے فرمایا ہے کہ میاں نواز شریف کو بھی جیل میں ایسی خوراک دی گئی کہ ان کے پلیٹ لیٹس انتہائی کم ہو گئے تھے ،اگر واقعی میاں نوازشریف کو ایسی ادویات دی گئیں جس سے ان کو بیماری لگ گئی تو اس کی انکوائری کی جانی چاہیے اور اس انکوائری کےلئے بھی سپریم کورٹ کے جج کونگران ہونا چاہیے پاکستانی عوام ہر دور کے اپوزیشن کے الزامات سن کر پاگل ہو گئی ہے ۔ حکمران جو بھی ;200;یا اس نے خزانے کو خالی قرار دیا اور اپوزیشن جو بھی ;200;ئی حکومت کو چور قرار دیا ،دونوں صورتوں میں لوٹی عوام گئی میاں صاحب کی حکومت میں ان کے حواریوں نے خوب مزے کرتے ہوئے مالی حالات بہتر کیے اس طرح پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے زمانے میں تو جیالوں کو خوب نوازا گیا ۔ قومی خزانے کو ذاتی خزانہ سمجھ کر لوٹا گیا اور ;200;ج عمران خان حکومت میں گندم اور چینی کے بحرانوں نے صرف قومی دولت کو خوب لوٹا یا بلکہ عوام کے جبڑوں سے اربوں کھربوں نکال لیے گئے ،کہنے کو یہ معمولی بات ہے کہ چینی ;200;ٹا مہنگا ہوگیا ہے لیکن دیکھا جائے کہ ملک میں نہ ;200;ٹے کی قلت ہے نا چینی کی مگر دونوں اشیا خرد نوش مارکیٹ میں موجود ہونے کے باوجود بلاجواز مارکیٹ قیمت پر میسر نہ ہیں ۔ نہ چینی کے خام مال کی قیمت بڑھی اور نہ چینی کی قلت پیدا ہوئی مگر قیمت 60 روپے سے سو روپے ہوگئی اور حکمران ٹولہ ٹس سے مس نہ ہوا حکومت کی خاموشی حکومتی مشینری کی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے ;200;ج چینی ایکسپورٹ بھی عمران خان کے ساتھیوں نے کی ہے اور چینی امپورٹ بھی عمران کی حکومت کر رہی ہے جس گندم کو ملک میں وافر قرار دےکر حکومتی لوگوں نے گندم ایکسپورٹ کرکے گندم کا اور ان کے ساتھیوں کے پیدا کیا تھا اسی طرح چینی ایکسپورٹ کرکے عمران خان کے ساتھیوں نے چینی کی ایکسپورٹ پر مال بنایا اور انداز وہی لوگ گندم اور چینی کو امپورٹ کرکے نہ صرف قوم کو بیوقوف بنانے لگے ہیں اور دوسری طرف اپنی جیب بھرنے لگے ہیں ۔ چینی اور گندم کے چکر کا جواب عمران خان کو دینا پڑے گا جب تک عمران خان گندم اور ;200;ٹے کے بحران کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی نہیں ہوتی مگرمچھ کے ;200;نسو بہانے والوں کا احتساب نہیں ہونا ،خمیازہ عمران خان کو ہی بھگتنا پڑے گا ٹرمپ صاحب ;200;پ دھاندلی سے نہ گھبرائیں ، ;200;پ سے دھاندلی نہیں ہو سکتی ;200;پ کی قوم پڑھی لکھی ہے ;200;پ ہار گئے تو لوگوں کی رائے ;200;پ کے حق میں نہیں ہوئی کوئی جعلی طریقے سے ;200;پ کو نہیں ہرا سکتا ،ہاں پاکستان میں جو بھی ہارتا ہے وہ ;200;پ کے جیسا الزام لگا دیتا ہے کہ مجھے یا ہ میں دھاندلی سے ہرایا گیا ہے، میرے دیس میں عوام ان پڑھ ہیں ، ان سے جو الیکشن میں ;200;نے والے حکمرانوں ووٹ لے کر دھاندلی کر جاتے ہیں اور الیکشن کے بعد عوام اپنے حقوق کے لیے ماری ماری پھرتی ہے مگر حکمرانوں اور عوام کے درمیان بہت بڑی خلیج حائل ہو جاتی ہے میرے دیس میں حکمران ہر الیکشن میں عوام سے دھاندلی کرتا ہے ۔