- الإعلانات -

نواز شریف کی سیاست اور ریاست

پاکستان میں گزشتہ عام انتخابات سے پہلے میاں محمد نوازشریف 13 جولائی 2018 کو اپنی علیل شریک حیات کلثوم نواز کو لندن کے ہارلے کلینک میں بستر مرگ پر چھوڑ کر جب پاکستان جا رہے تھے تو یہ قیاس ;200;رائیاں کی جارہی تھیں کہ نوازشریف کی وطن واپسی کسی ڈھیل یا این ;200;ر او کا نتیجہ ہے نوازشریف کو اڈیالہ جیل تو سامنے نظر ;200;رہی تھی لیکن وہ پاکستان واپس نہ جاتے تو ان کی اپنی پارٹی اور بیٹی کی سیاست ختم ہو جاتی یہ میرا گمان تھا اسی روز واپسی سے قبل ;200;خری دفعہ میں نے لندن ہارلے کلینک کے باہر میاں نوازشریف سے بیگم کلثوم نواز کی صحت کی بارے میں پوچھا تاکہ میں انکے چہرے کے تاثرات جان سکوں میاں نواز شریف کے چہرے پر پریشانی اور فکر کے گہرے ;200;ثار تھے انہوں نے مجھے حیرت سے دیکھا اور کہا دعا کریں ویسے ایون فیلڈ ہاءوس کے باہر میاں نواز شریف کی کو ریج کے لئے جانے کا درجنوں بار اتفاق ہوا یہ میری زندگی میں کالے پانی میں کھڑے ہوکر رپورٹنگ تھی اس کی وجوہات کیا تھیں پھر سہی;46; لیکن میاں نواز شریف پاکستان پہنچے انکے ذہن میں تھا کہ پنچاب سے شہبازشریف ایک انسانوں کا سمندر لے کر لاہور ائیرپورٹ پر ;200;ئیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا میاں نواز شریف کے جی ٹی روڈ مارچ کو جس طرح پزیرائی حاصل نہیں ہو سکی تھی ویسے ہی شہباز شریف نے انکے استقبال میں بھی زیادہ پھرتی نہیں دکھائی ;200;ڈیالہ جیل یا کوٹ لکھپت جیل سے عارضی رہائی اور پھر وہاں سے میاں نواز شریف کو لندن بیجھوانے میں پس پردہ شہبازشریف کا ہی کردار رہا ہے کہ انہوں نے انہیں ریلیف دلوایا شہبازشریف کا گمان تھا کہ بڑے بھائی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لے کر لندن چلے جائیں گے اور وہ اپنی سیاست کریں گے اسی لئے حالات ایسے پیدا ہوئے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ میاں نواز شریف جیل سے لندن کیسے پہنچ گئے اور یہ فیصلہ کدھر اور کیسے ہوا ۔ میاں نوازشریف کے دل میں پاک افواج کے خلاف جو چنگاری 12 اکتوبر1999 سے سلگ رہی ہے وہ کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی وہ سب کو رام کرتے رہے ہیں میڈیا ،جج ،وکیل عدالتیں اور شخصیات سب خرید لیتے ہیں کاروباری ہیں مہم جو ہیں لیکن پاک فوج کو وہ زیر عتاب نہیں لاسکے چونکہ فوج ایک ادارے کے طور پر کام کرتی ہے میری تعلیم، بلوغت اور صحافت بھی میاں محمد نوازشریف کے عہد کے ساتھ ہی ہوئی ہے میاں نوازشریف پنجاب کے وزیراعلی تھے تو میں انکی تعریف کرتا رہتا تھا 1990 میں وہ وزیراعظم بنے تو میں پہلی بار ان سے کشمیر ہاوس اسلام ;200;باد میں ملا جب وہ سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے استقبالیے میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے خطاب میں کہا کہ سردار قیوم کی صحبت میں گزری ہوئی چند گھڑیاں ہی میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں پھر سردار عبدالقیوم خان 12اکتوبر1999کے بعد جنرل پرویز مشرف کی ملٹری ڈیموکریسی کے سحر میں ڈوب گئے اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن گئے اور سردار عتیق ;200;زادکشمیر کے 2006 میں وزیراعظم بن گئے میاں محمد نوازشریف کو موقع ملا تو انہوں نے سردار عبدالقیوم خان سے بدلہ لے لیا اور ;200;زادکشمیر میں مسلم لیگ ن قائم کردی اور کشمیریوں کو مزید تقسیم کردیا اس سے پہلے ;200;زادکشمیر میں مسلم کانفرنس ہی مسلم لیگ کی ذیلی تنظیم سمجھی جاتی تھی 2014 میں میری ;200;خری ملاقات مجاہد منزل راولپنڈی میں سردار عبدالقیوم خان سے ان سے ہوئی تو اس وقت 2013 میں میاں محمد نوازشریف سعودی عرب براستہ لندن پاکستان کا سفر کرکے ایک بار پھر وزیراعظم بن چکے تھے میں نے سردار عبدالقیوم خان سے نوازشریف