- الإعلانات -

عندلیب گلشن ِ رسولﷺ

عرش ہاشمی جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے اعلیٰ حسب نسب کے مالک ہیں ، سونے پر سہاگہ یہ کہ علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ مذہب سے لگاوَ انہیں ورثے میں ملا ،شعر موزوں کرنے کی صلاحیت بھی خداداد ہے ، عہد شباب میں غزل کہہ سکتے تھے لیکن سرکار دو عالم ﷺ سے والہانہ عشق نے ان کی صلاحیتوں کو نعت گوئی کی طرف مائل کیا ۔ ان کے اشعار میں سرکارﷺ سے قلبی تعلق بحر بیکراں کی طرح موجزن ہے ۔ صاحبِ گنبد خضرا;248; کے دیدار اور وہاں کی نورانی ٹھنڈک کے طلب گار ہے ۔ اکثر نعت کا اختتام مدینے کی حاضری کیلئے التجا پر ہوتا ہے ۔ ’’درود اُن پر سلام اُن پر‘‘ کے مطالعے سے نہ صرف سیرت کے وسیع پہلووَں کا پتہ چلتا ہے بلکہ سوز ، گداز ، سلاست ، روانی ، سوچ کی بلند پروازی الفاظ کی بندش ، ادب ، احترام ایک قرینے سے جھلکتے دکھا دیتے ہیں ۔ نعت نبیﷺکہنے کیلئے جس ادب کا ہونا ضروری ہے، عقیدت کی کیفیات نے اسے بے قابو نہیں ہونے دیا ۔ الفاظ کا چناوَ موضوعات کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے ۔ شاعری کے سبھی تقاضوں کا انہوں نے بھر پور خیال رکھا ہے ، مختصر بحروں میں لکھی گئی نعت بھی اتنی ہی پر اثر ہے جتنی طویل بحروں کی نعت ۔ خیال کی وسعت اور گہرائی نے چار چاند لگا دیئے ہیں ۔ حمد اور نعت کہنا انتا آسان نہیں لیکن عرش ہاشمی مطالعہ کے خزینے سمیٹتے ہوئے سیرت اور کردار مصطفیٰ ;248; پر اتنی آسانی سے عقیدت کے گہر نچھاور کرتے ہیں کہ انسان تعریف کے بغیر نہیں رہ سکتا، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ سیرت مطہرہ کی تابانیاں نعت کے ہر شعر سے جلوے بکھیرتی ہوئے محسوس ہوتی ہیں ۔ کمال یہ ہے کہ حمد اور نعت کے مابین جو فرق ہے ان حدود کا خیال انہوں نے بہت خوبی سے قائم رکھا ہے ۔ صاحب زبان ہونے کے ناطے عرش ہاشمی نے مدحت اور توصیف میں الفاظ کے استعمال اور چناوَ میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے ۔ مجموعہ کلام پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک عاشق رسول;248; نے اپنے تعلق کا اظہار قلبی، روح کی اتھاہ گہرائیوں سے ادب احترام اور دائمی غلامی کی نمایاں خصوصیات کے ساتھ کیا ہے ۔ یہ شعر ملاحظہ فرمائیں :

ہم خوش نصیب ہیں ہ میں وہ رہنما ملا

انسانیت کو جس سے خود اپنا پتا ملا

دوسری نعت میں اظہار کچھ اس طرح کیا

جھکاؤں سر تو وہ نقش قدم ہو پیش نظر

قلم اٹھاؤں تو ان کی ثناء بیان کروں

دوسری جگہ کہا

عرش جھکتی ہے جبیں میری انہی کے در پر

یہ تعلق تو بہر حال ہے میرا انکا

تعلق پر ناز بھی ہے اور اس کو فخر سے بیان کا سلیقہ بھی ہے ۔ سرکار دو عالم ﷺکی عظمت کو

بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں

ہم بھی شیدا ہیں پر ہم لوگ ہیں کس گنتی میں

سب سے پہلے ہے خدا چاہنے والا ان کا

اپنے فن کو سرکار;248; کی غلامی کا پیر ہن پہناکر فخریہ کہا

جز مدحت نبیﷺ نہ لکھے گا کوئی سخن

مجھ سے مرے قلم کا یہ پیمانِ نعت ہے

ایک طویل بحر کی نعت میں سوچ اور فکر کی پاکیزہ اڑان گنبد خضرا تک پہنچنے کیلئے بیقرار نظر آئی ہے

خیالِ شاخ پہ جیسے کوئی کلی چٹکی امید طیبہ رسی

کہ جیسے ذہن دریچے میں پھرکرن چمکی امید طیبہ رسی

سرکارﷺ دوعالم سے عشق اور مدینہ پاک کی حاضری نوک قلم پر اشکوں کی طغیانی کیساتھ رقص کرتی ہوئی لگتی ہے ۔

