- الإعلانات -

;آل پارٹیز کانفرنس اور میاں نواز شریف

گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں کرپشن و منی لانڈرننگ کیخلاف قانون سازی میں اہم حکومتی پیش رفت پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے ، سنجیدگی سے حقائق کا جائزہ لینے اور پارلیمنٹ سے مختصر واک ;200;ءوٹ کے بعد جوائنٹ سیشن میں واپس ;200;نے کے بجائے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو قانون سازی کی کھلی چھٹی دیئے جانے کی کمزور حکمت عملی اختیار کی گئی لیکن اپنی کمزوری کو چھپانے کےلئے میڈیا کے ذریعے الزاما ات کا ملبہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر ڈال دیا گیا چنانچہ اپوزیشن کی کجروی سیاست کے باعث پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں کافی ہلچل دیکھنے میں ;200;ئی ہے ۔ البتہ بین الاقوامی جمہوری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں قانونی امور کو سلجھانے کےلئے بل خصوص تیسری دنیا کے ملکوں میں حزب اختلاف کو جذبات پر قابو رکھتے ہوئے قومی سیاسی اور اقتصادی معاملات میں انتہائی سنجیدگی سے حصہ لینا چاہئے ۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ جب سے عوام الناس نے ملک سے کرپشن اور اشرافیہ کے قائم کردہ ،اسٹیٹس کو ، کے خاتمے کےلئے جدوجہد شروع کی ہے اور اِس جدوجہد کے نتیجے میں ملک میں عمران خان کی حکومت برسراقتدار ;200;ئی ہے ، اپوزیشن نے جمہوری رِٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے احتیاط کا دامن ہی ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے ۔ اِس حقیقت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ نریندرا مودی کی بھارتی حکومت بین الاقوامی معاشی اداروں میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کےلئے متحرک ہے جس سے بچنے کےلئے ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ قانون سازی وقت کی اہم ترین ضرورت تھی ۔ لہٰذا، اپوزیشن جماعتوں کو بین الاقوامی صورتحا ل کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے خود ہی حکومت کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ملکی معاشرتی زندگی میں طالع ;200;زما طاقتوں نے بدترین سیاسی محاذ ;200;رائی کا عنصر داخل کر دیا گیا ہے ۔ چنانچہ تاریخ کے اِس اہم موقع پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی قیادت ایک نوجوان سیاست دان بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ منتقل ہوگئی ہے جنہیں پارلیمانی جمہوری نظیروں کا زیادہ تجربہ نہیں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو بلیک میل کر کے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی رہنماءوں کےلئے نیب مقدمات کے حوالے سے سہولتیں حاصل کر سکتے ہیں ۔

