- الإعلانات -

وزیراعظم کاوزراء کوبیان بازی سے روکنادرست فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے وزراء کو بے جا بیانات دینے سے روک کر انتہائی احسن اقدام اٹھایا ہے کیونکہ اگر ماضی قریب کے سیاسی جھرونکوں میں جھانکا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ اس زبان کی چاشنی اور بے سروپا بیانات کی وجہ سے حکومتیں ہی چلی گئیں لیکن ان سیاستدانوں نے اپنی زبان کو لگام نہیں دیا ۔ اب حالات کو بھانپتے ہوئے عمران خان نے اس حوالے سے پابندی کردی ہے کیونکہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد سیاسی ماحول خاصا گرم ہے ۔ لندن میں بھی سابق وزیراعظم وزیراعظم نوازشریف سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے فعال ہوگئے ہیں اور انہوں نے کہاہے کہ جمہوریت کی بقاء کےلئے کوششیں جاری رکھیں گے جبکہ اندرون ملک اپوزیشن رہنماءوں نے بھی حکومت کے خلاف سخت بیان بازی شروع کردی ہے لیکن صرف بیانات داغنے سے مسائل حل نہیں بلکہ پیدا ہوتے ہیں ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ حکومت کو اپوزیشن کی اے پی سی سے کوئی خطرہ نہیں ان کے مقاصد سے قوم اچھی طرح واقف ہے ۔ نواز شریف کو تقریر کی اجازت بھی اس لئے دی تا کہ پاکستانی عوام کو ان کے مزید جھوٹ کا پتہ چل سکے اور یہ بھی معلوم ہو جائے کہ وہ کتنے بیمار ہیں اے پی سی کا مقاصد صرف اور صرف حکومت پر دباءوڈالنا ہے تا کہ ان کو این آر او مل سکے لیکن ان پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت چھوڑ سکتا ہوں لیکن کسی کو بھی این آر او نہیں دوں گا بلکہ ملک میں احتساب کا شکنجہ مزید سخت کیا جائیگا ۔ وزیراعظم کا کہناتھاکہ مشکل فیصلوں کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے جس کی تکلیف اپوزیشن کو ہو رہی ہے ان کو پتہ ہے کہ اگر ملک نے ترقی کرنا شروع کر دی تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی یہ جلسے جلوس کریں ،ریلیاں نکالیں ،لانگ مارچ کریں حکومت کو اس سے کوئی غرض نہیں عوام ان مفاد پرست ٹولوں کیلئے سڑکوں پر نہیں نکلیں گے پہلے بھی ان مافیا کا مقابلہ کر چکا ہوں اور اب بھی کروں گا پہلے بھی کہاتھایہ دونوں پارٹیاں اندر سے ایک ہیں اور اس کا عملی نمونہ قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تمام ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئینی حدود کے اندر کام کررہے ہیں تمام اداروں کی ہم آہنگی سے ملک مشکل حالات سے باہر نکل آیا ہے ۔ جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فرازنے اجلاس کے بعدمیڈیاکوبریفنگ میں بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اینٹی کینسر کارڈیک ڈرگز اور زندگی بچانے والی ادویات وغیرہ کی درآمدات کو بعض شرائط کے تحت پابندی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویزدی ہے ، کوویڈ19سے بچاءوکی دواکی قیمت 10,873 سے کم کر کے 8244 روپے کرنے ، کنٹونمنٹ بورڈ کے نئے ممبران تعینات کرنے کے حوالے سے پیش کی جانے والی تجویزاور 7مختلف کنٹونمنٹس کی ری کلاسیفکیشن کی منظوری دیدی ہے ۔ کابینہ نے 94 ادویات کی مناسب قیمت مقرر کرنے کی منظوری بھی دی، یہ قیمتیں 30جون 2021تک منجمد رہیں گی وفاقی کابینہ کو اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکیوشن کے مجوزہ بل پر بریفنگ دی گئیاس مجوزہ قانون کا مقصد جنسی جرائم کی موثر روک تھام مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کو یقینی بنانا تفتیش کے دوران متاثرہ خاتون کی عزت نفس کا تحفظ اور بحالی کیس کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور جنسی جرائم سے متعلقہ سزاوں کو سخت ترین بنانا ہے ۔ کابینہ نے پاور سیکٹر کے گردشی قرضہ کو کم کرنے اور بجلی قیمت کو کم کرنے کیلئے ہدایات دے دیں ۔ نیزوزیراعظم عمران خان نے ملک میں گندم اور چینی کی دستیابی اور ان کی قیمتوں کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک اجلاس میں ملکی ضروریات کے مطابق گندم کے وافر ذخیرے کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ اس وقت ملک میں گندم کے حوالے سے جو بحران چل رہاتھا اس سلسلے میں بھی وزیراعظم نے آگاہ کردیا ہے کہ اس کو حل کرلیاگیاہے اورگندم وافرمقدار میں موجودہے ۔ گندم کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کو بھی کنٹرول کرنے میں خاطرخواہ کرداراداکرے کیونکہ عوام کونہ اٹھارہویں ترمیم سے ،نہ نظام بدلنے سے اورنہ ہی حکومتیں بدلنے سے کوئی سروکارہے اسے اپنے مسائل کاحل چاہیے ۔

