- الإعلانات -

مودی کھیلن کو مانگے چاند

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر سزا کے طور پر ادارے کے بینک اکاونٹس منجنمد کرنے پر بھارت میں اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کردیا ۔ یاد رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حالیہ دنوں میں بھارت کے غیر قانونی تسلط والے جموں و کشمیر میں اور نئی دہلی میں احتجاج کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کو اجاگر کیا اور بھارتی حکومت نے اس کی سزا دینے کےلئے 10 ستمبر کو اس کے بینک اکاونٹس منجمد کر دیئے ۔ اسی تناظر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سینئر ڈائریکٹر آف ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ پالیسی ’’رجت کھوسلا ‘‘کے مطابق ادارے کو اس وقت بھارت میں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اور اس کے ملازمین اور افسران کو مودی حکومت کی طرف سے منظم انداز میں حملوں ، دھونس دھمکیوں اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ دوسر ی طرف انسان دوست حلقوں کی رائے ہے کہ بلا شبہ بھارت سائز میں بڑا ملک ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ فسطائی ذہنیت اور سفاکی میں اس کا درجہ اس سے بھی کئی زیادہ ہے ۔ ایسے میں یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ محض جمہوریت صرف الیکشن کرا کے اقتدار کی منتقلی ہی کا نام نہیں بلکہ انسانی حقوق کا تحفظ کسی بھی ریاست کا اولین فرض ہے جس سے دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد قوت کوسوں دور ہے ۔ کیوں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہےں کہ 26 بھارتی ریاستوں میں ریاستی دہشت گردی کیخلاف آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران بدترین شکل اختیار کرچکا ہے جہاں چادر اور چار دیواری کا تحفظ بری طرح پامال کیا جا چکا ہے ۔ اقلیتوں کے ساتھ بھارت میں شرمناک سلوک کیخلاف عالمی تنظی میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں ۔ اسی ضمن میں 16 امریکی سینیٹرز نے چند روز قبل بھارت میں مذہبی آزادیوں پر ریاستی قدغنوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حکومت سے بھارت کیخلاف سخت نوٹس لینے اور بھارت کو اقلیتوں کیلئے خطرناک ترین ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ ان سینیٹرز میں ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں شامل ہیں ۔ واضح رہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کیلئے بھارتی مطالبے کو پوری طرح مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے حساس فیصلے کرنیوالے ادارے میں کشمیریوں کی نسل کشی کرنےوالی ریاست کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ 26ستمبر کو مودی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک سخت بیان دیتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ہ میں کب تک انتظار کرنا ہوگا;238;کب تک بھارت کو اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھا جائیگا;238; اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے بھارتی مطالبے پر ردعمل دیا کہ دنیا سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کی حیثیت سے کسی فاشسٹ ریاست کو نہیں دی جاسکتی کیوں کہ کسے معلوم نہےں کہ بھارت ایک فاشسٹ ریاست ہے ۔ سلامتی کونسل میں اسکی مستقل رکنیت قبول نہیں کرینگے ۔ انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ اسلام آباد بھی اقوام متحدہ میں اصلاحات چاہتا ہے لیکن اقوام متحدہ کے 5 مستقل ممبران کی موجودہ فہرست میں کسی اور ریاست کو شامل کرکے نہیں ۔ ہم سلامتی کونسل میں غیر مستقل ممبران کی توسیع موجودہ 10 سے 20;245;21 تک چاہتے ہیں تاکہ اقوام متحدہ کے 193 ممبر ممالک کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ منیر اکرم نے مزید کہا کہ پاکستان غیر مستقل ارکان میں اضافہ کرنے کی حمایت کرتا ہے کیونکہ اس سے اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی کے عمل میں تمام بڑی، درمیانے اور چھوٹی ریاستوں خصوصا افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے افراد کی رائے شامل ہوگی ۔ سفارتی مبصرین کے مطابق اس سے موجودہ پانچ مستقل ممبران اور غیر مستقل ممبران کے مابین توازن میں بھی اضافہ ہوگا ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال 5 اگست کو بھارت نے کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے وہاں مسلم آبادی کا توازن بگاڑنے کی چال چلی‘ اس پر یکدم کشمیریوں کا شدید ردعمل سامنے آیا تو بھارت نے سخت پابندیوں کا حامل کرفیو نافذ کردیا جس کے باعث مقبوضہ وادی میں بدترین انسانی المیہ جنم لے چکا ہے ۔ یہ امر خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال بھی اس ایشو کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھرپور طریقے سے اٹھایا تھا ۔ دو روز قبل بھی عمران خان نے دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کئی گنا بڑھی ہوئی بربریت و سفاکیت سے آگاہ کیا ۔ جبکہ دوسری جانب مودی نے اپنی تقریر میں گزشتہ سال کی طرح اب بھی خاموشی اختیار کی ۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق اس ضمن میں اقوام متحدہ کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ اپنی قراردادوں سے صریح انکار کرنیوالے بھارت سے جواب مانگنے سے قاصر ہے ۔ اگر اقوام متحدہ کے رویے میں تبدیلی نہ آئی تو اس کا حشر بھی لیگ آف نیشنز جیسا ہو گا ۔ دوسری جانب مودی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اصل معاملات و امور سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کے حصول کیلئے کوشاں رہے ۔ یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ بھارت آج نہیں بلکہ عرصہ دراز سے سلامتی کونسل اور نیوکلیئر سپلائر گروپ اور سلامتی کونسل کی رکنیت کیلئے بے قرار ہے مگر دونوں اداروں کی رکنیت اسکے مقدر میں نظر نہیں آتی ۔ اگرچہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک بھارت کی حمایت پر کمربستہ ہیں ۔ سبھی کو معلوم ہے کہ کسی بھی ملک کے نیوکلیئر سپلائر گروپ اور سلامتی کونسل کا رکن بننے کیلئے کچھ شرائط ہوتی ہیں مگر بھارت ان پر پورا ہی نہیں اترتا ۔ محض مودی کی خواہش اور کچھ ممالک کی پشت پناہی پر بھارت نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بن سکتا ہے نہ ہی سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ حاصل کر سکتا ہے ۔ ایسے میں مودی کی اس طفلانہ خواہش کی بابت یہی کہا جا سکتا ہے کہ’’ انوکھا لاڈلا کھلین کو مانگے چاند‘‘ ۔ امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برداری اس بابت اپنی انسانی ذمہ داریوں کی جانب خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ دے گی ۔