- الإعلانات -

پاکستان، آزاد اور خود مختار افغانستان چاہتا ہے

وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ بین الافغان مذاکراتی عمل میں سست روی اور دشواریاں بھی آسکتی ہیں ۔ یہاں تک کے کبھی کبھار ڈیڈ لاک بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ افغان اپنے مستقبل کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں تاہم اس کےلئے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ مذاکراتی عمل میں ایسے مواقعوں پر ہم اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انہیں یاد دلاتے رہیں گے کہ مذاکرات کی میز پر بغیر کسی خون خرابے کے ڈیڈ لاک میدان جنگ کے خون ریز حل سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔ ان تمام فریقین کو جنہوں نے افغان امن عمل میں اپنا حصہ ڈالا ہے انہیں غیر حقیقت پسندانہ طور پر خرابیوں کو دور کرنے کیلئے اپنا عمل دخل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان سے اقوام عالم کا جلد بازی میں انخلا غیر دانشمندانہ ہوگا ۔ ہ میں ان علاقائی عناصر سے بھی بچنا ہوگا جن کی امن عمل میں سرمایہ کاری نہیں اور وہ اپنے جغرافیائی مفادات کی خاطر افغانستان میں بدامنی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ افغان حکومت نے طالبان کو ایک سیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے اور یہ امید ہے کہ طالبان بھی اس پیشرفت کو قبول کرلیں گے جو اب تک امن کے سلسلے میں افغانستان نے کی ہے ۔ امریکا کی طرح پاکستان بھی کبھی نہیں چاہتا کہ افغانستان پھر کبھی بین الاقوامی دہشتگردی کی آماجگاہ بنے ۔ افغانستان میں امن کی جانب پہلا قدم دوحہ میں اٹھایا گیا تھا ۔ پاکستان ایک متحدہ، آزاد اور خود مختار افغانستان کی جدوجہد میں افغان عوام کی حمایت جاری رکھے گا جس سے افغانستان کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک میں امن قائم ہو گا ۔ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ امن مذاکرات میں کوئی زور زبردستی نہیں ہونی چاہیے اور تمام فریقین کشیدگی کو کم کریں ۔ پاکستان کو افغانستان میں مقیم باہر سے آئے دہشت گرد گروپوں کی طرف سے مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یہ دہشت گرد گروپ عالمی امن کیلئے واضح خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنی حدود میں غیر منظم ٹھکانوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ آنےوالے کل کیلئے منصوبہ بندی کی جائے کہ جنگ کے بعد کے افغانستان کو پائیدار امن منتقل کرنے میں دنیا کیسے مدد کرسکتی ہے ;238; کیسے پاکستان اور دیگر ممالک میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کیلئے ساز گار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ افغانستان کے سوا پاکستانی عوام سے بڑھ کر کسی نے افغان جنگ کی قیمت ادا نہیں کی ۔ دہائیوں پر محیط جنگ کے دوران پاکستان نے 40لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی ذمہ داری کے ساتھ دیکھ بھال کی، اسلحہ اور منشیات ہمارے ملک میں داخل ہوئیں ، جنگوں نے ہماری معاشی ترقی کو متاثر کیا اور ہمارے معاشرہ خود بگاڑ کا شکار ہوا ۔ جب سے نائن الیون سانحہ ہوا ہے تو 80 ہزار سے زیادہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور شہری دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی اور کامیاب ترین جنگ میں اپنی جانوں کے نذانے پیش کر چکے ہیں ۔ پاکستان کو افغانستان میں مقیم باہر سے آئے دہشتگرد گروپوں کی طرف سے مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یہ دہشت گرد گروپ عالمی امن کیلئے واضح خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنی حدود میں غیر منظم ٹھکانوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گی جہاں سے دہشت گرد گروپ افغان عوام ،افغانستان میں قیام پذیر بین الاقوامی اتحادی افواج اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر حملے کرتے ہیں ۔ افغانستان کے بعد پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو افغان تنازعے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ چالیس سال میں ہم نے دہشت گرد حملوں کا سامنا کیا ، قیمتی جانوں کا نقصان اٹھایا ، آبادی کی نقل مکانی کے عذاب جھیلے، سرحدوں پر عدم استحکام اور بھاری معاشی نقصانات برداشت کئے ۔ لیکن تمام تر مشکلات اور منفی ماحول کے مدمقابل ہم ڈٹ کر کھڑے رہے ہیں ۔ ہمارے شہریوں ، قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے افسروں اور جوانوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں ۔ ہماری قیادت نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم صرف امن میں حصہ دار ہوں گے ۔ اس تاریخی موقع پر یہ انتہائی ناگزیر امر ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے ۔ افغان عوام کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے جیساکہ پہلے ہوچکا ہے ۔ حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بے ثمر اور رائیگاں نہ جانے دیاجائے ۔ پرامن اور مستحکم افغانستان افغان عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کی نئی نوید اور امکانات لائے گا ۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خطے کے اندر بلکہ دنیا بھر کے ساتھ تعاون اور روابط استوار کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ۔ بین الافغان مذاکرات کا عمل افغانستان اور خطے کیلئے اہم موڑ پر داخل ہو چکا ہے ۔ 12ستمبر کوافغان حکومت اور طالبان کے وفود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کو سیاسی حل کی جانب لانے کیلئے اکٹھے ہوئے جس سے افغان جنگ کا خاتمہ ہو گا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ آنے والے کل کیلئے منصوبہ بندی کی جائے کہ جنگ کے بعد کے افغانستان کو پائیدار امن منتقل کرنے میں دنیا کیسے مدد کرسکتی ہے ;238; کیسے پاکستان اور دیگر ممالک میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کیلئے ساز گار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ باوقار طریقے سے وطن واپس جا سکیں ۔ افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 کے آخر میں مجھے خط لکھا اور افغانستان میں سیاسی حل پر بات چیت کیلئے پاکستان کی مدد طلب کی اور انہیں امریکی صدر کو اس بات کی یقین دہانی کرانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی کہ پاکستان کسی بھی ایسے حل میں سہولت کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا اور ہم نے کیا ۔ پاکستان میں پائیدار امن افغانستان میں امن و استحکام سے مشروط ہے ۔ دوحہ مذاکرات سے افغان جنگ خاتمے کے قریب ہے ۔ ہمسایہ ملک میں سیاسی حل کیلئے ہرممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں ۔