- الإعلانات -

سزائے موت پر بحث

لاہور سےالکوٹ موٹر وے پر رونما ہونے والے گھناءونے جرائم کے بعد سزائے موت پر اےک بار پھر بحث چل نکلی ہے ۔ اس سانحہ کے رونما ہونے پر دانشوروں ،تجزےہ کاروں اور سےاستدانوں نے اپنے اپنے خےالات کا اظہار کےا ۔ سانحہ پر عوامی ردعمل مےں اس جرم کے مجرمےن کےلئے عبرت ناک سزا کے مطالبات ہوئے ۔ وفاقی وزےروں سمےت کچھ اہل دانش کی رائے مےں سزائے موت جرائم کا حل نہےں ۔ ان کے نزدےک سر عام پھانسی دےنا مسئلے کا حل نہےں اور اےسا عمل سماج کو کئی پےچےدگےوں اور مسائل سے دوچار کر سکتا ہے ۔ وزےر اعظم عمران خان نے بھی زور دے کر مجرموں کو مردانہ صفات سے محروم کر دےنے کی سزا کو اس کا نعم البدل قرار دےا ۔ حکومتی ترجمان سےنےٹر فےصل جاوےد نے کہا کہ زےادتی کے مجرم کو سر عام پھانسی دی جائے گی ،اس کےلئے قانون تےار کر رہے ہےں ۔ راقم کی رائے مےں اگر اےسا قدم اٹھا لےا جاتا ہے تو ےقےنا ملک مےں جرائم کی شرح مےں واضح کمی دےکھنے کو ملے گی ۔ اگر سخت سزاءوں سے اجتناب کی ہی پالےسی جاری رکھی گئی تو پھر پےشہ ور مجرموں کو اپنی منفی سر گرمےاں جاری رکھنے کے مزےد مواقع ملےں گے ۔ سماج مےں ہر شخص رائے کا استحقاق تو رکھتا ہے لےکن رائے دےتے وقت انصاف سے کام لےنا ہی ترجےح ہونی چاہیے ۔ دنےا کے آغاز سے ہی جرم معاشرے کا مسئلہ رہا ہے ۔ جرم کا مکمل خاتمہ تو کسی طور ممکن نہےں بناےا جا سکتا لےکن اس مےں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے ۔ ےہ صرف سزا کا ہی خوف ہوتا ہے جو جرائم کی شرح مےں کمی کا سبب بنتا ہے ۔ راقم کا سوال ہے کہ آےا جن ملکوں مےں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے وہاں جرائم کا خاتمہ ہو گےا ہے;238;ےورپ مےں روس اور بےلا روس کے سوا تمام ملکوں مےں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے لےکن اعدادوشمار بتاتے ہےں کہ وہاں جرائم بڑھے ہےں کم نہےں ہوئے ۔ دوسرے جن ملکوں مےں انسانی حقوق کے احترام ،اخلاق حسنہ اور تہذےب کے بلند معےار کے باعث جرائم کی شرح ضرور کم ہوئی ہے ۔ ان ممالک مےں سزائے موت کی ضرورت ہی باقی نہےں رہی ،وہاں ختم کر دی گئی ہے ۔ ےہ غلط فکر ہے کہ سزائے موت ختم کرنے سے جرائم کی شرح کم ہو جاتی ہے ۔ امرےکہ کی 52رےاستےں ہےں لےکن رےاستوں کے اےک گروپ مےں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے جبکہ دوسرے گروپ مےں سزائے موت راءج ہے اےسا اس لئے ہے کہ انسانی حقوق کے احترام ،اخلاق اور تہذےب کے معےار کے حوالے سے دونوں گروپوں مےں زمےن آسمان کا فرق ہے ۔ کبھی انگلستان مےں اےک سو جرائم کی سزا موت تھی اور پھانسی سر عام کھلے مےدانوں مےں لاکھوں کے مجمع مےں دی جاتی تھی تا کہ لوگ عبرت حاصل کرےں ۔ آج وہی معاشرہ انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے اتنی بلند سطح پر براجمان ہے جہاں سزائے موت ہی موقوف ہو گئی ہے ۔ دنےا کے پچاس ممالک اےسے ہےں جہاں سزائے موت کا قانون منسوخ کر دےا گےا ہے لےکن دنےا کی ساٹھ فےصد آبادی جن ممالک سے تعلق رکھتی ہے وہاں سزائے موت کا قانون موجود ہے سزائے موت امرےکہ، چےن ، بھارت، انڈونےشےا، روس ، جاپان، سنگا پور جنوبی اور شمالی کورےا،تھائی لےنڈ اور تائےوان سمےت کئی ملکوں مےں راءج ہے مگر نام صرف سعودی عرب، اےران اور پاکستان کا ہی لےا جاتا ہے ۔ جرائم کے حوالے سے جن مےں سزائے موت کا خاتمہ کر دےا گےا ہے سعودی عرب سے موازنہ کےا جائے تو معلوم ہو گا کہ سعودی عرب کا کرائم ا نڈےکس ان سب ےورپی ملکوں اور امرےکہ سے کم ہے ۔ سزائے موت پر پابندی کا رجحان زےادہ پرانا نہےں ےہ 1977ء کی بات ہے جب پہلی بار دنےا کے 16ممالک نے سزائے موت پر پابندی عائد کی تھی ۔ گمان اغلب ہے کہ دنےا مےں سب سے زےادہ چےن مےں لوگوں کو سزائے موت دی جاتی ہے کےونکہ چےن مےں کرپشن کے جرم کی سزا بھی موت ہے لےکن چےن اس حوالے سے معلومات فراہم نہےں کرتا ۔ سزا کی سنگےنی کا تعلق جرم کی نوعےت سے ہے ۔ ہمارے ہاں تو اےسے اےسے گھناءونے اور سنگےن جرائم ہوتے ہےں کہ پھانسی کی سزا بھی ناکافی ہو کر رہ جاتی ہے ۔ دور جدےد مےں مےڈےا کی اہمےت سے انکار نہےں کےا جا سکتا ۔ ان ٹی وی چےنلز سے نشر ہونے والے بعض پروگرام جن سے دےنی معاملات مےں عوام کو رہنمائی کم اور کنفےوژن زےادہ ملتا ہے ۔ الےکٹرک اور پرنٹ مےڈےا حساس نوعےت کے ذراءع ابلاغ ہےں لےکن افسوس کہ اےنکر پرسنز ٹاک شوز کو مثبت اور تعمےری بنانے کی بجائے اسے افسوسناک کھےل بنا دےتے ہےں ۔ بعض دانشوراور لبرل کالم نوےس بھی اپنے کالموں مےں خلفائے اسلام کی مثالےں دے کر اسلامی قوانےن کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے متمنی ہےں ۔ ہمےں تو خود کو اسلام اور قرآن کے سانچے مےں ڈھالنا چاہیے نہ کہ دےن اور قرآن کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلنے کی کوشش کرےں ۔ گر ہمےں مکتب و ہمےں ملا کار طفلاں تمام خواہد شد ۔ بعض دانشور اہل قلم اور اےنکر پرسنز سزائے موت کو معطل کرنے کے حق مےں دلائل دےتے ہوئے خلافت راشدہ کے دور مےں حضرت عمر;230; کی جانب سے چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا معطل کرنے کے فےصلہ کو بنےاد بنا کر ےہ دلےل دےتے ہےں کہ اس فلسفہ کے تحت موت کی سزا بھی معطل کی جا سکتی ہے ۔ حضرت عمر;230; نے موت کی سزا اس کے بھوکے ہونے کے سبب ،بھوک مٹانے کی خاطر ،چوری کا جرم اس کا استحقاق سمجھ کر ساقط فرما ئی تھی اور ساتھ ےہ وضاحت بھی فرما دی تھی کہ اگر مےری خلافت کے دور مےں کوئی باشندہ بھوکا سوےا ہے اور اپنی زندگی کی بقا کی خاطر اس نے بھوک مٹانے کےلئے چوری کی ہے تو مےں اس کا روٹی کا حق پورا نہ کرنے والا امےرالمومنےن اسے اس جرم کی سزا دےنے والا کون ہوتا ہوں ۔ ےہ واقعہ تو اےک قسم کی نصےحت اور عبرت کی مثال تھا کہ حاکمان وقت کےلئے رےاست کے ہر شہری کے حقوق پورے کرنے کی ذمہ داری ان کی ہے ۔ اس پر ان کا ےہ استدلال کہ کسی بے گناہ انسان کے قتل کے جرم کی سزا کو معطل کر کے تمام مجرموں کو اس کی سہولت دے دی جائے قرےن عقل و انصاف نہےں ۔ سزا کی نوعےت کا انحصار جرم کی شدت پر ہوتا آےا ہے ۔ جرم جتنا سنگےن ہوتا ہے سزا بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے ۔ لہٰذا قتل و غارت گری ،بغاوت ، فساد فی الارض وغےرہ کی سزا صدےوں سے پورے عالم مےں کار فرما ہے سزائے موت کےخلاف سب سے توانا آواز اےمنسٹی انٹر نےشنل کی رہی ہے ۔ ہےومن راءٹس اور ےورپی ےونےن نے آواز ملا کر اسے اور موثر کردےا ہے ۔ ان کے نزدےک ےہ سزا منسوخ کر دےنی چاہیے کےونکہ ےہ سراسر انسانی حقوق کا ابطال ہے ۔ ان کے نزدےک مقتول کے حقوق کو انسانی حقوق مےں شمار نہےں کےا جا سکتا ۔ گوےا جرم کا نشانہ بننے والا شخص محض اےک شکار تھا جسے شکار کر لےا گےا اس کے لواحقےن پر بھی انسانی حقوق کا اطلاق نہےں ہوتا ۔ سزائے موت کا خاتمہ براہ راست اسلامی قوانےن سے متصادم قرار دےا جا سکتا ہے کےونکہ خون کے بدلے خون کا حکم ہمارے دےن اسلام نے ہی دےا ہے اور ساتھ ےہ اختےار بھی دے دےا ہے کہ مقتول کے وارثےن خون بہا لےکر قاتل کو معاف کر سکتے ہےں ۔ زنا با الجبر کی سزا بھی سنگساراور سر عام موت ہے ۔ سزا کا مقصد صرف ےہ نہےں کہ مجرم کا دماغ ٹھکانے لگاےا جائے بلکہ سزا کا مقصد جرم کے ارادے باندھنے والے دوسرے اوباشوں کےلئے عبرت کا سمان فراہم کرنا بھی ہے ۔ چےن مےں کسی نے کھانے پےنے مےں ملاوٹ کر دی تھی ۔ اسے گولی چلانے والے دستے کے سامنے کھڑا کےا گےا اور اےک حکم ملتے ہی اس کے سےنے مےں درجنوں گولےاں اتار دی گئےں ۔ اےران مےں منشےات اور اسلحہ لانے ،لے جانے والوں کو بے درےغ چوراہوں مےں ےوں لٹکا دےا جاتا ہے کہ ان کی کھےنچی ہوئی گردنوں والی لاشےں کئی روز تک نشان عبرت بنی رہتی ہےں ۔ سعودی عرب مےں تو نماز جمعہ کے بعد جوں ہی نمازےوں کا مجمع مسجد سے باہر آتا ہے مجرموں کے سر اڑا دیے جاتے ہےں ۔ سےالکوٹ لاہور موٹر وے پر پےش آنے والا سانحہ کی بابت کوئی ظلم کا نشانہ بننے والی خاتون ،اس کے بچوں ،خاوند سے کوئی پوچھے کہ ان پر کےا گزری اور گزر رہی ہے ۔ اگر اس کے مرکزی ملزم عابد کو پہلی بار ہی اس جرم پر سزا ئے موت مل چکی ہوتی تو وہ بار بار اس جرم کا اعادہ کےسے کر سکتا تھا ۔