- الإعلانات -

سیاچن گلیشیئر پر پاکستان و بھارت کا ملکیتی دعویٰ

سیاچن گلیشیئر چین اور پاکستان کے درمیان ہے ۔ پاکستان اور چین کو ایک دوسرے سے دور کرنے کےلئے بھارت نے اس پر قبضہ کیا ۔ جغرافیائی صورتحال یہ ہے کہ اگر سیاچن کو پاکستان واپس حاصل کر لیتا ہے تو نوبرا وادی اور لداخ پر بھارتی قبضہ خطرے میں پڑجائے گا ۔ اسی طرح کارگل اس علاقہ میں ایک اور اہم جگہ ہے جس پر پاکستان بھارت جنگ بھی ہوچکی ہے ۔ سیاچن گلیشیئر پر پاکستان اور بھارت دونوں کا ملکیتی دعویٰ ہے اسی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے بلند محاذ جنگ بھی ہے ۔ بھارت اور چین کے درمیان اب تک متنازع سرحد لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر واقع گلوان وادی اکسائے چن کے پاس ہے اورگلوان دریا بھی اکسائے چن سے نکلتا ہے ۔ گلوان وادی کا نام اس میں بہنے والے دریا کے نام پر ہے ۔ یہ دریا برطانوی دور میں اس علاقے کا کھوج لگانے والے لیہہ کے رہائشی غلام رسول گلوان سے منسوب ہے ۔ اکسائے چن کا علاقہ چین کے کنٹرول میں ہے اور 60 کی دہائی میں پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی معاہدے میں پاکستان نے اکسائے چین سے ملحق ایک حصہ چین کو دے دیا تھا ۔ کارگل لیہہ ہائی وے پر اگر پاکستان قبضہ کرتا ہے تو بھی لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے ۔ کارگل کی طرف سے کوئی بھی ایڈونچر سیاچن کی نسبت آسان ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بھارت کے زیرقبضہ لداخ کا علاقہ 59 ہزار 146 مربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔ اکسائے چن کا رقبہ 37 ہزار 550 مربع کلومیٹر ہے جبکہ پاکستان نے سیاچن گلیشیئر سے ملحق 5 ہزار 180 مربع کلومیٹر کا علاقہ سرحدوں کے تعین کے وقت چین کو دے دیا تھا ۔ دریائے گلوان کے بارے میں بھارت کا دعویٰ ہے کہ چین 1956ء تک گلوان دریا پر حق نہیں جتاتا تھا لیکن 1962ء میں چین نے اس پر قبضہ کرلیا تھا ۔ جنگ بندی معاہدے کے بعد دونوں فوجیں پیچھے ہٹ گئی تھیں اور گلوان وادی خالی پڑی تھی ۔ دونوں ملکوں نے جنگ بندی کے بعد نقشوں کا تبادلہ نہیں کیا تھا اور علاقے کے بارے میں تمام سمجھوتے مقامی فوجی کمانڈرز کی حد تک تھے ۔ یہاں تک کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحد کی بھی باقاعدہ حد بندی نہیں ہوئی تھی ۔ یہ صرف نقشے میں ایک لکیر تھی جو پہاڑوں ، وادیوں اور جھیلوں پر سے گزرتی تھی ۔ کبھی چینی لکیر کے اس پار آجاتے تو کبھی بھارتی اس پار چلے جاتے ۔ موسمی حالات کے تحت یہ سرحدی لکیر گھٹتی بڑھتی رہتی ہے ۔ گلوان وادی ہی اکسائے چن تک رسائی کا واحد راستہ ہے ۔ گلوان وادی میں کشیدگی یہاں بھارت کی طرف سے سڑک کی تعمیر پر شروع ہوئی ۔ گلوان نالہ پر بھارت نے ایک پل بھی بنایا جس پر چین کو تشویش ہوئی ۔ یہ پل دریائے شیوک اور دولت بیگ اولڈی کے درمیان بنائی گئی سڑک کا حصہ ہے ۔ اس سڑک کا افتتاح پچھلے سال بھارتی وزیر دفاع نے کیا تھا ۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ پل ایل اے سی سے ساڑھے سات کلومیٹر اندر اس کے اپنے علاقے میں ہے جبکہ چین کو شبہ ہے کہ بھارت 1950ء کے اسٹیٹس کو بحال کرنے کےلئے مستقبل میں کوئی ایڈونچر کرسکتا ہے اور نیشنل ہائی وے اور اکسائے چین پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے ۔ اکسائے چین 1962ء سے چین کے مکمل کنٹرول میں ہے ۔ اکسائے چین کا علاقہ تبت اور سنکیانگ کو ملانے کےلئے اہم ہے اور چین نے یہاں ہائی وے بنا رکھی ہے ۔ گلوان وادی میں چین کی حالیہ سرگرمیوں کو بھارت ایک اور کارگل کی طرح دیکھ رہا ہے لیکن اس بار بھارت کے سامنے پاکستان نہیں بلکہ چین ہے ۔ چین نے دریائے گلوان اور پینگانگ جھیل کے گرد نہ صرف مضبوط حصار بنا لیا ہے بلکہ وہ گلوان وادی میں کئی کلومیٹر اندر تک گھس چکا ہے ۔ کارگل پر چڑھائی کرکے پاکستان نے سرینگر ۔ زوجیلا اور کارگل ۔ لیہہ ہائی وے کو شمال کی جانب سے لداخ سے کاٹنے کی کوشش کی تھی ۔ اب چین گلوان وادی میں دریا کے دونوں اطراف اونچی چوٹیوں پر بیٹھا ہے اور داربک، شیوک، دولت بیگ اولڈی ہائی وے کے عین اوپر چین کی چوکیاں بن چکی ہیں جس کے بعد بھارتی فوج کو سب سیکٹر نارتھ سے جوڑنے والی یہ سڑک اب خطرے میں پڑ چکی ہے اور یہ سیکٹر چین کے رحم و کرم پر آچکا ہے ۔ چین کی فوج دریائے گلوان اور دریائے شیوک کے ملاپ کے مقام پر پہنچ چکی ہے اور یہ مقام اس سڑک سے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری پر ہے ۔ یہ سڑک شیوک دریا کے ساتھ چلتی ہے اور چین کی فوج اونچائی سے اس سڑک کو آرٹلری اور میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنانے کی پوزیشن میں ہے ۔ چین اس سڑک پر مستقل قبضے یا اس پر مسلسل دباوَ کا ارادہ رکھتا ہے ۔ چینی فوج کے انجینئر علاقے کو چین کی حدود میں بنی سڑکوں سے جوڑنے میں مصروف ہیں اور چین کی فوج علاقے میں کنکریٹ کے بنکر بنا رہی ہے ۔ جس سے بھارتی فوج کی کئی پیٹرولنگ پوسٹوں تک رسائی بند ہوگئی ہے ۔ بھارت کے سابق فوجی عہدیداروں اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لداخ میں انٹیلی جنس کے ساتھ آپریشنل ناکامی بھی ان حالات کی وجہ بنی ۔ جب بھارت نے 225 کلومیٹر سڑک بنائی تو فوج نے شیوک دریا کے ساتھ اس سڑک کی حفاظت کےلئے دستے کیوں تعینات نہیں کیے;238; اس سے پہلے دولت بیگ اولڈی میں 2013ء میں جب بھارت نے لینڈنگ گراوَنڈ تیار کیاتھا تو چین نے وہاں بھی مداخلت کی تھی لیکن اس کے باوجود بھارتی فوج چوکنا نہ ہوئی ۔ بھارتی فوج کی ناکامی اپنی جگہ، لیکن بھارت کی سیاسی قیادت بھی اب تک اس معاملے کی نزاکت کو پوری طرح تسلیم نہیں کر رہی ۔ چین نے حال ہی میں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں بنکرز بنانے کے ساتھ ایل اے سی پر اپنی حدود میں آرٹلری گنز نصب کردی ہیں جو پیش قدمی کرنے والے دستوں کو سپورٹ کر رہی ہیں ۔ چینی فوج کی یہ پیش قدمی صرف لداخ تک محدود نہیں بلکہ 2 ہزار کلومیٹر سرحدی علاقے میں چین کی فوجوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چپ کا روزہ توڑتے ہوئے سلامتی کونسل میں ورچوئل خطاب میں بغیر چین کا نام لیے کہا کہ بھارت امن چاہتا ہے لیکن اگر اشتعال دلایا گیا تو بھارت مناسب جواب دے گا ۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فوج کے افسران چین کےساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں اور چین کی عسکری قیادت مذاکرات کے دوران قبضے میں لیے گئے 60 مربع کلومیٹر علاقے میں پوزیشن مضبوط کرنے میں لگی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چین اس علاقے سے واپسی کا ارادہ نہیں رکھتا ۔