- الإعلانات -

اے پی سی ۔۔۔اپوزیشن تقسیم

آل پارٹیزکانفرنس نے یوں تو حکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیاہے لیکن وہ بذات خود اندر سے شکست وریخت کاشکارہے ،گیارہ پارٹیوں کی شرکت اورمطالبات پر آدھی پارٹیوں کا اتفاق کرنا ،باقی کا نہ کرنا،مریم نوازکا خطاب نہ ہونا،مولانافضل الرحمان کاخطاب سوشل میڈیا پربراہ راست نشر نہ ہونا یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جو کثیرالجہتی کانفرنس کے نفاق کاواضح ثبوت ہیں ۔ وزیراعظم نے بھی کہاہے کہ کرپٹ مافیالوٹاہوامال بچانے کے لئے اکٹھی ہوئی ہے لیکن ان کے اتحاد سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ حکومت نے تہیہ کررکھا ہے کہ اس نے کرپشن کو ہرصورت ختم کرنا ہے ہم حکومت کے اس عزم کے حامی ہیں لیکن ٹائم فریم کے تحت کام کیاجائے تووہ بہترنتاءج کاحامل ہوتاہے کیونکہ کرپشن سترسال سے رچی بسی ہوئی ہے بقول وزیراعظم کے یہ کرپٹ مافیا پھراکٹھی ہورہی اب دیکھنایہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے جلدازجلدکیا اقدامات اٹھاتی ہے اور ضروری ہے کہ یہ اقدامات حکمرانوں کی صفوں سے ہوتے ہوئے اپوزیشن کی صفوں تک جائیں تب ہی کرپشن اورکرپٹ مافیاکاخاتمہ ہوسکتاہے ۔ ادھرپاکستان پیپلزپارٹی کے زیرانتظام اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں نے مزید باہمی تعاون کرنے پر اتفاق کیا، مولانا فضل الرحمن نے 26 نکات پر مشتمل اعلامیہ پڑھا جس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن اب اس ربر اسٹمپ پارلیمنٹ سے مزید تعاون نہیں کریگی ۔ اپوزیشن نے حکومت کو10دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اکتوبرسے تحریک، جنوری میں لانگ مارچ اوردھرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مناسب وقت پر پارلیمنٹ سے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)قائم کردیا ۔ اپوزیشن نے وزیراعظم سے فوری استعفیٰ دینے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے،حزب اختلاف نے انتخابی اصلاحات کا نیاقانون بنانے، سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے، جبکہ میثاق جمہوریت پرنظرثانی کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے ۔ قبل ازیں آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ آئین پر عمل کرنے والے کٹہروں میں کھڑے ہیں یا جیلوں میں ہیں ، یہ فیصلہ کن موڑ ہے، اگر ہم آج فیصلے نہیں کرینگے تو کب کرینگے، سابق آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف تحریک چلانے پر جیل جانے والا میں پہلا فرد ہوں گا ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ جن قوتوں نے عوام سے جمہوریت چھینی ہے اور کٹھ پتلی نظام مسلط کیا ہے انہیں سمجھنا پڑیگا، اب ہم سارے آپشن استعمال کرینگے، مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن جماعتوں سے اسمبلیوں سے فوری استعفے کامطالبہ کیا جبکہ شہبازشریف و دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت برائے نام ہے ۔ اپوزیشن کی جانب سے 4 صفحات کا اعلامیہ جاری کیاگیا جس کو کل جماعتی کانفرنس قرارداد کا نام دیا گیا ہے اس اعلامیے میں 26 نکات شامل ہیں ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 73 کے آئین، 18 ترمیم، این ایف سی ایوارڈ پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، صدارتی نظام راءج کرنے کا منصوبہ مسترد، سقوط کشمیر کی ذمہ دار سلیکٹڈ حکومت قرار دیا گیا ہے، قرارداد میں نیشنل ایکشن پلان پرعمل کرنے، غیر جانبدار ججوں کیخلاف ریفرنس ختم اورآغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، قرارداد میں سی پیک منصوبوں پرکام تیز کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ ربڑاسٹیمپ پارلیمنٹ سے تعاون نہ کرنے کا کہا گیا ہے ۔ اعلامیے میں گلگت بلستان میں بغیر مداخلت انتخابات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی کرپٹ مافیا جمع ہوگیا ہے مگر کسی کو رعایت نہیں ملے ۔ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ پتہ لگانا چاہئے نوازشریف کو قومی اداروں کے خلاف بیانیہ کون دے رہا ہے ۔ معاون خصوصی شہباز گل نے کہاکہ نوازشریف کابیانیہ مجھے کیوں نکالاکرپشن پر کیوں پوچھا پر مبنی ہے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاداکبر کا کہنا ہے کہ اے پی سی مفرور مجرموں اور ملزموں کے ٹولے سے بڑھ کر کچھ نہیں یہ مشورے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ احتساب سے کیسے بچا جائے ۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے نوازشریف کے اس بیان پر کہ ان کی تحریک عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ انہیں لانے والوں کے خلاف ہے ،پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ عمران خان کو کسی اور نے نہیں بلکہ عوام نے اپنی مقدس پرچی کے ذریعے منتخب کیاہے ۔ ادھر وفاقی وزیرعلی امین خان گنڈہ پور نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی کرپشن بچاءو اے پی سی ناکامی سے دوچار ہو ئی، کرپشن بچانے والے مفاد پرست پھر پوری قوم کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں ۔ نواز شریف کی تقریر سے ان کی نام نہاد بیماری کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

