- الإعلانات -

مودی پر دہلی فسادات کو ہوا دینے کا الزام ثابت

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کی جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے دارالحکومت میں رواں برس کے اوائل میں متنازع قانون کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کے دوران فسادات میں دہلی پولیس انسانی حقوق کی سنگین خلاف پامالی کی مرتکب ہوئی ۔ دہلی پولیس نے احتجاج کرنےوالوں کو بری طرح مارا پیٹا، زیر حراست افراد پر بہیمانہ تشدد کیا اور بعض مقامات پر ہندو جتھوں کے ساتھ ملکر فسادات میں حصہ لیا ۔ مسلمانوں کی جائیدادوں اور کاروبار کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا ۔ پولیس نے انسانی حقوق کے نمائندوں ، اساتذہ اور طلبہ کو بڑی تعداد میں گرفتار کیا اور ان میں بھی اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس جانب بھی عالمی توجہ مبذول کرائی کہ فسادات کے دوران نفرت انگیز تقاریر کرنےوالے اور ان فسادات کو ہوا دینے والے کسی ایک سیاسی رہنما کیخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی ۔ پولیس پر قوانین کی خلاف ورزی کے درجنوں الزامات کے باوجود کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی پانچ ماہ گزرنے کے بعد محکمہ کی سطح پر تحقیقات کا آغاز ہوا ۔ ویسے بھی بھارت کے دارالحکومت دہلی کی ریاستی پولیس براہ راست مرکزی وزرات داخلہ کے ماتحت آتی ہے اور بھارت میں وزارت داخلہ کا قلم دان حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سخت گیر رہنما امیت شاہ کے پاس ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دہلی فسادات کی تحقیقات ہونا چاہیے تاکہ فروری کے آخر میں نئے شہریت قانون کےخلاف احتجاج کے بعد ہونےوالے ان فسادات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا علم ہو ۔ ایمسنٹی انٹرنیشنل انڈیا بھارتی وزارت داخلہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ دہلی فسادات کی تفصیلی، شفاف اور غیرجانبدار تفتیش کی جائے، جس میں دہلی پولیس کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مختلف سیاسی رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر کے الزامات کو جانچا جائے ۔ شہریت بل پر ہونےوالے دہلی فسادات بارے حقیقت اب ایک کتاب کی شکل میں سامنے آ گئی ہے ۔ یہ کتاب شمال مشرقی دہلی میں 24 فروری کو ہونےوالے فسادات پر اقلیتی کمیشن کی جانچ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر لاک ڈاوَن کے دوران لکھی گئی ہے ۔ کتاب بھارتی پولیس سروس کے ریٹائرڈ افسر وجے سنگھ نے تحریر کی ہے اور اس کی تدوین نیشنل بک ٹرسٹ کے ایڈیٹر اور صحافی پنکج چترویدی نے کی ہے ۔ اس کتاب میں دلی فسادات کی جانچ ایک منصفانہ ایجنسی سے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ لوک مترا پبلشر کی جانب سے شاءع یہ کتاب تحریر کرنے میں نو دیگر صحافیوں اور کارکنوں نے تعاون کیا ۔ اس فساد میں مجموعی طور پر 751 فوجداری مقدمات درج کیے گئے تھے اور فسادات میں 52 افراد ہلاک اور 473 افراد زخمی ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ 185 مکانات تباہ اور 19 مذہبی مقامات کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا ۔ اقلیتی کمیشن کی جانچ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ فروری میں دہلی کے شمال مشرقی ضلع میں ہونےوالے فسادات طے شدہ اور منظم نظر آتے ہیں ۔ یہ فساد اقلیتی فرقے کو اور نشانہ بناکر کئے گئے تھے ۔ دہلی پولیس نے فسادات سے متعلق اقلیتی کمیشن کے کسی خط کا جواب تک نہیں دیا ۔ اقلیتی کمیشن نے حکومت اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں 15 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے کر فسادات کی تحقیقات کرائی جائے ۔ یہ ٹیم فسادات کے دوران ایف آئی آر نہ لکھنے، چارج شیٹوں کی نگرانی، گواہوں کی حفاظت ، دہلی پولیس کے کردار اور اس کے خلاف مناسب کارروائی جیسے معاملات میں جانچ کر کے اپنا فیصلہ دے ۔ دہلی پولیس نے ایک حلف نامے میں کہا کہ بی جے پی لیڈر کپل مشرا، پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکرے فسادات کی آگ بھڑکانے میں شامل نہیں تھے ۔ کتاب کے ایڈیٹر پنکج چترویدی کا کہنا ہے کہ دہلی فسادات انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہیں ۔ مذہبی، زبان، عقائد اور رنگ جیسی عدم مساوات کے ساتھ اختلاف ہونا فطری ہے لیکن اگر حکومت اور پولیس میں کوئی طبقہ فرقہ وارانہ ہو جاتا ہے تو پھر اس کا اثر براہ راست غریب اور ناخواندہ افراد پر ہوتا ہے ۔ ایک معروف بھارتی پبلشر نے دہلی فسادات پر لکھی گئی ایک اورکتاب ’’دہلی فسادات 2020‘‘ کی اشاعت روکنے کا اعلان اس وجہ سے کہا کہ اس کتاب میں دہلی فسادات میں درجنوں افراد کی ہلاکت اور تشدد کا الزام مسلم طلبہ اور سیکولر کارکنوں پر عائد کیا گیا تھا ۔ اس کتاب کے مصنف مونیکا اروڑا، سونالی چتلکار اور پریرنا ملہوترا ہیں ۔ ’دہلی فسادات 2020ء، ان کہی کہانی‘ نامی کتاب کے حوالے سے اس وقت ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا جب اس کتاب کے اجراء کے حوالے سے ایک مجوزہ تقریب کے ایک پوسٹر پر حکمران بھارتیا جنتا پارٹی کے عہدیدار کاپِل مشرا کو مہان خصوصی دکھایا گیا تھا ۔ ایمسنٹی انٹرنیشنل کہہ چکی ہے کہ سیاسی رہنماؤں جن میں مشرا بھی شامل تھے، نے اپنی تقاریر میں شہریت قانون پر جاری احتجاج کے دوران عوامی میں تقسیم کو ہوا دی تھی ۔ دہلی فسادات میں ملوث کیے گئے اٹھائیس سالہ الیاس کو پانچ مہینے سے زیادہ جیل میں رکھنے کے بعد ضمانت پر جیل سے رہا کر دیا گیا ۔ رہائی کے بعد الیاس نے اپنی آپ بیتی بتاتے ہوئے دہلی فسادات اور اس کے بعد بھارتی حکومت سے متعلق اہم انکشافات کیے ۔ مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران دو سکولوں کی ملکیت کو تباہ کرنے کے الزام میں الیاس کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنا یا گیا ۔ الیاس کا کہناتھا جیل میں مجھے اور دوسرے مسلمانوں پر یہ کہہ کر تشدد کیا جاتا رہا کہ;34;یہ مانگ رہے تھے نا آزادی ;34; ۔ الیاس نے انکشاف کیا کہ پولیس نے جب پہلے معاملے میں الیاس کو گرفتار کیا تب انہیں دیال پور پولیس تھانے لے جا یا گیا ۔ انہیں بھیڑ کے تشدد کا سی سی ٹی وی فوٹیج دکھا یا گیا اور الزام لگا یا گیا کہ وہ بھی بھیڑ کا حصہ تھے ۔ جب الیاس نے اس جگہ پر ہونے سے انکار کیا تو پولیس نے مبینہ طور پر ان سے کہا کہ اگر وہ ویڈیو میں سے 10 لوگوں کے نام بتا دیں تو انہیں فورا رہا کر دیا جائے گا ۔ جیسے ہی میں نے کچھ ہندو لوگوں کے نام دئیے تو پولیس نے کہا مسلمان نام بتا ۔ الیاس کےخلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود انہیں منڈولی جیل بھیج دیا گیا ۔ الیاس نے واضح کہا کہ میرے مذہب کو میرا جرم بنا دیا گیا ۔