- الإعلانات -

آن اور عزت نفس

امام علی سے پوچھا گیا آن اور عزت نفس میں کیا فرق ہے ۔ آپ نے فرمایا عزت نفس کا تعلق ایمان سے ہے اور آن کا تعلق شیطان سے ہے ۔ کوئی زمانہ تھا جب ہر کوئی عزت نفس سے واقف ہوا کرتا تھا مگر اب لگتا ہے عزت نفس کو کوئی نہیں جانتا کہ یہ کس چیز کا نام ہے ۔ اس لئے اب ہم دوسروں کی عزت نفس کا خیال نہیں رکھتے ۔ کہا جاتا ہے کہ انسانوں کی طرح جانور بھی عزت نفس رکھتے ہیں ۔ ان کے ساتھ غصے سے پیش آئیں انہیں گالیاں دیں ۔ جواب دینگے مگر اکثر ہم دونوں کا خیال نہیں رکھتے جو کہ بری بات ہے ۔ ہ میں عزت نفس کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ہم فانی ہیں ۔ ہ میں لوٹ کر اس کے پاس ہی جانا ہے اور حساب دینا ہے ۔ ایک صاحب اعلیٰ سرکاری عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ۔ یہاں اکثر واک کرتے دکھائی دیتے تھے بتایا واک میں پہلے بھی کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہوں ۔ پہلے واک میں دکھاوے کےلئے کرتا تھا ۔ مگر اب میں اچھی صحت کےلئے کرتا ہوں ۔ شروع میں ایک مخصوص چھڑی کے ساتھ واک کرتا تھا کہ لوگ مجھے دیکھیں ہش ہش کریں مگر اب چھڑی نہیں کونڈی کے ساتھ واک کرتا ہوں اور اچھی صحت کےلئے کرتا ہوں ۔ چھڑی والی واک کی شان ہی کچھ اور ہوتی تھی ۔ اس وقت ساتھ سیکورٹی والے بھی ہوا کرتے تھے ۔ لہٰذا کسی کی پرواہ نہیں تھی ۔ یہ سمجھتا تھا کہ ہر کوئی میری ہی پرواہ کر ے اور کر بھی رہا ہوتا تھا ۔ بڑے رعب سے گردن اکڑا کڑ کر چلا کرتا تھا جیسے گردن میں سٹیل کا راڈ فٹ ہو مگر اب ریٹائرمنٹ اور عمرے کے کی وجہ سے سریاخود ہی نکل چکا ہے ۔ چھڑی چھوڑ کر کونڈی کو پکڑ چکا ہوں ۔ اب میں بیگم کے ساتھ آہستہ آہستہ واک صحت کےلئے کرتا ہوں ۔ اب یہ واک کرتے ہوئے اب میں اونچی آواز میں سب کو سلام کرنے میں پہل کرتا ہوں ۔ یہ باتیں آج مجھے اس بزرگ نے بتائیں ۔ میں اس پارک میں نیا تھا ۔ مگر میرے دوست نے بتایا کہ یہ جوڑا بہت پرانا ہے ۔ اس پارک میں روز یہ سوٹ ٹائی اور ہیڈپہن کر واک کرتا ہے ۔ ایک شام واک کرتے ہوئے دیکھا کہ دونوں میاں بیوی بنچ پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ میں بھی ساتھ والے بنچ میں بیٹھ گیا ۔ بیٹھنے سے پہلے حسب عادت انہوں نے مجھے اونچی آواز میں سلام کیا ۔ میں نے جواب میں و علیکم اسلام کہا ۔ پوچھا سر آپ مجھے جانتے نہیں ہیں مگر پھر بھی آپ مجھے روز سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں ۔ ایسا کرنے کی کوئی خاص وجہ ۔ پھر مجھ سے میرا تعارف پوچھا ۔ پھر اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میں ایک اعلیٰ سرکاری عہدے کا افسر رہ چکا ہوں ۔ اب تو ریٹائر ہوئے بھی بیس سال کا عرصہ ہو چکا ہے ۔ بچوں کا پوچھا تو بتایا ایک بیٹا ہے شادی شدہ فارن میں سیٹل ہے ۔ اس نے اپنی شادی پر ہ میں نہیں بلایا تھا ۔ ہاں فوٹو بھیج دی تھیں ۔ وہ خوش ہے لہٰذا ہم بھی خوش ہیں ۔ اس کی خوشی اسی میں ہے کہ ہم یہاں رہیں وہ وہاں رہے ۔ ہماری پوسٹنگ مختلف شہروں میں ہوتی تھی لہٰذا وہ ساری عمر ہوسٹلوں میں رہا ۔ لہٰذا وہ بھی ہماری جدائی کا عادی ہے اور ہم بھی عادی ہو چکے ہیں ۔ پھر اپنا ایک واقعہ سنا یا کہ میں جب ریٹائر ہوا تو مجھے پرائیویٹ کار ڈرائیو ر کی ضرورت پڑی ۔ لگا تار تین چار ڈر ائیور شروع میں بدلے ۔ پھر مجھے ایک اچھا ڈر ائیور بدرنامی مل ہی گیا ۔ میں نے اس کی تنخواہ سولہ ہزار رکھی جبکہ اس وقت ڈرائیور کی تنخواہ آٹھ ہزار ہوتی تھی ۔ اس کی فیملی کو رہائش اور کھانا بھی دیتا رہا ۔ ڈرائیور نہایت سلجھا ہوا ، مجھے اس نے کبھی بھی شکایت کا موقع نہ دیا ۔ پانچ سال اس نے میری خدمت کی ۔ ایک روز رات کا ڈنر کرنے کے بعد جب گھر واپسی کےلئے کار میں بیٹھا تو اسے کار کو ریورس کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ اس دوران ایک گملا کار کی ٹکر سے ٹوٹ گیا ۔ میں نے اس پر اسے خوب برا بھلا تو کہا ہی تھا ساتھ میں گالی دینے کی عادت سے اسے گالیاں بھی دے ڈالیں ۔ یہ مجھے کہتا رہا سر مجھے گالیاں نہ دیں میرے عزت مجروح ہورہی ہے ۔ لیکن اس کے منع کرنے پر میں مزید اسے گالیاں دیتا رہا ۔ گھر پہنچ کر اس نے کار کی چابیاں مجھے دیتے ہوا کہا سر میرا آج آپ کے ساتھ آ خری دن ہے ۔ آپ کی گالیوں کی وجہ سے میں یہ جاب چھوڑ رہا ہوں ۔ آپ مناسب سمجھیں تو گالیوں کےلئے گھر آپ پر کتا اور بیگم صاحبہ بلی رکھ لیں ۔ میں نے یہ سن کر پھر دو تین مزید اسے گالیاں دے ڈالیں ۔ کار کی چابیاں چھوڑ کر وہ اپنے کوارٹر کی طرف چلا گیا میں اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا ۔ سوچا یہ مجھے چھوڑ کر کہا ں جائے گا ۔ اسے ہمارے جتنی تنخواہ کون دے گا ۔ لہٰذا یہ سوچ کر سو گیا ۔ دوسرے روز جب ڈرائیور کی ضرورت پڑی تو نوکر سے کہا ڈرائیورکو بلا لاءوں ۔ نوکر نے بتایا سر وہ تو اپنا سارا سامان اور فیملی لے کر کل رات کو ہی گھرچھوڑ کر جا چکا ہے ۔ میں نے حسب عادت اس کی غیر موجودی میں بھی دو تین گالیاں دے ڈالیں ۔ سوچا یہ جب دو تین دن بیر روز گار رہا تو خود ہی واپس آجائےگا ۔ لیکن ایک ہفتے بعد بھی وہ نہ واپس لوٹا ۔ اب میں اور بیوی اس کی تلاش میں اس کے گاءوں پہنچ گئے ۔ یہ گھر پر ہی موجود تھا ۔ بیوی نے سپیشل چائے ہ میں پیش کی ۔ میں نے بتایا کہ میں نے کبھی بھی کسی کو دل سے گالیاں نہیں دیتا ہوں ۔ چلو واپس میں اب تماری تنخواہ بیس ہزار کرتا ہوں ۔ پوچھا سر گالی تو نہیں دوگے ۔ اگر آپ مجھے گالی نہ دیں تو میں دس ہزار پر نوکری کرنے کو بھی تیار ہوں ۔ لیکن اپنی عزت نفس کی خاطر میں اور فیملی کو بھوکا رکھ سکتا ہوں مگر میں اپنی عزت نفس کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔ اس کے یہ الفاظ سن کر گھر چلے آئے کہ اب یہ کل خود ہی کام پر آجائے گا ۔ پھر ایک ہفتہ گزر گیا مگر وہ واپس نہ آیا ۔ ہم دونوں میاں بیوی ایک بار پھر اسے منانے اس کے گاءوں چلے آئے لیکن اس بار اس سے ملاقات نہ ہوئی کیونکہ وہ فیملی کے ساتھ کسی دوسرے شہر میں وہ جا چکا تھا ۔ میں اس کو تلاش کرتا رہا کہ اب کی بار یہ نوکری نہ کرے مجھے معاف ہی کر دے ۔ بدر کے بتائے گئے مشورے پر گالیوں کےلئے کتا اور بلی ہم نے رکھ لئے تھے مگر غصہ کرنے پر وہ بھی غر غر کیا کرتے تھے ۔ اس موقع پر اس کی یاد آتی تھی ۔ اب گھر میں اسکے جانے کے بعد پالتو کتا اور بلی بھی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے ۔ اب ہم میں گالیاں دینے کی عادت بھی جاتی رہی ۔ اب ہم نے اس کا ازالہ اس طرح سے کر رہے ہیں کہ سب کو سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں ۔ نوکروں کے ساتھ عزت سے پیش آتے ہیں ۔ ایسا کرنے سے دن رات اچھے گزر رہے ہیں ۔ بس دعا کریں ایک بار وہ ڈرائیور مل ہی جائے ۔ اس کا دل توڑنے عزت نفس کو خراب کرنے پر اس سے ہم معذرت کرنا چاہتے ہیں ۔ مجھے کہا آپ بھی سرکاری افسر ہیں نوکری پیشہ ہیں ۔ اگر ہو سکے میری باتوں پر عمل کر لینا اگر تمہیں فائدہ نہ بھی ہوا تو نقصان بھی نہیں ہو گا ۔ ان باتوں کو اپنے پلے باندھ لو کہ اپنے سے کم کے ملازم کا عزت نفس کا ضرور خیال رکھنا ۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ گالی دینے کی مجھے عادت تھی یہ غلط کہتا ہوں اگر یہ عادت ہوتی تو اپنے سے بڑوں کو بھی میں گالیاں دیتا ہوتا ۔ مگر کبھی بھی میں نے سروس کے دوران اپنے سے بڑے کو گالی نہیں دی تھی ۔ لہٰذا یہ میری عادت نہیں تھی اسے آپ کچھ اور ہی کہیں ۔ چھوٹی چھڑی سدا انسان کے ساتھ نہیں رہتی،وقت کے ساتھ چھڑی کا سائز بدلتا رہتا ہے ۔ جس کا اندازہ اس عمر کے اس حصے میں پہنچ کر ہوا ہے ۔