ملکی سلامتی کے لئے آرمی چیف کاعزم

پاک فوج کے سربراہ نے ایک بارپھراس عزم کا اظہارکیاہے کہ ہماری مسلح افواج ہرقسم کے مقابلے کےلئے تیارہے کیونکہ پڑوسی ملک بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے خطے میں امن وامان کی صورتحال دگرگوں رہتی ہے وہ پاکستان سے جب بھی چھیڑچھاڑ کرتاہے تو اسے ہمیشہ منہ کی کھاناپڑتی ہے ۔ 1965ء کی جنگ ہویا ابھی نندن کاواقعہ ، بھارت کومنہ کی ہی کھانی پڑی ہے ۔ پوری دنیا میں پاک فوج جرات وبہادری اورپیشہ وارانہ صلاحیتوں کے اعتبارسے جانی جاتی ہے ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ دشمن پر پھر واضح کیا ہے کہ پاک فوج دشمن کو ہر طرح کے خطرات میں موثر جواب دینے کیلئے تیار ہے، پاکستان کی سلامتی، جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کیلئے تمام اقدامات بروئے کارلائیں گے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے جہلم کے قریب فیلڈفائرنگ رینج کادورہ کیا، آرمی چیف نے اسٹیٹ آف دی آرٹ وی ٹی فورٹینک کاعملی مظاہرہ دیکھا ۔ آرمی چیف نے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاک فوج درپیش چیلنجزاورعلاقائی خطرات سے بخوبی آگاہ ہے، مادروطن کے دفاع کیلئے اندرونی اوربیرونی چیلنجزپرتوجہ مرکوزہے، پاکستان کی سلامتی،جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کیلئے تمام اقدامات بروئے کارلائیں گے ۔ پاک فوج کے سربراہ نے کہاکہ دشمن کے مذموم عزائم کوخاک میں ملانے کیلئے مکمل دفاعی صلاحیت موجودہے ۔ پاک فوج کی اولین ذمہ داری وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے ۔ اس ذمہ داری سے فوج کبھی غافل نہیں رہی ۔ دشمن کی جارحیت کی صورت میں اسے ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا گیا ۔ پاک فوج کو ملک کے اندر دہشت گردوں کے ساتھ نبرد;200;زما ہونے کا بھی چیلنج درپیش رہا ۔ اس میں بھی فوج سرخرو ہوئی ۔ پاک فوج جہاں جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کر رہی ہے وہیں کئی معاملات میں خارجہ امور پر نظر رکھے ہوئے اور اندرونی معاملات میں بھی عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے ۔

مسئلہ کشمیر پرترک صدرکادلیرانہ موقف

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بالخصوص کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے، مسئلہ فلسطین بھی پیچیدہ ہوگیا ہے لیکن آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ قیام ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے ۔ بھارت عالمی فورمز پر اپنی ساکھ کھو رہاہے ۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں جاری رکھی گئی سفاکیت و بربریت پر بھی عالمی دباءو درپیش ہے ۔ وادی میں سخت ترین پابندیوں کے حامل کرفیو کو چودہ ماہ ہونے کو ہیں ۔ کشمیریوں کے کیلئے ہر آنے والا دن گزرے دن سے بدتر ہوتا ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور اس مسئلے کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں ۔ بھارت ان پر عمل کرنے سے انکاری اور مقبوضہ کشمیر میں اپنا تسلط مضبوط تر کرنے کیلئے کوشاں ہے جو کشمیریوں کیلئے قابل قبول نہیں ۔ بھارتی ہٹ دھرمی کو کشمیریوں نے تو کبھی قبول ہی نہیں کیا اور بھارتی تسلط سے ;200;زادی کی جدوجہد میں اپنے لاکھوں پیاروں کی جانوں کی قربانیاں دیکر اور کٹھ پتلی اسمبلی کے ہر انتخاب کا بائیکاٹ کرکے باطل بھارتی موقف کو جھٹلایا اور اسکی مزاحمت کی ہے جبکہ بھارتی دانشوروں کی جانب سے بھی کشمیر کے بھارتی اٹوٹ انگ کے ڈھونگ پر دلائل کے ساتھ بھارت سرکار کو ;200;ئینہ دکھایا جاتا رہا ہے ۔ بھارت نے پچھلی سات دہائیوں سے کشمیریوں کے حق خودارادیت ، بنیادی آزادیوں اورانصاف پرڈاکہ ڈال رکھاہے اورا س طرح وہ جنوبی ایشیاء اور دوسرے علاقوں کے امن اورسلامتی کو خطرے میں ڈال رہاہے ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اقوا م متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم کے تناظر میں کشمیریوں کے آزادی، انصاف اور امن کے نصب العین کے حصول کے لئے اقدامات کرے ۔