- الإعلانات -

رقوم کی غیرقانونی منتقلی ۔۔۔ عالمی برادری کو اہم تجاویز

قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک کا نظام صحیح راستے پر گامزن نہیں ہوسکا ۔ اسی وجہ سے ترقی کے حالات بھی معدوم نظر آتے ہیں جو بھی حکمران آیا اس نے اپنے مفادات کے تحت قانون کو استعمال کیا لیکن ملک و قوم کی جانب کسی نے بھی قابل ذکر توجہ نہیں دی ۔ اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور عمران خان مسلسل کوششوں میں ہیں کہ کسی طرح اس ملک کو مسائل کے دلدل سے نکالاجائے جس کےلئے وہ دن رات کوششیں بھی کررہے ہیں ۔ سابقہ دور میں جس طرح لوٹ مار کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی ، جوبھی حکومت آئی اس نے ذاتی مفادات حاصل کئے ۔ سب سے بڑا مسئلہ اس ملک سے پیسہ لوٹ کربیرون ملک منتقل کیاگیا جس کی وجہ سے ہمارا ملک ترقی سے محروم رہا اورمسائل نے جنم لیا ۔ اس لئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ واءٹ کالر کرائم کے ذریعے ترقی پذیر ممالک سے سالانہ ایک کھرب ڈالر غیر قانونی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں منتقل ہو جاتے ہیں امیر ممالک غریب ممالک سے لوٹی گئی رقم فوری واپس کریں ترقی پذیر ممالک کو رقوم کی واپسی کیلئے قوانین بننے چاہئیں غریب اور ترقی پذیر ملکوں سے دولت کی غیر قانونی منتقلی کو فوری طور پر روکا جائے ۔ مالیاتی جرائم کا ارتکاب کرنےوالوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کےلئے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے دنیا میں بڑھتی غربت سے عالمی امن کو بھی خطرہ ہے، موجودہ عالمی نظام میں سرمائے کی غیر منصفانہ تقسیم بڑا مسئلہ ہے اور زیادہ تر دولت دنیا کے 26 امیر ترین افراد کے ہاتھوں میں مرکوز ہے ۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہر سال پانچ سے چھ سو ارب ڈالر کی ٹیکس چوری کرتی ہیں ہماری حکومت کو کرپشن کے خاتمے کا مینڈیٹ ملا ہے ۔ نیویارک میں بین الاقوامی مالیاتی احتساب اور شفافیت اور سالمیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح پینل کی عبوری رپورٹ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مزید کہا کہ رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے حوالے سے رپورٹ میں جو اعداد و شمار کئے گئے ہیں حیران کن ہیں ہر سال ایک کھرب ڈالر واءٹ کالر جرائم کرنے والوں کے ذریعے منتقل کئے جاتے ہیں ۔ 20 سے 40 ارب ڈالر کرپٹ واءٹ کالر جرائم کرنےوالوں کے ذریعے رشوت کی صورت میں وصول کئے جاتے ہیں جبکہ 7 کھرب ڈالر کی رقم محفوظ پناہ گاہوں میں رکھی جاتی ہے غریب اور ترقی پذیر ملکوں سے دولت کی غیر قانونی منتقلی کو فوری طور پر روکا جائے اور بین الاقوامی برادری کو اس سلسلے میں جامع حکمت عملی وضع کرنا ہو گی ۔ وزیراعظم نے 9 تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پہلی تجویز یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے چوری کئے گئے اثاثوں اور رشوت اور جرائم سے حاصل کی جانے والی رقم فوری طور پر واپس کی جائے اور ایسے ممالک جہاں جرائم اور کرپشن کی رقم محفوظ کی گئی ہے وہاں کے حکام اپنے مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کریں جو کہ اس طرح کی رقوم اور اثاثوں کو محفوظ کرتے ہیں ۔ کرپشن اور رشوت میں سہولت فراہم کرنے والوں کی کڑی نگرانی اور ان کےخلاف کارروائی کی جائے ۔ اس کے علاوہ اس کے علاوہ غیر ملکی کمپنیوں کے بینیفیشل اونرشپ سے متاثرہ اور دلچسپی رکھنے والی حکومتوں کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے ۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملٹی نیشنل کارپوریشنز کو ٹیکس سے بچنے کےلئے ٹیکس چوروں کی جنت میں جانے کا موقع نہیں دینا چاہیے ۔ رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی پر ٹیکس وہاں وصول کیا جائے جہاں سے یہ ریونیو حاصل ہوتا ہے نہ کہ کہیں اور ۔ غیر منصفانہ سرمایہ کاری معاہدوں کو منصفانہ بنانا ہو گا اور سرمایہ کاری معاہدوں کے تصفیے کے حوالے سے شفاف نظام وضع کرنا ہو گا ۔ غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی پر کنٹرول اور اس کی نگرانی کے لئے تمام سرکاری و غیر سرکاری باڈیز میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کو شامل کیا جائے ۔ اقوام متحدہ کو رقوم کی غیر قانونی منتقلی سے متعلقہ مختلف سرکاری و غیر سرکاری باڈیز کے کام کو مربوط بنانے اور اس کی نگرانی کےلئے میکنزم وضع کرنا چاہیے ۔ وزیراعظم نے جو اقدامات تجویز کئے ہیں ، ان پر عمل نہ کرنے سے امیر اور غریب کے مابین فرق بڑھتا جائے گا اور یہ خلیج بڑھتی رہی تو ترقی پذیر ممالک مزید مالی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے ۔

