- الإعلانات -

مودی کی غلط پالیسیوں سے فوج میں پھوٹ پڑ گئی

نریندرا مودی سرکار کی دیکھا دیکھی بھارتی فوج بھی سیاست کی راہ پر چل پڑی ۔ اختیارات کی جنگ میں دو تھری سٹار جرنیل آمنے سامنے آگئے جس کے باعث بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت میں پھوٹ پڑ گئی ۔ یوں مودی کی چھپن انچ چھاتی پہلے ہی سکڑ کر آدھ فٹ رہ گئی تھی اب بھارتی فوج نے ڈوبنے کے لیے چلو بھر پانی کا انتظام بھی کر لیا ۔ پاکستان کو گھس کر مارنے کی بھڑکیں لگانے والے بھارتی جرنیل آپس میں ہی گتھم گتھا ہوگئے ۔ اختیارات کی جنگ میں بھارتی فوج کے دو تھری سٹار جرنیل آمنے سامنے آگئے جس کے باعث بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت میں پھوٹ پڑ گئی ۔ پاکستان کے ساتھ ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد پر تعینات ساوَتھ ویسٹرن کمانڈ کو دو دو جرنیل اختیارات کی جنگ میں مارا ماری پراتر آئے یہاں تک کہ بھارتی آرمی چیف کو مداخلت کرنا پڑی اور بھارتی آرمی چیف ایم ایم نروانے نے اپنے وائس چیف کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپ دی ۔ پنجاب اور راجستھان کی سرحد پر تعینات ساوَتھ ویسٹرن کمانڈ کو لیفٹیننٹ جنرل الوک کلر نے احکامات جاری کیے تو سیکنڈ ان کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل کےکے رپسوال نے حکم ماننے سے انکار کردیا ۔ ساوَتھ ویسٹرن کمانڈ کو اب دو دو جرنیل چلانے لگے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں اور خودکشیوں پر بھی عوام میں چہ مگویاں شروع ہو گئی ہیں ۔ بھارتی صحافی و تجزیہ نگا اشوک سوائن کا کہنا تھا کہ بھارت یہ بتانے میں ناکام رہا تھا کہ پلوامہ میں فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار کون تھا ۔ اب گلوان میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار کون ہے ۔ اب بھی بھارت یہی غلطی کررہا ہے ۔ بھارت کی یہ سیاسی قیادت ہی ہے جس نے ان فوجیوں کو توپوں کا چارہ بننے پر مجبور کیا ہے ۔ گزشتہ برس پلوامہ حملے میں 40 سے زائد بھارتی فوجی اہلکار مارے گئے تھے جس کا الزام بھارت سرکار نے پاکستان پر لگایا تھا تا ہم بعد میں بھارتی تجزیہ نگاروں نے انکشاف کیا کہ پلوامہ حملہ مودی سرکار نے خود الیکشن جیتنے کےلئے کروایا ۔ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم جو 5 مئی کو لداخ میں وادی گلوان اور اس کے بعد شمال مشرقی سکم کے علاقے نکولہ میں شروع ہوا تھا، اس کے بعد بھارت نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ بھارت کے 20 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں تا ہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت کے 40 سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو درجن سے زائد لاپتہ ہیں ۔ اس کے تین دن بعد بھارت اور چین میں شدید تلخی آئی تھی چین نے لداخ میں بھارتی علاقے میں گھس کر بھارتی فوج کر گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا ۔ بھارت ابھی تک اس بارے جواب دینے سے قاصر ہے ۔ بھارتی فورسز سکم اور لداخ میں رسوائی اور شرمندگی سے دو چار ہوگئیں ۔ چینی سرحدی اہلکاروں کی جانب سے بھارتی اہلکاروں کی درگت کے واقعہ کے بعد بھارتی سیاسی قیادت کو چپ لگ گئی ۔ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا ۔ بھارتی میڈیا پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جانے لگا ہے ۔ بھارتی عوام کو گمراہ کرنے اور ان سنے حقائق چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بھارت اور چینی فورسز کے درمیان کشیدگی روز بروز بڑھ رہی ہے ۔ بھارت فوج کے 250 اہلکار چینی حدود میں داخل ہوئے ۔ ٹریس پاسنگ کے بعد بھارتی اور چینی فوجی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے ۔ دونوں جانب سے لوہے کے راڈز اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا ۔ واقعہ میں دونوں جانب سے سو سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ۔ متنازع سرحدی علاقے میں داخل ہونے پر چینی فوج کی طرف سے بھارتی اہلکاروں کی درگت بنانے کے علاوہ بھارتی فوجیوں کو حراست میں لئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں ۔ چین نے کہاکہ بھارت نے سکم اور لداخ میں حقیقی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی ۔ بھارت نے متنازعہ علاقے کا سٹیٹس یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔ بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے فوجی اہلکار کی ہلاکت پر وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں وزیر اعظم سے سوالات کرنے سے نہیں روک سکتے ۔ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ جنگی صورتحال کا ذمہ دار نریندر مودی کی سرکاری کو قرار دیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم پر افواج کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگایا ۔ کانگریس سربراہ راہول گاندھی نے کہا کہ مودی سرکار نے آل پارٹیزکانفرنس بھی نہیں بلائی جو اس بات کا اظہار ہے کہ انہوں نے معاملے پرسیاست کی ہے ۔ حکمران جماعت کی جانب سے مسلح افواج کی قربانیوں کو سیاست کی نذر کرنے پر 21 جماعتوں کے اجلاس میں گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ نیشنل سیکیورٹی کو تنگ سیاسی فکر سے لازمی طور پر باہر نکلنا چاہیے ۔ دوسری طرف نیپال نے کالا پانی کے تنازعہ پر بھارتی آرم چیف منوج مکنڈ نروانے کے بیان کو اپنے عوام کی توہین قرار دیدیا ہے ۔ نیپال کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع ایشور پوکھرل نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالا پانی کے تنازعہ پر بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان سے نیپالی گورکھوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ بھارتی آرمی چیف نے چین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اترکھنڈ میں تعمیر کی جانے والی نئی سڑک پر نیپال کے اعتراضات کسی کی ایماء پر ہیں ۔ چین نے تبت کے علاقے میں کی گئی بڑی فوجی مشقوں کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں جنگی طیاروں ، راکٹ فورسز، ایئر ڈیفنس ریڈارز، جیمرز سمیت ہر شعبے نے حصہ لیا، یہ بھی چین کی طرف سے ایک پیغام ہے ۔