- الإعلانات -

ا فغانستان پاکستان کا ایک پیج ہونا ضروری

خصوصاًگزشتہ دو عشروں سے جنگ زدہ افغانستان میں قیام امن کےلئے پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے ۔ امریکہ سے لے کر خود افغان حکام تک کا مخاصمانہ رویہ اس راہ میں بڑی رکاوٹ رہا،لیکن اس سب کچھ کے باوجود پاکستان نے اپنی کوششیں کبھی ترک نہیں کیں ، کیونکہ افغانستان میں امن خود اس کی سالمیت کےلئے انتہائی ضروری ہے ۔ اس مقصد کے حصول کےلئے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ہمیشہ ایک پیج پر رہی ہے ،اس کا دو ٹوک موقف ہے کہ افغان تنازعے کا فوجی حل نہیں ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے پاکستان اپنے افغان بھائیوں کے دکھ درد کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ کس طرح وہ بدیسی طاقتوں کے مفادات کی چکی میں پسے جا رہے ہیں ۔ امریکہ ہو، اس کے اتحادی ہوں یا بھارت کسی کو اس بات میں دلچسپی نہیں کہ کتنی افغان نسلیں ان کے مفادات کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اور جانے کتنی ;200;نے والی نسلوں کا مستقبل تاریک رہے گا ۔ امریکہ کا افغانستان پر جنگ مسلط کرنا اس کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں ، بظاہر نائن الیون کی دہشت گردی کا واقعہ ایک بڑی وجہ بنا لیکن کئی دیگر عوامل ایسے تھے جنکے تحفظ کےلئے اسے جنگ میں کودنا پڑاجبکہ بھارت جس کی نہ سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں اور نہ ہی سماجی و مذہبی اقدار میل کھاتیں ہیں ۔ اسکے باوجود جنگ زدہ افغانستان میں بھارت کی سرمایہ کاری بے مقصد نہیں ہے، بنیاکچھ دیکھ ہی گرا ہوا ہے ۔ اس کی ساری دلچسپی ہی اسی میں ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام اور بد امنی قائم رہے تاکہ وہ افغان سر زمین کو پاکستان کےخلاف ;200;سانی سے استعمال کر سکے ۔ اس بد امنی اور عدم استحکام کا سب زیادہ بینفشری ہندوستان رہا ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین تناوَ یا عدم اعتماد بھارت کی وجہ سے چلا ;200; رہا ہے ۔ افغان قیادت سے اعلیٰ سطح رابطوں میں پاکستان نے اس امر کی بار ہا نشاندہی کی کہ بھارت دونوں ممالک کے بیچ کیا شر انگیزی کے بیج بو رہا ہے ۔ انہی شکوے شکایات کے ازالے میں کئی برس ضائع ہو گئے ۔ اب جب امریکہ بھی اپنی طاقت کی پالیسی سے کچھ حاصل نہیں کر پایا ہے تو اسے پاکستان کی انگلی پکڑنا پڑی ہے جو یقینی طور خوش ;200;ئند تبدیلی ہے ،جس کا اثر افغان حکام پر بھی پڑا اور وہ بھی بدلتے زمینی حقائق کے پیش نظر رام ہوئے ہیں ۔ افغان مفاہمتی کونسل کے چیرمین عبد اللہ عبداللہ کا دورہ اسی سلسلے کڑی ہے،خدا کرے کہ یہ دورہ بار آور ثابت ہو ۔ اس دورے میں انہوں نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقتیں کی ہیں اور اعتماد سازی کی کوششوں کو سراہا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ملاقات میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے افغان امن عمل کی کامیابی کےلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اورامید ظاہر کی کہ ان کے دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گا ۔ انہیں اس امر کی بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان، افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے افغان فریقین کے مابین طے پانے والے حل کی حمایت کرے گا اور بعد ازاں تعمیرنو و اقتصادی ترقی کے راستے پر افغانستان کےساتھ مکمل تعاون کرے گا ۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں تجارت کے بے پناہ مواقع ہیں جنہیں باہمی فائدے کے لیے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں سہولت فراہم کرنے کےساتھ ساتھ دوطرفہ تجارت و اقتصادی تعلقات اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنانے کےلئے تمام کوششیں بروئے کار لائے گا ۔

ادھروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی واضح کیاکہ پاکستان، افغانستان کا سرپرست نہیں دوست بننا چاہتا ہے، یہ تبدیلی کا نمونہ ہے اور اگر ہ میں امن کے ساتھ رہ کر مشترکہ مستقبل تعمیر کرنا ہے تو یہ اس بات کی پہچان کا نیا احساس ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان عوام کےلئے واضح پیغام ہے کہ ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں اور نہ ہم ;200;پکے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم افغانستان کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں ۔ ہ میں اس بات پر یقین ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف افغان ہی کرسکتے ہیں ۔ بین الافغان مذاکرات اور بات چیت کے نتیجے میں جو بھی اتفاق رائے ہوگا ہم پاکستانی عوام افغانستان کے عوام کی خواہش کو قبول کریں گے اور یہ ہمارے لیے اہم ہے ۔ پاکستان کی طرف سے یہ دوٹوک موقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ افغانستان کو حقیقی معنوں میں ایک خود مختیار ریاست کے طور پر ابھرتا دیکھنے کا خواہش مند ہے،اور اس حوالے سے پھیلائے گئے منفی پروپیگنڈے میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ قبل ازیں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان کےساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں ، پاکستان اورافغانستان کے عوام کی خوشحالی ایک دوسرے سے منسلک ہے، دونوں ملکوں کو دہشت گردی، انتہا پسندی سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے،انہوں نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ افغان سر زمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے ۔ یہ بہت ہی اہم بات ہے کیونکہ پاکستان کی ہمیشہ یہی شکایت رہی ہے کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں ،جنہیں ہر دور میں افغان قیادت کے ساتھ شیئر بھی کیا گیا ۔ عبداللہ عبداللہ نے افغان سر زمین کسی ملک کےخلاف استعمال نہ ہونے کی جو یقین دہانی کرائی ہے اس پر اگر عمل ہو جاتا ہے تو دونوں ممالک کی آدھی سے زیادہ شکایات کا ازالہ ہو جائے گا ۔ ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ ہ میں ماضی کے سازشی نظریات سے باہر نکلنا ہوگا،باہمی تعلقات کو دونوں ممالک کے مفاد میں بہتر انداز سے آگے بڑھانا ہے ۔ یقینا اس دورے کے حوصلہ افزا نتاءج مرتب ہوں گے اور دوحہ بات چیت سے اب تک حاصل کی گئی کامیابیوں کو مزید ;200;گے بڑھایا جائے گا ۔ اسکے لئے ضروری ہے پاک افغان قیادت ماضی کے مغالطوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ;200;گے بڑھیں ۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ سمیت دیگر کئی شعبوں میں آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں اگر اعتماد سازی کا عمل پروان چڑھتا ہے اور دونوں ممالک ایک پیج پر ہوتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ بیرونی طاقتوں کو مداخلت کو موقع ملے ۔ اس تاریخی موقع کو ضائع نہیں ہونا چاہئے ۔