- الإعلانات -

عمران سے عمران تک

عمران اپنے 15 سالہ بیٹے احمد کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گھر جا رہا تھاکہ میانوالی بنوں روڈ پر پائی خیل کے قریب سریا کا لوڈ لوڈر رکشہ خراب کھڑا تھا شام اندھیری ہو چکی تھی،روڈ پر سیمنٹ سے بھرے ٹرک اور کھا د و چپسم کی گاڑیوں کی قطاریں روڈ پرتھیں ،بجری اور معدنیات کی گاڑیاں دھول اڑاتی میانوالی بنوں روڈ پر رواں دواں تھی ۔ روڈ تنگ اور سروس ہنگامہ خیز تھی،روڈ پر چڑیوں کی طرح اڑتے موٹر سائیکل دھول رواں دواں تھے ۔ میانوالی بنوں روڈ اس وقت موت کے کنواں کا منظر پیش کرتا ہے ۔ عیسٰی خیل کمر مشانی کالاباغ داوَدخیل پائی خیل سوانس دلیوالی روکھڑی شباز خیل کے علاوہ اس کے ہزاروں لوگوں کے علاوہ سیمنٹ فیکٹریوں ، کھاد فیکٹری سے سیمنٹ و کھاد کی لوڈ گاڑیاں روزانہ میانوالی بنوں روڈ پر دندناتی ہیں ۔ یہ روڈ ان علاقوں اور فیکٹریوں کے علاوہ بنوں کوہاٹ اور پشاور سے میانوالی کو لنک بھی کرتا ہے جہاں کی سیکڑوں کاریں بسیں ٹرک ٹریکٹر اور کو چز روزانہ میانوالی بنوں روڈ کو لتاڑتی ہیں ۔ بات عمران سے شروع ہوئی عمران گھر جاتے ہوئے خراب لوڈر سے اس وقت جاٹکرایا جب لوڈر روڈ پر خراب کھڑا تھا اور لمبے لمبے لوہے کے سلاخوں جیسے سریئے لوڈر سے باہر چھرے بن کر لٹک رہے تھے ۔ لوڈر خراب بھی تھا اور لوڈ بھی مگر ایک تو روڈ پر کھڑا تھا دوسرا سر یئے بھی باہر باڈی سے نکلے ہوئے تھے ۔ اندھیرا چھایا ہوا تھا کہ اچانک عمران کا موٹر سائیکل لوڈر سے باہر نکلے سرئیے سے گیا ٹکرایاکہ دو عدد سریئے ;200;ناً فاناً عمران کی چھاتی میں گھس گئے کہ اگلے ہی لمحے عمران کی چھاتی سے گزر کر احمد کی چھاتی میں جاگھسے ۔ یوں قیامت برپا ہوگی ۔ عمران اور احمد سریا میں ایسے لگے جیسے سیخ پر کباب ۔ حادثہ ہوتے ہی عجیب سماں تھا ۔ دو جوان لوہے کی سلاخوں میں ;200;ر پار ہو کر لٹک رہے ۔ ہر طرف ;200;ہ و پکار تھی عجیب سماں تھا کہ امداد کو ;200;نے والا ہر شخص موقع دیکھ کر بے حس ہوتا جاتا ۔ وقت گزرتا گیا;200;نے والوں کا رش بڑھتا گیامگر جو بھی ;200;یا بے سود اور بیکار ثابت ہوا کسی مسافر نے1122 پر کال کی اور حالات و واقعات بتائے تھوڑی ہی دیر میں 1122 کی گاڑیاں اپنے عملے سمیت پہنچی تو تب تک عمران اور احمد لوہے کی سلاخوں میں لٹکے کھڑے تھے ۔ شاباش عملہ 1122جنھوں نے لوہے کی سلاخوں کو کاٹ کر باپ بیٹے کو پہلے جدا کیا اور پھر لگے سریئے سمیت عمران و احمد کو ڈی ایچ کیو میانوالی لے ;200;ئے ۔ خدا خدا کر کے ڈی ایچ کیو پہنچے عمران اور احمد کے جسموں سے ڈاکٹروں نے ;200;پریشن کر کے سریئے نکا لے اور دونوں کی مصیبت سے جان چھوٹی کہ دیکھنے والوں کی بھی جان میں جان ;200;ئی ۔ شکر کہ ڈاکٹر بھی ہیں کہ جو لوگوں کو موت کے منہ سے نکال لاتے ہیں جو لوگوں کو نئی زندگیاں عطا کر دیتے ہیں ۔ یہ مسیحا ہیں کہ کیا ہیں جو کائنات کو کائنات بنائے ہوئے ہیں مگر کیا کریں ;238; کس کے سامنے ;200;نسو بہائیں ;238; کس کو شکایت لگائیں ;238; کس کو اپنے درد بتائیں ;238; میانوالی ایک انتہائی پسماندہ اور محرم علاقہ ہے جس کو درہ پاکستان کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔ جس سے گزر کر ہر بلوچ اور ہر سندھ اسلام ;200;باد پہنچ پاتا ہے ۔ مگر اقتدار اور مال کے پجاریوں نے درہ پاکستان کو جو محروم رکھا کہ ہر سہولت ہونے کے باوجود یہ خطہ زمین بنجر اور برباد رہا حادثات کا خاتمہ تو ناممکن ہے مگر ان میں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے مگر کون کوشش کرے گا،میانوالی کے چھوٹے سے ضلع میں سو کے قریب ٹریفک پولیس اہل کار ہیں جن کی تنخواہ تو ضرور محکمہ دیتا ہے مگر یہ کماوَپوت دونوں ہاتھوں سے لوگوں کو لوٹ کر قومی خزانہ بھرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ ان سب کا کام ٹریفک کنٹرول نہیں یہ مال بنانے قومی خزانہ بھرنے اور بےگناہ ڈرائیوروں سے روزانہ لاکھوں روپے نکال کر قومی خزانے میں ڈالنے میں مصروف ہیں ;46;میانوالی ٹریفک پولیس کا کام میانوالی کی ٹریفک کنٹرول کرنا نہ ہے ۔ نہ یہ کسی چوک پر نہ کسی تعلیمی ادارہ کے اس پاس اور نہ بازاروں کے شاہراہوں پر ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں بلکہ یہ ادارہ معصوم شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والا ادارہ بن چکا ہے اگر میانوالی کی ٹریفک پولیس اپنا کام کرتی تویہ لوڈروں والے ایسا سریا لوڈ کر کے لوگوں میں اموات تقسیم نا کرتے پھرتے ۔ عوام الناس نے بار بار ڈی پی او میانوالی کو شکایت لگائی کہ ٹریفک پولیس میانوالی میں معصوم شہریوں کو لوٹ کر قومی خزانہ بھرنے میں مصروف ہے اسے راہ راست پر لایا جائے ۔ ان سے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کا کام لیا جائے حتی کہ;828079; سرگودھا کو بھی کھلی کچہری میں پولیس لائن میانوالی میں ٹریفک پولیس میانوالی کی اس حرکت،بدمعاشی کی شکایت لگائی گئی جس کا نتیجہ صفر نکلا مگر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ۔ وزیراعظم عمران خان اگر ٹریفک پولیس کا قبلہ ٹھیک نا کیا گیا تو عمران اور احمد ٹریفک کی خرابی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے یہ شکایت کس کو لگائی جائے کہ ٹریفک پولیس کا ہاتھی عوام کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے اور یہ ادارہ اپنی نالائقی کی وجہ سے حادثات کا سبب بن رہا ہے ۔