بھارت خطرناک ملک۔۔۔14امریکی سینیٹرزکاپومپیوکوخط

آج بین الاقوامی برادری یہ بات سمجھ رہی ہے کہ بھارت انتہائی خطرناک ملک ہے جہاں پر اقلیتوں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں کیونکہ مودی آرایس ایس کاپیروکار اورہٹلرکے نظریے کاحامی ہے اسی وجہ سے وہ اکھنڈبھارت بنانے کے منصوبے پرعمل پیراہے ۔ بھارت میں صرف اعلیٰ ذات کے ہندوءوں کی شنوائی ہوتی ہے باقی تمام اقلیتوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدترسلوک کیاجاتاہے یہ کہاں کی انسانیت ہے یوں تو بھارت کہتاہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن وہ جمہوریت کے نام پرکلنک کاٹیکہ ہے ۔ پاکستان نے بھارت کے مکروہ چہرے کو واشگاف کرنے کے سلسلے میں انتہائی اہم کردارادا کیاہے بین الاقوامی فورم پرکوئی بھی ایساموقع نہیں جانے دیاجب بھارت کے ظلم وستم کاپاکستان نے پرچارنہ کیاہو اوربین الاقوامی برادری کو یہ باورنہ کرایاہوکہ صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی نہیں بھارت کے اندربھی ہندو،شودروں ،دلتوں اورمسلمانوں سمیت دیگراقلیتوں کاعرصہ حیات تنگ کررکھا ہے ان کی نسل کشی کی جارہی ہے ان پرذراءع روزگاربندکردیئے گئے ہیں ۔ ان ہی تمام حالات کو دیکھتے ہوئے 14 امریکی سینیٹرز نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت کو مذہبی ظلم و ستم روا رکھنے پر اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیا جائے ۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ امریکی قوانین اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ امریکی حکومت فیڈرل کمیشن کی ان سفارشات پر غور کرے جن میں بعض ملکوں کو اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دینے کیلئے کہا گیا تھا ۔ اس حوالے سے کولیشن ٹو سٹاپ جینوسائیڈ ان انڈیا نامی تنظیم نے اس خط کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کی ان ایجنسیوں پر بھی پابندی لگائی جائے جو اس میں ملوث ہیں ۔ یاد رہے کہ اس تنظیم میں امریکی سول راءٹس تنظی میں ، بھارتی امریکی باشندے اور کارکن شامل ہیں ۔ خط پر ری پبلی کن کے 10 اور ڈیموکریٹس کے 4 سینیٹرز نے دستخط کئے ہیں ۔ اس خط کے بعد امریکی محکمہ خارجہ 30 روز کے اندر اندر سفارشات کے حوالے سے امریکی کانگریس کو ;200;گاہ کریگا ۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارا ملک اس اصول کی بنیاد پر قائم ہوا تھا کہ تمام افراد کو مرضی کا مذہب اختیار کرنے کی اجازت ہو اور انہیں اس حوالے سے حکومت یا کسی بھی جانب سے کسی ظلم و ستم کا سامنا کرنے کا کوئی خوف نہ ہو ۔ ;200;زاد دنیا کے لیڈر ہونے کی حیثیت سے امریکہ اس اہم انسانی حق کو فروغ اور رواج دے ۔ یہی ہماری خارجہ پالیسی مقاصد کا بنیادی حصہ ہے ۔ 14 سینیٹرز میں جیمز لینک فورڈ کرس کونز چک گریسلے مارک روبیو لنڈسے گراہم تھام ٹلیس ٹم سکاٹ جونی اور نسٹ جیکی اوزن کیون کریمرروجر وکر سٹیو ڈینز کرس وین ہولن اور جومینچن شامل ہیں ۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اور یو ایس کمشن برائے بین الاقوامی مذہبی ;200;زادی دنیا میں مذہبی ;200;زادی کے حوالے سے امریکی لیڈر شپ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے ان اداروں کی سالانہ رپورٹیں بھی اہم ہیں ۔ مزید کہا گیا ہے کہ ان دونوں اداروں کی رپورٹیں مذہبی حوالے سے ظلم و ستم اور انکے حل کی نشاندہی کرنے میں بین الاقوامی برادری کیلئے مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔ خط کی کاپی انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم کیلئے امریکی سفیر سیم بران بیک کو بھی ارسال کی گئی ہے ۔ کولیشن ٹو سٹاپ جینوسائیڈ نے مائیک پومپیو پر زور دیا ہے کہ وہ نہ صرف یو ایس کمشن کی سفارشات کو تسلیم کر لیں بلکہ بھارت اور اسکی ایجنسیوں کیخلاف ٹارگٹڈ پابندیاں عائد کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں جو مذہبی حوالے سے ظلم و ستم میں ملوث ہیں ۔ دوسرا متعلقہ شہریوں کے اثاثے منجمد کئے جائیں یا انکے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے ۔