اندریں حالات ، ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جوائنٹ سیشن ;200;ف پارلیمنٹ میں اختیار کی گئی جذباتی کیفیت کی اصلاح احوال کرنے کے بجائے اپوزیشن جماعتوں نے محض عمران خان دشمنی میں چند روز کے اندر ہی ملکی سیاسی و اقتصادی صورتحال، بیرونی ایجنسیوں کی جانب سے بلوچستان و وزیرستان میں دہشت گردی ، گوادر سی پیک منصوبے پر بلا جواز تنقیداور کشمیر کنٹرول لائن پر تسلسل کےساتھ بھارتی جارحیت ایسے اہم قومی معاملات پر سوچ و بچار کئے بغیر ہی نہ صرف ;200;ل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا بلکہ ;200;ئینی و قانونی فکر کو مہمیز دینے کے بجائے بنیادی طور پر قومی احتساب بیورو میں اپوزیشن کے خلاف کرپشن کے مقدمات، جوائنٹ سیشن ;200;ف پارلیمنٹ میں اہم حکومتی قانون سازی پر اسپیکر کی جانب سے دوبارہ گنتی نہ کرانے پر احتجاج کرنے ، گوادر سی پیک منصوبے کو متنازع بنانے کی کوشش کرنے اور قومی سلامتی و ;200;ئین کی روح کے منافی فوج کے اداروں کو بدترین ٹارگٹ بنانے پر ہی اکتفا کیا گیا ۔ ایسا اِس اَمر کے باوجود کیا گیا جبکہ فوجی قیادت کی جانب سے ;200;ل پارٹیز کانفرنس سے قبل حزب اختلاف کے رہنماءوں اور حکومتی وفود کو واضح طور پر ;200;گاہ کر دیا گیا تھا کہ فوج کو سیاست میں لانے سے گریز کیا جائے کیونکہ پارلیمنٹ جوائنٹ سیشن میں قانون سازی ، انتخابی اصلاحات اور قومی احتساب بیورو کے کرپشن مقدمات میں ;200;رمی کی مداخلت نہیں ہے ۔ ایک قومی ادارے کے طور پر فوج کو کوئی بھی منتخب حکومت اگر قومی ذمہ داری سونپے گی فوج اُسے ادا کریگی ۔ اگر کل حزب اختلاف کی حکومت ہوگی تو فوج اُس کا اِسی طرح ساتھ دیگی ۔ فوج کی جانب سے اِس احسن یقین دھانی کے باوجود حزب اختلاف کے قائدین کی جانب سے ;200;ل پارٹیز کانفرنس میں فوج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایک اور بڑی سیاسی غلطی یہ کی کہ ملکی ;200;ئین و قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خاص طور پر کرپشن ا ور منی لانڈرننگ میں ملوث با اثر ملزمان اور سزا یافتہ مجرم میاں نواز شریف کو ویڈیو لنک پر خصوصی خطاب کی دعوت دی ۔ یاد رہے کہ میاں نواز شریف سپریم کورٹ کی جانب سے کسی بھی سیاسی عہدے کےلئے تاعمر نا اہل قرار دئیے گئے تھے ۔ میاں نواز شریف جو علاج کرانے کی غرض سے ہائی کورٹ سے 6 ہفتے کی ضمانت پر لندن تشریف لے گئے تھے، جہاں نہ تو وہ کسی ہسپتال میں داخل ہوئے اور نہ ہی اُنہوں نے دل کا ;200;پریشن کرایا اور نہ ہی ضمانت ختم ہونے پر وطن وپس ;200;ئے چنانچہ ہائیکورٹ نے نواز شریف کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جسے پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعے تعمیل کرانے کا حکم نامہ جاری کیا تھا ۔ یہ اَمر حیران کن ہے کہ ;200;ل پارٹیز کانفرنس نے کس اندرونی یا بیرونی اشارے پر بل خصوص سپریم کورٹ ;200;ف پاکستان کی جانب سے کرپشن میں ملوث ہونے کے باعث کسی بھی سیاسی عہدے کےلئے تا عمر نا اہل قرار دئیے جانے کے بعد میاں نواز شریف جو احتساب عدالت کی جانب سے سزا یافتہ ہیں اور جنہیں ہائی کورٹ کی جانب سے علاج کی غرض سے اُن کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر 6 ہفتے کےلئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی اضافی مدت میں بھی وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے تب ہائی کورٹ کی جانب سے اُن کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری تعمیل کےلئے پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعے لندن بھیجے گئے ہیں لیکن ;200;خری اطلاعات کے مطابق اُنہوں نے یہ اطلاعاتی وارنٹ بھی لینے سے انکار کر دیا ہے ۔ ;200;ل پارٹیز کانفرنس سے خطاب سے قبل ہی میاں نواز شریف کی صحت کے بارے میں کافی چہ مہ گوئیاں جاری تھیں لیکن ;200;ل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے اُن کے خطاب سے محسوس ہوا کہ وہ بالکل صحتمند ہیں اور انتہائی چالاکی سے تیار کردہ جعلی بلڈ رپورٹس کے تحت بیرون ملک علاج کرانے کے حوالے سے اِسے محض ایک حسین دھوکہ بازی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے حکومت، قوم اور عدلیہ کو بے وقوف بنایا گیا تھا ۔