مہنگائی میں اضافہ۔۔۔عوام کے حال پررحم کیاجائے

عام ;200;دمی کوہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہوتی ہے مگر اس وقت موجودہ صورتحال بہت ہی گھمبیر ہے ۔ کبھی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ تو کبھی داءو ں کی قیمتوں میں ، جب چیزوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی عروج پر پہنچ جاتی ہے ۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عام آدمی کاخیال رکھے اورمہنگائی پرقابوپائے تاکہ لوگوں کی مشکلات کم ہوں نہ کہ اس میں اضافے ہو ۔ آئے روزمہنگائی کے مارے عوام پر مزید مہنگائی کے بم گرا دیئے گئے ہیں ۔ بجلی مزید مہنگی ہوگئی ہے ،نیپرا کی جانب سے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری کے بعد صارفین پر 165 ارب تک کا بوچھ منتقل ہوگا اور یہ رقم 12ماہ میں وصول کی جائے گی ۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر کوکنگ آئل ، گھی اور دودھ کی قیمتیں بڑھ گئیں ۔ آئل 17روپے ، گھی 4روپے ، برانڈ دودھ 5روپے لیٹر تک مہنگاہوگیا ، بچوں کے سیلریلز کی قیمت میں 20سے 38روپے تک اضافہ ہوا جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔ 94دواءوں کی قیمتوں میں 262 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔ بخار، سردرد، امراض قلب، ملیریا، شوگر، گلے میں خراش ، فلو، پیٹ درد ، آنکھ ، کان ، دانت منہ اور بلڈ انفیکشن کی دوائیں مہنگی ہوگئیں ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹرفیصل سلطان نے 94 ادویات کی قیمتوں میں ڈیڑھ تا 70 فیصد تک اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قیمتیں بڑھانے کے معاملے پر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے دباءو میں نہیں آئی، اہم ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھائی ہیں کہ لوگوں تک پہنچ سکیں جو دوائیں مہنگی ہوئیں وہ لاءف سیونگ اور پرانے فارمولے والی ہیں ، ان دواءوں کی قیمتوں پرمناسب تبدیلی نہ آنے سے یہ مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں اور غائب ہونے والی دوائیں بلیک میں ملنے لگتی ہیں ۔ ضروری تھا کہ دواءوں کی قیمتیں ایسی ہوں کہ سب کی پہنچ میں ہوں ، وہ ادویات جو لوگوں کو مہنگی مل رہی تھی اب با آسانی دستیاب ہوں گی، حکومت اور ڈریپ کا کام دواوں کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے، مارکیٹ میں ناپید دواءوں کی قیمت کو تھوڑے سے اضافے کی ضرورت تھی ۔ موجودہ حکومت کی طرف سے بجلی ،دواءوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کیاگیا اضافہ کسی بھی خطرے سے کم نہیں ہے کیونکۃ عام آدمی پہلے ہی دووقت کی روٹی کےلئے ترس رہاہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے ، طلب و رسد کا فرق مٹانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کرنے اور خصوصا ملاوٹ جیسی روش کا تدارک کرنے کو نظر انداز کیا جاتا رہاہے جس کی وجہ سے مسائل بڑھے ۔

سفیروں اور دفاعی اتاشیوں کے وفد کا ایل او سی کادورہ

پاکستان میں 24ممالک کے سفارتکاروں اور دفاعی اتاشیوں نے لائن آف کنٹرول کے جورا سیکٹر کا دورہ کیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیرملکی سفیروں کو ایل او سی کی صورتحال پر بریفنگ دی اور بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باعث ہونےوالے نقصان سے ;200;گاہ کیا ۔ بھارتی فوج شہری ;200;بادی پرکلسٹر بموں کا استعمال کرتی ہے ، بین الاقوامی قوانین کے مطابق کلسٹربموں کا استعمال ممنوع ہے ۔ رواں سال بھارت نے 2 ہزار 333 بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ۔ پاک فوج پروفیشنل فوج ہے جو کہ صرف فائرنگ کرنے والی بھارتی چوکیوں کونشانہ بناتی ہے جبکہ بھارتی فوج کی جانب سے شہری ;200;بادی کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ایل او سی کا دورہ کرنےوالوں میں ;200;ذربائیجان، بوسنیا، یورپی یونین اور پرتگال کے سفرا اور دفاعی اتاشی کے وفود شامل تھے جبکہ سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی اور فلسطین کے سفرا بھی موجود تھے ۔ یونان، ;200;سٹریلیا، ایران، کرغزستان، عراق، برطانوی، اٹلی، پولینڈ، ازبکستان، جرمنی، سوءٹزرلینڈ، فرانس، مصر، لیبیا، یمن اور افغانستان کے سفیروں نے بھی ایل او سی کا دورہ کیا ۔ عالمی ادارہ برائے خوراک کے نمائندے نے بھی ایل او سی کا دورہ کیا ۔ وفد نے بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزیوں کا جائزہ بھی لیا ۔