- الإعلانات -

سید مودودی;231; کی تصانیف کے مختلف زبانوں میں تراجم

گزشتہ سے پیوستہ

کانگریس کی لادینیت کی قلعی کھولی اور یہ ثابت کیا کہ ہندوستان کے مخصوص حالات میں اس کے لیے جمہوریت ناموزوں ہے ۔ صوبہ سرحد اور سلہٹ کے ریفرنڈم کے موقع پر مولانا مودودی نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالنے کا مشورہ دیا اور لوگوں کو اس موقع پر آمادہ کرنے کےلئے کہا اگر میں صوبہ سرحد کا رہنے والا ہوتا تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا ۔ سید مودودی نے ترجمان القرآن کے ذریعے ایک پابندِ اسلام جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں ترجمان القرآن میں مضامین بھی شاءع کیے ۔ جو لوگ اس تجویز سے اتفاق رکھتے تھے وہ 26 اگست 1941ء کو لاہور میں جمع ہوئے اور ;34;جماعت اسلامی;34; قائم کی گئی ۔ جس وقت جماعت اسلامی قائم ہوئی تو اس میں پورے ہندوستان میں سے صرف 75 آدمی شامل ہوئے تھے ۔ اس اجتماع میں سید مودودی کو جماعت کا سربراہ منتخب کیا گیا ۔ تقسیم ہند کے بعد سید مودودی پاکستان آ گئے ۔ پاکستان میں قائد اعظم کے انتقال کے اگلے ہی ماہ یعنی اکتوبر 1948ء میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے پر آپ گرفتار ہو گئے ۔ گرفتاری سے قبل جماعت کے اخبارات ;34;کوثر;34;، جہان نو اور روزنامہ ;34;تسنیم;34; بھی بند کردیے گئے ۔ سید مودودی کو اسلامی نظام کا مطالبہ اٹھانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ قرارداد مقاصد کی منظوری سے قبل اس کا متن بھی مودودی کو ملتان جیل میں دکھایا گیا تھا ۔ انہیں 20 ماہ بعد 1950ء میں رہائی ملی ۔ اپنی پہلی قید و بند کے دوران میں انہوں نے ;34;مسئلہ ملکیت زمین;34; مرتب کی، ;34;تفہیم القرآن;34; کامقدمہ لکھا، حدیث کی کتاب ;34;ابو داوَد;34; کا انڈکس تیارکیا، کتاب ;34;سود;34; اور ;34;اسلام اور جدید معاشی نظریات;34; مکمل کیں ۔ 1953ء میں سید مودودی نے ;34;قادیانی مسئلہ;34; کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب تحریر کی جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور پھرفوجی عدالت کے ذریعے انہیں یہ کتابچہ لکھنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنادیا ۔ سزائے موت سنانے کے خلاف ملک کے علاوہ عالم اسلام میں بھی شدید رد عمل ہوا ۔ بین الاقوامی علما نے حکومت پاکستان سے رابطہ کرکے سید مودودی کی سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ۔ بالآخر حکومت نے سزائے موت کو 14 سال سزائے قید میں تبدیل کر دیا ۔ تاہم وہ مزید دوسال اور گیارہ ماہ تک زندان میں رہے اور بالآخر عدالت عالیہ کے ایک حکم کے تحت رہا ہوئے ۔ 1958ء میں مارشل لا کے نفاذ کی سخت مخالفت کرنے کے بعد اس وقت کے صدر ایوب خان نے سید مودودی کی کتاب ;34;ضبط ولادت;34; کو ضبط کر لیا اور ایوبی دور میں ہی فتن انکار حدیث نے سر اٹھایا اور حکومتی سر پرستی میں ایسا طبقہ سامنے آیا جس کا کہنا تھا کہ اسلام میں حدیث کی کوئی حیثیت نہیں حتیٰ کہ مغربی پاکستان کی عدالت کے ایک جج نے حدیث کے بارے میں شک ظاہر کرتے ہوئے اسے سند ماننے سے انکار کر دیا ۔ اس موقع پر سید مودودی نے اسلام میں حدیث کی بنیادی حیثیت کو دلائل سے ثابت کرتے ہوئے دونوں کو اسلامی قانون کا سرچشمہ قرار دیا ۔ انہوں نے فتنہ انکارِ حدیث کے خلاف اپنے رسالے ;34;ترجمان القرآن;34; کا ;34;منصب رسالت نمبر;34; بھی شاءع کیا ۔ مارشل لا اٹھنے کے بعد اکتوبر 1963ء میں سید مودودی نے جماعت اسلامی کا سالانہ جلسہ لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ایوب خاں کی حکومت نے اس کو روکنے کی پوری پوری کوشش کی اور منٹو پارک کی بجائے بھاٹی دروازے کے باہر تنگ جگہ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی ۔ بعد ازاں لاوَڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا گیا ۔ 25 اکتوبر کو جلسہ شروع ہوا ۔ سید مودودی نے تقریر شروع ہی کی تھی جلسہ گاہ میں موجود نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کی جس سے جماعت اسلامی کا ایک کارکن جاں بحق ہو گیا تاہم مودودی بچ گئے ۔ ایوب خاں نے 6 جنوری 1964ء کو جماعت اسلامی کو خلافِ قانون قرار دے دیا ۔ سید مودودی اور جماعت اسلامی کے 65 رہنماؤں کو گرفتار کر کے قید خانوں میں ڈال دیا گیا ۔ اس قید کا دورانیہ 9 ماہ رہا جس کے بعد انہیں عدالیہ عظمیٰ کے فیصلے پر رہا کر دیا گیا ۔ 1970 سے 1979تک آپ کی صحت کمزور ہوگئی آپ اکثر فرماتے تھے کہ میں نے اپنے جسم کو اتنی مشقت میں ڈالا ہے کہ اب ایک ایک عضو مجھ سے انتقام لے رہا ہے ۔ اس عشرہ میں آپ نے جماعت کی قیادت سے صحت کی کمزوری کی وجہ سے معذرت کرلی جماعت اسلامی کی قیادت میاں طفیل محمد کے سپرد کی ۔ جماعت اسلامی پاکستان ، بھارت، بنگلہ دیش،سری لنکا، آزاد کشمیر،مقبوضہ کشمیر میں سید مودود ی کے دیئے گئے نظریئے کے مطابق اپنے حالات کے مطابق احیائے دین کا کام کررہی ہے ۔ دنیا کے دیگر ملکوں ترکی، مصر، الجزائر،مراکش،سوڈان، قطر، انڈونیشیا، ملائیشیا میں بھی اسلامی تحریکیں سید مودودی کی فکر سے رہنمائی لے رہی ہیں ۔ قاضی حسین احمد مرحوم نے جماعت کو سیاسی میدان میں بہت کامیابیاں دلوائی موجودہ امیر سراج الحق بھی بانی جماعت کے راستے کا انتخاب کر کے جماعت کو آگے لے کر جا رہے ہیں ۔ سید مودودی1979 میں شدید علیل ہوگئے ۔ آپ علاج کےلئے امریکہ کے ہسپتال روانہ ہوئے ۔ آپ22ستمبر 1979شام پونے چھ بجے اللہ رب العالمین کو پیارے ہوگئے ۔ آپ کا جسد خاکی 25ستمبر لاہور لایا گیا ۔ 26ستمبر کو نماز جنازہ عالم اسلام کے نامور عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پڑھائی تھی ۔ جنازے میں جنرل محمد ضیاء الحق ، بین الاقوامی و مقامی علمائے کرام اور راقم الحروف سمیت لاکھوں لوگوں نے شرکت کی ۔ آپ کے اہلخانہ کی فرمائش پر 5 ۔ اے ذیلدار پارک جہاں آپ کا گھر ہے وہاں تدفین ہوئی ۔