کی کامیابی پر تبصرہ جاننے کی کوشش کی سردار عبدالقیوم خان مرحوم نے برجستہ جواب دیا نوازشریف کے دل میں پاک فوج کے خلاف عناد اور بغض نہیں جاتا وہ پھر غلطی کرے گا اور اس کا اقتدار ختم ہوجائے گا پھر میاں محمد نوازشریف نا اہل ہوئے انہوں نے سارا ملبہ فوج اور عدالتوں پر ڈال دیا پھر جی ٹی روڈ مارچ میں جو پاک افواج اور عدالتوں کے بارے میں جو میاں محمد نوازشریف نے زبان استعمال کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے میرے خیال کے مطابق 20 ستمبر کو میاں محمد نوازشریف نے جو خطاب کیا اس سے انہوں نے اپنا اور پارٹی بلکہ شہبازشریف کا بھی بوریا بسترا گول کر دیا پیپلز پارٹی نے سٹیج سجایا جس میں میاں محمد نوازشریف نے وہ باتیں کر ڈالیں جو لندن سے کسی طور پر بھی کسی سابقہ یا حاضر وزیراعظم کو زیب نہیں دیتی اس سے ملک اور قوم اور ریاستی اداروں کے خلاف بہت برا اثر پڑا ہے ان حالات میں جب پاکستان کےخلاف چاروں طرف سے پراگرسی جنگ جاری ہے اس تقریر سے نہ ہی ان کی پارٹی کو اس کا فائدہ ہوگا ;200;ل پارٹیز کانفرنس پیچھے رہ گئی اور میاں محمد نوازشریف کی تقریر ;200;گے نکل گئی جس کےخلاف لندن میں ایون فیلڈ ہاوس کے باہر انکی رہایش گاہ پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پہلا مظاہرہ گزشتہ اتوار کی شام کیا گیا اور نعرے لگائے گئے گو نواز گومیاں نواز شریف کے خطاب کے ردعمل میں افواج پاکستان کا جو بیان ;200;یا ہے اور بیک فائر ہوا ہے اس میں ہمدردی کے بجائے اپوزیشن دفاعی پوزیشن میں ;200;گئی ہے حکومت مضبوط ہوئی ہے میاں محمد نوازشریف کو سمجھنا چاہئے کہ سول حکومت جب بھی قائم ہوتی ہے اس کامیابی میں اسٹیبلشمنٹ ،ایجنسیاں اور سارے ریاستی ادارے چیف ایگزیکٹو کے دست و بازو ہوتے ہیں امریکہ برطانیہ فرانس ،جرمنی اور دنیا کی بڑی بڑی جمہوری حکومتیں اپنے ریاستی اداروں کی مدد سے چلتی ہیں ۔ پاکستان میں ;200;ل پارٹیز کانفرنس میں جو اعلامیہ جاری ہوا ہے وہ کوئی قابل عمل حتمی شکل اختیار نہیں کرسکے گا چونکہ پیپلزپارٹی کبھی استعفیٰ نہیں دے گئی ان حالات میں ملک میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہو جائے گا اور وہ جنرل مشرف کے دور جیسا ماڈل ہوگا پھر مارچ 2021 میں سینیٹ کے انتخابات ہونگے پھر صدارتی نظام کےلئے قانون سازی ہوسکتی ہے جس کےلئے ریفرنڈم ہوسکتا ہے اپوزیشن کو یہ سارے معرکے سر کرنے ہیں یہ سارے نیب زدہ ہیں حکومت کے وزیروں مشیروں کے ناعاقبت اندیش بیانات اپنی جگہ کمزوریاں کوتاہیاں اپنی جگہ لیکن ملک کی عوام کی اکثریت وزیراعظم عمران خان کو نیک نیت اور صحیح انسان اور نڈر لیڈر سمجھتی ہے اور وہ ملک کے حالات پر پہلی دفعہ قابو پانے اور ڈلیور کرنے کی پوزیشن پر ;200;چکے ہیں اور ہماری معیشت بھی بہتری کی جانب رواں دواں ہے اگرچہ وزیراعظم کے چاروں اطراف وہی ;200;زمودہ لوگ ہیں جو مختلف پارٹیوں کے ذریعے حکومتیں کرچکے ہیں لیکن قوی امید وزیراعظم کی وجہ سے ہے کہ وہ ملک و قوم کو کامیابی سے سرخرو کریں گے بشرطیکہ قوم ان کا ساتھ دے اور ان پر اعتماد رکھے اور عسکری قیادت بھی ان کا ساتھ دیتی رہے میری حکومت پاکستان سے دست بدستہ اپیل ہے کہ میاں نواز شریف کی تقریروں پر پابندی نہ لگائے ۔ پاکستان کے حالیہ حالات کے تناظر میں میری تازہ نظم کالم کا حصہ ہے جو پیش خدمت ہے :

یہ پاک وطن جہدِ مسلسل کا نِشاں ہے

یہ اہلِ محبت کی محبت کا مکاں ہے

یہ عزم جواں حسنِ شجاعت کا ثمر ہے

اسلاف کے اخلاص کا انمول گہر ہے

کچھ ایسی چلی ہے یہاں جمہوری سیاست

اک ڈھیر ہے کچرے کا مری پاک ریاست

جمہور سے الفت ہے نہ مٹی سے وفا ہے

نہ موت کا ڈر ہے نہ کوئی خوفِ خدا ہے

لاہور کے شہدا کا لہو بول رہا ہے

جمہور نوازوں کا جگر ڈول رہا ہے

جائے گی دعا میری یقینا سرِ افلاک

شیراز سلامت رہے دنیا میں وطن پاک