- الإعلانات -

حکومت کاکرپشن کے خاتمے کے لئے پختہ عزم

قیام پاکستان سے لیکرآج تک اورپھرگزشتہ بیس سالوں سے جس طرح ملک میں کرپشن ہوئی، سرعام عوامی مسائل کو لوٹاگیا اور ہرجائز وناجائز ذراءع سے رقم بیرون ملک منتقل کی گئی اس کاخمیازہ ملکی معیشت اورعوام کوبھگتناپڑا ۔ آج نتیجہ یہ ہے کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے، ادارے کنگال ہوگئے،کئی توبند ہوگئے ، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو قوم نے مینڈیٹ ہی کرپشن کے خاتمے کے نعرے پردیاتھا ۔ کرپشن ختم کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان بارہا اپنے عزم کا اظہارکرچکے ہیں اس سلسلے میں نیب بھی متحرک ہے ۔ کرپشن کی ایک انتہائی بری قسم منی لانڈرنگ ہے ۔ گزشتہ روز مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کر تے ہو ئے کہا کہ نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور انکے بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے شہبازشریف منی لانڈرنگ کے رنگ لیڈر ہیں انہیں مثال بنائیں گے رمضان شوگر ملز کے11ملازمین کے اکاءونٹس کے ذریعے ساڑھے 9 ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی ۔ نیب کا ریفرنس 55 والیمز اور 25 ہزار صفحات پر مشتمل ہے جو کہ ٹھوس دستاویزی شواہد پر مبنی ہے، اس ریفرنس میں 16 افراد نامزد ہیں جن میں سے 6 کا تعلق شہباز شریف خاندان سے ہے، 10 ملزمان ان کے آلہ کار ہیں ، اس کیس میں 4 افراد اپنا گناہ تسلیم کرتے ہوئے سلطانی گواہ بن گئے ہیں ، 3 کمپنیاں بھی اس منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا حصہ ہیں ، کلرک کے اکاءونٹس سے9ارب ٹرانسفر ہوئے نثارگل اور علی احمد کے نام استعمال کرکے ایک کمپنی بنائی گئی ، جوسی ایم سیکر ٹریٹ کے ملازم تھے، دوسری کمپنی اس شخص کے نام پربنائی گئی جو بیس 25 ہزار روپے تنخواہ کا ملازم ہے ، ان کے 11 ملازمین نے ساڑھے 9 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی ، ملک مقصود کی ماہانہ تنخواہ 16 ہزار ہے اس کے اکاءونٹ میں 2;46;3ارب روپے ڈالے گئے ، کمپنی کے ایک شخص نے ایک کروڑ روپیہ حمزہ شہباز کودیا ، اسے پنجاب بیت المال کا سربراہ لگایا گیا ، 2 کیش بوائے شعیب قمراورمسرور زیر حراست ہیں ،ڈی ایچ اے میں 2 گھربھی اسی ٹی ٹی سے خریدے گئے، جبکہ تہمینہ درانی کو جو گھرتحفے میں دیا گیاوہ بھی ٹی ٹیز کی رقم سے خریداگیا، شہبازشریف کی امپورٹیڈ لینڈ کروزر کی رقم ٹی ٹی کی رقوم سے ادا کی گئی ، 177 جعلی ٹی ٹیز بھی نیب ریفرنس کا حصہ ہیں ، ایف آئی اے شوگر کمیشن رپورٹ کے سلسلہ میں تحقیقات کر رہی ہے، منی لانڈرنگ کی رقم شہباز شریف اور ان کے خاندان نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کی ۔ یہ رمضان شوگر ملز شہباز شریف فیملی کی ملکیت ہے، حمزہ ، سلمان شہباز اس کا کاروبار دیکھ رہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مشیربرائے احتساب کے الزامات پر عوام کو یقین اس وقت آئے گا کہ جب ان کی تحقیقات مکمل ہوکر اس کانتیجہ بھی عوام کے سامنے آئے اورشہبازشریف اوراس کے خاندان کی طرف سے کی گئی مبینہ کرپشن کی رقم وصول کرکے خزانے میں جمع کرائی جائے اوراس کاریلیف عوام کو دیاجائے ۔ یہاں یہ امربھی قابل ذکرہے بلکہ اہم ہے کہ صرف شہبازشریف ہی نہیں گزشتہ دو سال میں درجنوں ایسی شخصیات کو حراست میں لیاگیا بعدازاں وہ باعزت رہابھی ہوگئیں ۔ عوام یہ جانناچاہتے ہیں کہ ان تمام شخصیات کے خلاف شروع کی گئیں تحقیقات کہاں تک پہنچیں ان کاکوئی نتیجہ کیوں نہیں نکلا اوراگرانہوں نے کرپشن کی تھی، منی لانڈرنگ کی تھی تو ان سے قومی رقوم کیوں نہیں برآمد کی گئی ۔ یہاں یہ بھی کہاجارہاہے کہ احتساب کے سلسلے میں قوانین کو مزیدسخت کیاجائے اور سالہاسال کی بجائے دنوں یاہفتوں میں ایسے مقدمات کا فیصلہ کرکے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور کرپشن کی رقم برآمدکرکے خزانے میں جمع کرائی جائے ۔

