- الإعلانات -

او آئی سی کشمیر رابطہ گروپ اورجودھ پور بھارتی سفاکی

سرپرست اعلیٰ پاکستان ہندو کونسل رمیش کمار نے بھارتی صوبے راجستھان کے شہر جودھ پور میں 11 پاکستانی ہندؤں کے قتل عام پر بھارتی حکومت کی سنگدلانہ بے حسی پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور عالمی برداری سے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی سرکار یہ جرم اتنا سنگین ہے کہ اس کی مذمت کےلئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی بہت مشکل ہے ۔ اسی تناظر میں انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہ ہمارے پُرزور مطالبے کے باوجود جودھ پور واقعے کی شفاف تحقیقات نہیں ہو سکیں اور بھارتی پولیس خود کشی کا ڈرامہ رچا کر اصل حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے ۔ یاد رہے کہ اسی پس منظر میں وزیر خارجہ نے رمیش کمار سے ملاقات کی ۔ شاہ محمود قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اقلیتوں کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری اور اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں قتل ہونے والے پاکستانی ہندو خاندان کی ہلاکت پر شدید دکھ اور تشویش ہے ۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جودھ پورکے انسانیت سوز واقعے پر پاکستان نے بھارت سے شدید احتجاج کیا اور بھارت سے معاملے کی تحقیقات میں پاکستان کو شامل کرنےکا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ یہاں یہ امر خصوصی اہمیت کا حا مل ہے کہ رمیش کمار محض پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ہی نہےں بلکہ ممبر قومی اسمبلی بھی ہےں ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ رمیش کمار کا کہنا تھا کہ جودھ پور واقعے کو ڈیرھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا لیکن ہ میں انصاف نہیں ملا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جودھ پور واقعے پر اب پاکستانی ہندو برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور انصاف کے حصول کے لیے 22ستمبر سے احتجاج شروع کر دیا گیا ۔ اس تما م تر صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار سفارتی اور قانونی مبصرین نے کہا ہے کہ 11بے گناہ پاکستانی ہندووں کو پراسرار طور پر ہلاک کر دیا جانا انتہائی سنگینی کا حا مل ہے ۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی تشویش کا حا مل ہے کہ بھارت میں اتنے پاکستانی شہریوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا لیکن دہلی سرکار نے اس بابت انتہائی سفاکانہ بے حسی پر مبنی روش کا مظا ہر ہ کیا ہے ۔ واضح ہے کہ متاثرہ خاندان کے ایک فرد کی بیٹی’’ شری متی مکھی ‘‘نے پریس کانفرنس میں بھارت پر سنگین الزامات لگائے تھے ۔ پاکستان نے بھارت سے 11 پاکستانی ہندوؤں کے پراسرار قتل پر حقائق سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی پالیسیاں علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں ، بھارت کو بارہا 11 پاکستانی ہندوؤں کی پرسرارموت کی تحقیقات سے آگاہ کرنے کو کہا ہے لیکن تاحال پاکستان کو کسی قسم کی تحقیقات سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق بھارت مسئلہ کشمیر کو داخلی معاملہ قرار دے رہا تھا تاہم دنیا اسے عالمی تنازع تسلیم کرتی ہے اور آج بھارت کے اندر سے مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں ، بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا پاکستان اور بھارت کا معاملہ اقوام متحدہ میں موجود رہےگا ۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بھارتی پالیسیاں چین اورپاکستان بلکہ تمام ہمسایوں کےلئے خطرہ ہیں اور اسی سلسلے میں بھارت میں بڑھتا اسلاموفوبیا بھی خطرناک ہے جو کہ خطے اور عالمی امن کے قیام میں بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ دوسری جانب بھارت کے غیرقانونی زیرتسلط جموں و کشمیر کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرنے کیلئے بھارت پر دباءو ڈالے ۔ یاد رہے کہ نیویارک میں اوآئی سی رابطہ گروپ کے ارکان کا اجلاس ہواجس میں پاکستان، سعودی عرب اور آذر بائیجان کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ یاد رہے کہ او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ہوا ۔ رابطہ گروپ نے کہا کہ بھارت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عملدرآمد کے لئے دباو ڈالا جائے جن میں استصواب رائے کرانے کو کہا گیا ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنا حق خود ارادیت استعمال کرسکیں ۔ اس موقع پر رابطہ گروپ نے بھارت کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ظاہر کی ۔ ارکان نے جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے بھارت پر دباءو ڈالیں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنایا جائے ۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کیلئے پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نئے سکونتی قوانین کے ذریعے منظم انداز میں کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کررہی ہے ۔ 16 لاکھ سکونتی سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلمان اکثریت کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنا ہے اور اس ضمن میں اردو کی حیثیت بھی تبدیل کی جا رہی ہے ۔ منیر اکرم نے مزید کہا کہ آر ایس ایس، بی جے پی حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارت کےلئے یہ ضروری ہے کہ وہ غیر انسانی فوجی محاصرہ ختم کرے، مواصلاتی نقل و حرکت اور پرامن اجتماعات پر پابندیاں اٹھائے، اسیر سیاسی رہنماؤں کو رہا کرے اور نئے سکونتی قوانین واپس لے ۔ پاک وزیر خارجہ کے مطابق بھارت نئی جارحیت کا جواز پیش کر کے فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے ۔ بھارتی اقدامات سے علاقائی امن وسلامتی کو شدید خطرہ ہے ۔ مبصرین کے مطابق ضروری ہے کہ اقوام متحدہ بھارت کو لگام ڈالے تاکہ عالمی امن کو یقینی بنا یا جا سکے ۔