- الإعلانات -

ایل او سی پر کلسٹر بموں کی بارش

گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے 24 ممالک کے سفرا اور دفاعی اتاشیوں کے وفد کو ایل او سی کے جوڑا سیکٹر کا دورہ کرایا اور انہیں بریفنگ دی ۔ ایل او سی کا دورہ کرنےوالے وفد میں آزربائیجان، بوسنیا، یورپی یونین، پرتگال، سعودی عرب، جنوبی افریقا، ترکی، فلسطین، یونان، آسٹریلیا، ایران، کرغزستان، عراق، برطانیہ، اٹلی، پولینڈ، ازبکستان، جرمنی، سوءٹزر لینڈ ، فرانس، مصر، لیبیا ، یمن اور افغانستان کے سفیر اور دفاعی اتاشی شامل ہیں جبکہ عالمی ادارہ برائے خوراک کے نمائندے بھی وفد کا حصہ ہیں ۔ غیر ملکی سفیروں اور دفاعی اتاشیوں کو بتایا گیا کہ بھارتی قابض افواج کنٹرول لائن پر دانستہ شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں ۔ بھارتی فوج سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی میں بھاری ہتھیار استعمال کر رہی ہیں ۔ غیر ملکی سفیروں اور دفاعی اتاشیوں کے وفد نے خود بھارتی فورسز کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا اور بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے متاثرہ افراد سے ملاقات بھی کی ۔ مقامی لوگوں نے وفد کوبھارتی فورسز کی جانب سے سول آبادی پر استعمال ہونےوالے کلسٹر بم اور مارٹر گولے بھی دکھائے گئے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 31،30 جولائی کو نیلم ویلی میں کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کیا ۔ آرٹلری کے ذریعے کلسٹر ایمونیشن پھینکا گیا اور شہریوں کو ٹارگٹ کیا گیا ۔ بھارت جان بوجھ کر شہری آبادی کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بناتا ہے ۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کلسٹر ایمونیشن کا استعمال ممنوع ہے ۔ بھارتی فوج بچوں اور معصوم شہریوں پر کلسٹر بم استعمال کر رہی ہیں ۔ بھارتی فوج جان بوجھ کر ایل او سی پر شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے جب کہ پاک فوج صرف بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سنگین ہے ۔ 2014 سے سیز فائر معاہدے کے خلاف ورزیاں بڑھ گئی ہیں ۔ بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی پر فائرنگ کر رہی ہیں ۔ بھارتی فوج 2020 میں اب تک 2333 بار ایل او سی کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو چکی ہے ۔ جس میں 18 شہری شہید اور 185 زخمی ہوئے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے جب کہ کشمیر کی صورتحال کے باعث پورا خطہ خطرات سے دو چار ہے ۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حل نکالا جائے ۔ بھارتی اشتعال انگیزیاں اقلیتوں پر ظلم سے توجہ ہٹانے کےلئے ہیں جبکہ عالمی تنظی میں خاص طور پر یو این ایچ آر نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو بے نقاب کیا ۔ اس سے قبل اگست کے مہینے میں پاکستان نے غیر ملکی میڈیا کو ایل او سی کا دورہ کرنے کی دعوت دی ۔ جس پر بین الاقوامی میڈیا اور یو این مشن کی پاکستان آمد اور ان کو ایل او سی اور مقامی آبادی تک مکمل رسائی دی جا رہی ہے ۔ میڈیا کو پونچھ سیکٹر پر بھارتی علاقہ دکھایا گیا جہاں سے اشتعال انگیزی کی جارہی ہے ۔ بھارتی فوج شہری آبادی کو بھاری ہتھیاروں ، مارٹر اور کلسٹر سے نشانہ بناتی ہے ۔ میڈیا کو بھارت کی طرف سے سرحد کی نگرانی کے نظام کو بھی دکھایا گیا ۔ غیرملکی میڈیا نے ایل اوسی پر آمنے سامنے موجود فوجی چوکیاں بھی دیکھیں ۔ غیرملکی صحافیوں نے ایل او سی پر 3،4کلومیٹردوراینٹی انفلٹریشن گرڈ بھی دیکھے ۔ گرڈزپربارودی سرنگیں ، زیرزمین سینسر ، آبزرویشن سسٹم اورریڈارموجود تھے ۔ مقبوضہ کشمیرکی حالیہ صورتحال اور بھارتی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر انٹرنیشنل میڈیا بھی بول پڑا ۔ غیرملکی صحافی بلال ایستال کا کہنا تھا کہ چری کوٹ سیکٹر کادورہ کیا ۔ لوگوں سے ملاقات کی، یہاں رہنے والے لوگ بھارتی فوج کی فائرنگ سے متاثر تھے ۔ ایل اوسی پر رہنے والے لوگوں کے تاثرات کوسمجھا ۔ ایک چھوٹے سے لڑکے کا انٹرویو کیا جوزخمی تھا ۔ زخمی بچے کے کاندھے میں گولی لگی تھی ۔ مجھے بہت دکھ ہوا ۔ ہ میں لوگوں سے بات چیت کے دوران مکمل آزادی حاصل تھی ۔ ہم ان لوگوں کی آواز دنیا تک پہنچائیں گے ۔ الجزیرہ ٹی وی کے صحافی احمد برکات نے کہا کہ یہ دورہ ہمارے لیے بہت مفید اور معلوماتی تھا ۔ ہم ان لوگوں کا دکھ محسوس کرتے ہیں ۔ یو این مبصرین ایسے معاملات کے حل کیلئے کردار ادا کریں ۔ غیر ملکی صحافی کوئی آر یو کا کہنا ہے کہ میں نے چیری کوٹ میں رہنے والے لوگوں کو دیکھا، جو ہندوستانی فائر سے متاثر تھے ۔ اس بار میں ایل او سی کی صورتحال کے بارے میں زیادہ واضح ہوں اور اس صورتحال میں رہنے والے لوگوں کے تاثرات کو سمجھی ۔ دوسری طرف بھارت نے یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوترس کی اپیل کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔ یو این سیکرٹری جنرل نے کرونا کے پیش نظر عالمی سطح پر جنگ بندی کی اپیل کی تھی لیکن اس کے برعکس بھارتی فوج شہری آبادی پر اشتعال انگیزیاں جاری رکھے ہوئے ہے، بھارت کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو ایل او سی پار دوسری بار بھی اجازت نہیں دی گئی تاہم پاکستان نے مکمل رسائی دیدی ۔ یو این مشن بھارتی اجازت نہ ہونے کے سبب ایل او سی کے پار کام نہیں کر سکتا ۔ کچھ عرصہ قبل بھارت نے فرانسیسی صحافی پال کومیٹی کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی ویڈیو بنانے پر 10 دسمبر 2017 کو سری نگر سے گرفتار کیا گیا ان کا قصور میرواعظ عمر فاروق سے ملنا اور بھارتی فوج پر پتھراوَ کی فلم بنانا تھا ۔ کومیٹی بھارتی قابض فورسز کی پیلٹ گنز کے شکار افراد سے بھی ملے تھے ۔ بھارت نے بعد ازاں فرانسیسی صحافی پال کومیٹی کو ملک بدر کر دیا تھا ۔ پال کومیٹی نے پاکستان سے بھی لائن آف کنٹرول تک آزادانہ رسائی مانگی جس پر پاکستان نے ایل او سی، قبائلی اضلاع اور واہگہ سرحد تک انھیں آزادانہ رسائی دی ۔ کومیٹی نے ‘کشمیر دنیا کے چھت پر جنگ’ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم کا اجرا کیا تھا جس میں انھوں نے بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل کا پردہ فاش کیا ۔ فلم میں پیلٹ گنز کے زخمیوں ، ایکسرے، بینائی کھونے والوں کی تصاویر استعمال کی گئی تھیں ۔ بچوں پر پیلٹ گنز کا استعمال، معذوری، پھیپھڑوں ، گردے، جگر میں سیسہ دکھایا گیا ۔ بھارتی فوجی جیپ کے آگے باندھے جانے والے کشمیری نوجوان کو بھی دکھایا گیا ۔ دستاویزی فلم میں ایسا معاشرہ دکھایا گیا جو مسلسل زیر نگرانی ہے ۔