کب دیکھیں گی آنکھیں در و دیوار مدینہ

کب پائیں گی یہ صبح پر انوار مدینہ

ادب ، احترام کی انتہا اس شعر میں عیاں ہے ۔

جالیوں کے سامنے آکر ہوئے ہیں لب خموش

آج ٹھہری چشم ترَ کی ذمہ داریَ گفتگو

ایک اور جگہ سرکار ;248; کے مقام کے بارے میں کچھ اس طرح اظہار کیا ۔

آپﷺ کو عام بشر جو جانے

میری نظروں میں وہ انسان نہیں

عرش ہاشمی کا ترنم بھی شاعرانہ انداز کا ہے ۔ کئی دفعہ مجھے انہوں نے ترنم سے اپنی تازہ نعت ٹیلیفون پر سنائی تو لطف دوبالا ہوگیا ۔ ان کے اشعار میں عجز وانکساری اتباع رسول;248; کا شعور بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ یوں کہئے کہ ’’ درود اُن پر سلام اُن پر‘‘ عرش ہاشمی کا مجموعہ کلام عقیدہ و عقیدت کا آئینہ ہے ۔ کسی زمانے میں نعت گو شعرا بہت کم تھے ۔ کبھی کبھار اخبار کے جمعہ یا پھر ادبی اڈیشن میں نعت چھپ جایا کرتی لیکن وقت کے ساتھ ثنائے رسولﷺ کہنے والوں کی تعداد بڑھتی رہی ، انفرادیت سے اجتماعی محافل نے نعت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ یہ مقدس سفر ادبی تنظیموں کے ذریعے رواں دواں ہے ۔ اسلام آباد جیسے سنگ خشت کی طرح بے جان شہر میں عرش ہاشمی نے محفل نعت کی بنیاد 1989;247; میں رکھی جو کہ نعتیہ ادب کی اولین تنظیم ہے ۔ اس وقت سے لیکر آج تک تسلسل کیساتھ نعتیہ مشاعروں کا انعقاد اسلام آباد اور اس کے نواح میں ہورہا ہے ۔ عرش ہاشمی محفل نعت کے سیکرٹری ہیں ،اپنی تمام تر صلاحیتوں کیساتھ وہ شب روز اس تنظیم کی سرگرمیوں کو کامیاب بنانے میں مصروف ہیں ۔ تعریف کے قابل یہ بات بھی ہے کہ عرش ہاشمی اس تنظیم کے تحت ہونے والا نعتیہ مشاعروں کا ایک مکمل محاکمہ پیش کرچکے ہیں ۔ انہیں یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ محفل نعت کی شاخ حسن ابدال میں ذوالفقار دانش کی زیر نگرانی قائم کی ،ان کی وفات کے بعد جناب حافظ عبدالغفار واجدمحفل نعت کی سرگرمیوں کا کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مصروف ہیں ۔ حال ہی میں خواتین نعت گو شعراء کیلئے محفل نعت کے بینر تلے شاخ قائم کرچکے ہیں ۔ پہلا مشاعرہ گزشتہ جمعتہ المبارک مورخہ 18ستمبر 2020جی الیون تھری اسلام آبا د میں منعقد ہوا جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کی نعت گو شاعرات نے جوش ، خروش سے حصہ لیا اور عرش ہاشمی کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے خواتین کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ سرکار دو عالمﷺ سے اپنی عقیدت ، احترام اور غلامی کی کیفیات کو منظوم بیان کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کردیا ۔ امید ہے عرش ہاشمی کی راہبری میں محفل نعت کی خواتین شاخ راولپنڈی اسلام آبا دکی شاعرات معیاری نعتیہ کلام پیش کر سکیں گی ۔ عرش ہاشمی سرکار;248;کی مدح سرائی میں نعت کے فروغ کیلئے جنون کی حد تک مصروف ہیں ، یہ حقیقتاً صاحب دل نعت گو شاعر ہیں جنہوں نے تن من دھن اسی کام میں لگایا ہوا ہے ، یہی وجہ ہے آپ بے لوث خدمت کے ذریعے نعت میں نمایاں مقام حاصل کرچکے ہیں ، اللہ ان کی کاوشوں کو قبولیت کا شرف عطا فرمائے ، یہاں میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ عرش ہاشمی نے اپنے مجموعہ کلام کے آخر میں حضرت بی بی عائشہ صدیقہ، نواسہ رسول سید نا امام حسین ;174; شہیدان کربلا خلفائے راشدین حضرت ابوبکر صدیق ;230; ، حضرت عمر فاروق;230;،حضرت عثمان غنی;230;اور مولائے کائنات داماد رسول حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا ;230;کے حضور پر اثر اور کیف آفرین گل ہائے عقیدت پیش کئے ہیں ، بعض اشعار میں انہوں نے اپنے پیرو مرشد حضرت مولانا محمد الیاس قادری عطاری کے زیر سر پرستی چلنے والی دعوت اسلامی کی کارکردگی کو بھی خوب سراہا ہے ۔ آخر میں عرش ہاشمی کے نعتیہ کلام کا مجموعہ درود ان پر سلام ان پر کے چند اشعار قائرین کی نذر کرنا چاہوں گا جیسے بلند پایہ تخلیق کا ہلکا سا تعارف سمجھ لیں ۔

میں مدینے جو پہنچ جاؤں گا ہو گا محسوس

اپنے گھر جیسے سرِشام پرندہ پہنچے

سر اُنﷺ کے در پر جھکایا تو سرفراز ہوا

میں اُنﷺ کی نسبت عالی سے معتبر ٹھہرا

دریار شہ ﷺ میں بھی بوجہل ہی رہا بوجہل

چمن میں رہ کے بھی کانٹا گلاب ہو نہ سکا