- الإعلانات -

جعلی پولیس مقابلوں میں 300 کشمیری شہید

بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں نام نہاد انسداد در اندازی آپریشن کے نام پر کشمیریوں کا جعلی مقابلوں میں شہید کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان نے بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تین معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی عالمی نگرانی میں جوڈیشل انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ عالمی برادری اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت اقدامات سے گزشتہ ایک سال میں چھاپوں اور تلاشیوں کے نام پر 300 سے زائد کشمیری جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، کوشہید کیا گیا ہے ۔ 18 جولائی 2020ء کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں 25 سالہ امتیاز احمد، 20 سالہ محمد ابرار اور 16 سالہ ابرار احمد کو نام نہاد چھاپہ اور سرچ آپریشن کے دوران شوپیاں میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی ۔ تینوں کشمیریوں کو شہید کر کے دور دراز کے سرحدی علاقوں میں دفن کر دیا گیا تھا ۔ یہ کشمیری نوجوان راجوری سے سیب کے باغات میں بطور محنت کش کام کیلئے آرہے تھے ۔ اس واقعہ کے دو ماہ بعد خود بھارتی قابض فوج نے یہ تسلیم کیا کہ ماورائے عدالت جن نوجوانوں کو قتل کیا گیا وہ معصوم کشمیری محنت کش تھے جو بھارت کی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی واضح علامت ہے ۔ 18 ستمبر کو بھارتی فوج نے تسلیم کیا کہ اس کا یہ اقدام آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے کالے قانون سے تجاوز تھا ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف نے مطالبہ کیا کہ یک تو مجھے بچوں کی لاشیں چاہئیں ۔ میرا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ملوث فوجیوں کو پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے دردناک واقعات پیش نہ آئیں ۔ محمد یوسف کے بیٹے ابرار احمد سمیت تین قریبی رشتہ دار نوجوانوں کو بھارتی فوج نے ضلع شوپیاں میں ایک ;39;فرضی;39; جھڑپ میں ہلاک کیا تھا ۔ ابرار احمد، محمد ابرار اور امتیاز احمد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے ۔ امتیاز احمد مزدوری کرنے کےلئے شوپیاں گیا ہوا تھا ۔ امتیاز نے ابرار احمد اور محمد ابرار کو بھی فون کر کے وہاں بلا لیا ۔ دونوں یہاں سے 15 جولائی کو روانہ ہو کر 130 کلو میٹر کا دشوار گزار پہاڑی راستہ طے کرتے ہوئے 17 جولائی کو وہاں پہنچے ۔ رات کے آٹھ بجے انہوں نے گھر فون کیا کہ ہم یہاں پہنچ گئے ہیں ۔ پونے نو بجے سے ہمارا ان کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا ۔ یہی وہ رات ہے جس دوران انہیں قتل کیا گیا ہے ۔ محمد یوسف کے مطابق تینوں نوجوانوں کے پاس شناختی دستاویزات تھے لیکن فوج نے ان کی شناخت کو چھپاتے ہوئے انہیں ضلع بارہمولہ کے علاقے گانٹہ مولہ میں واقع غیر ملکی عسکریت پسندوں کے لیے مخصوص قبرستان میں دفن کروایا ۔ بھارتی فوج کے ترجمان راجیش کالیا نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنےوالے حقائق سے پتا چلا ہے کہ آپریشن میں شامل فوجیوں نے اپنے اختیارات سے باہر کارروائی کرتے ہوئے کشمیر میں فوجی ضابطوں کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے ۔ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ بھارتی فوج کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی پولیس تحقیقات میں ابھی یہ بات ثابت ہونا باقی ہے کہ یہ تینوں افراد آیا دہشت گردی یا پھر اور متنازعہ سرگرمیوں میں ملوث تھے یا نہیں ۔ عام طور پر پولیس اس نوعیت کی کارروائیوں میں فوج کے ساتھ ہوتی ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جولائی کے اس آپریشن میں ایسا ممکن نہیں ہو سکا تھا ۔ ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے کیونکہ اس سے ثابت ہو سکے گا کہ وہ مقامی باشندے تھے ۔ 2010 میں بھی بھارتی فوج کے تین افسران پر تین مزدوروں کو شہیدکرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جن کو چپکے سے ’لائن آف کنٹرول‘ عبور کرنے والے پاکستانی باشندے بتایا گیا تھا ۔ ان ہلاکتوں کے نتیجے میں جنم لینے والے شدید مظاہروں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ 2000 میں بھارتی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پینتیس سکھوں کے قتل میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا ہے کہ یہ پانچوں مقامی افراد تھے جن کی ہلاکت فائرنگ کے تبادلے میں ہوئی تھی ۔ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کو سویلین عدالت میں مقدمے کی سماعت سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے خصوصی قوانین بچاتے ہیں اور فوجی عدالتوں میں سزا دیے جانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے ۔ کشمیر پولیس وہی کچھ کرتی ہے جو اس کو کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مقامی پولیس فوج سے ڈرتی ہے ۔ معاملے میں پولیس کی طرف سے ہ میں ابھی تک کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی ہے ۔ کشمیر میں فرضی جھڑپ کا ایک معاملہ 2000 میں پتھری بل میں سامنے آیا تھا جس میں ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے پانچ عام شہریوں کو مارا گیا تھا ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس فرضی جھڑپ میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کورٹ مارشل کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے تھے لیکن کسی کو سزا نہیں ہوئی ۔ بی جے پی کی قیادت اس حقیقت کا ادراک کرے کہ وہ کشمیری عوام کے خلاف ہونےوالے ان جرائم کی براہ راست ذمہ دار ہے ۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے غیر انسانی اور غیر قانونی قوانین کے سائے تلے ہونے والے ان جرائم کو کوئی استثنیٰ نہیں مل سکتا ۔ بھارت کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہئے کہ فوجی بربریت ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں ، زیر حراست تشدد، پیلٹ گنز کے استعمال، کشمیریوں کے گھروں کو تباہ کرنے اور جلائے جانے کے اقدامات کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت کے تسلیم شدہ حق کیلئے جدوجہد سے نہیں ہٹا سکتے ۔ عالمی برادری کو 18 جولائی 2020ء کے مقبوضہ کشمیر میں اٹھائے گئے اس اقدام کا فوری نوٹس لینا چاہئے ۔