بلدیاتی اداروں کی اہمیت ناگزیر ہے

عوام کے مقامی ترقیاتی مسائل کے حل کے لئے بلدیاتی ادارے انتہائی اہم ہوتے ہیں انہی اداروں کو سیاست کی نرسری بھی کہاجاتاہے ۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیاگیا جس کی وجہ سے نہ پارلیمانی نظام مستحکم ہوا اورنہ ہی مقامی حکومتوں کے نظام کو چلنے دیاگیا ۔ ہرحکومت کو اس ڈر اور خوف کی خاطر اپنی موجودگی میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے کہ کہیں انہیں ناقص کارکردگی کی وجہ سے شکست کاسامنانہ کرناپڑے ۔ وزیراعظم عمران خان نے نیا اور جدیدبلدیاتی نظام لانے کاوعد ہ بھی کیا مگردوسال ہوگئے ہیں بلدیاتی اداروں کی مدت پوری کرتے ہوئے نیانظام تو دور کی بات مروجہ نظام کے تحت بھی انتخابات نہیں ہوسکے جس کانتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بلدیاتی لیول کے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود میونسپل کارپوریشن کوجس کاوجود تو موجود ہے مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے شہرگندگی کاڈھیربناہواہے ۔ بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کو اختیارات نہ دینے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ بلدیاتی اختیارات صوبائی یا وفاقی حکومت کو دینا آرٹیکل 140 کی خلاف ورز ی ہے، مقامی حکومتوں کا ہونا کسی کی چوائس نہیں لازمی ہے، کراچی کا موجودہ نظام عوام کو فائدہ نہیں دے رہا، میئر کراچی نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا،سارا کھیل طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا ہے،کیا گارنٹی ہے مقامی حکومتیں اختیارات ملنے پر کام کرائینگی ۔ اختیارات کی بات کرنی ہے تو ذمہ داری اور احتساب کی بھی کرنا ہوگی، اصل مسئلہ اداروں میں رابطہ کی کمی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ کا بلدیاتی نظام تین میں ہے نہ تیرہ میں ، اسلام آباد میں بھی بلدیاتی اداروں کے درمیان اختیارات کا ٹکراءو رہتا ہے ۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کو اختیارات نہ دینے کیخلاف پاکستان تحریک انصاف ،ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ(ن)کے دانیال عزیز سمیت دیگر فریقین کی جانب سے دائر کی گئی پانچ درخواستوں کی سماعت کی تو وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما وسیم اختر ، مسلم لیگ(ن)کے رہنما احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر عدالت میں پیش ہوئے ۔

لائن آف کنٹرول پربھارت کی پھرگولہ باری،دوجوان شہید

پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے لائن آف کنٹرول کے دیواسیکٹر میں بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کرتے ہوئے پاک فوج کے دوجوانوں کو شہیدکردیاہے ۔ ایل او سی پرگزشتہ کچھ عرصہ سے بلا اشتعال گولہ باری بالخصوص سویلین آبادی کونشانہ بنانابھارت نے اپناوطیرہ بنارکھاہے جس سے مقامی سویلین آبادی اورمتاثر اوران کی قیمتی املاک تباہ ہوگئیں ۔ پاکستان کے مسلسل احتجاج کے باوجوددبھارت ہٹ دھرمی سے بازنہیں آرہا اوردوہزاردوکے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل گولہ باری کرنے کاوطیرہ بنارکھاہے ۔ گزشتہ روز بھی ایسا ہی ہوا ۔ بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کے دیوا سیکٹر پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے 2 جوان شہید ہوگئے، پاک فوج کی بھر پور جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کو شدید جانی اور مالی نقصان پہنچا ۔ 2020 میں بھارتی فوج کی طرف سے اب تک 2333 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں گئیں جس میں آزاد کشمیر کے شہریوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچاچکا ہے ۔ دریں اثنا آزاد کشمیر صدر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر بلا جواز اور بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کی اور فائرنگ کے نتیجہ میں پاک فوج کے دو جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اظہار کرتے ہوئے اسے بھارتی فوج کی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے بھارتی فوج کی اس کارروائی کو مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اس طرح کی ناپاک سازشوں سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا ۔ صدر نے بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کو اپنی جان کی قربانی دینے پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے خاندانوں سے دلی تعزیت اور گہری ہمدردی کا اظہار کیا ۔