- الإعلانات -

ازادیَ صحافتا

قارئین کرام ! گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک اہم قومی روزنامہ میں شاءع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک محترم جج نے صحافیوں کے ایک اجتماع میں ;200;زادیَ صحافت کے حوالے سے تقریر کرتے ہوئے ملک میں مبینہ ;200;زاد صحافت نہ ہونے کے سبب اُنہوں نے ملک کھو دینے تک کی بات کی ۔ شاءع شدہ رپورٹ کے مطابق متعدد دیگر متنازع امور کے علاوہ اُن کا کہنا تھا کہ: پاکستان میں ابھی بھی صحافت ;200;زاد نہیں ہے ۔ ;200;زاد صحافت ایک توانا جمہوریت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ;200;زادیَ صحافت کے بغیر قوم بھٹک سکتی ہے اور ملک کھو سکتے ہیں ۔ یکطرفہ کہانی پیش کرنا ، مخصوص پیغام نشر کرنا اور میڈیا کو قابو کرنا درست بات نہیں ہے ۔ اُ نکا مزید کہنا تھا کہ برطانوی راج میں قائداعظم نے پریس ایکٹ کے خلاف بات کی تھی اور اپنے فراءض انجام دینے والے صحافیوں کے تحفظ کےلئے کھڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں صحافت ;200;زاد نہیں ہے ۔ امریکہ کی سپریم کورٹ نے 19 سال قبل ;200;زاد صحافت پر فیصلہ جاری کیا تھا جبکہ اُن کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ;200;ئینی ترمیم نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے عوامی مفاد سے متعلق تمام معاملات پر معلومات تک رسائی کا حق دیکر ;200;زادی اظہار کو مزید موثر کر دیا ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے محترم جج نے بار اور بنچ کے بجائے ایک پبلک فورم پر ;200;کر ;200;زادیَ صحافت کے حوالے سے ریاستی معاملات پر گفتگو کرنا کیوں مناسب سمجھا ہے جبکہ عوام پرنٹ اور ٹی وی میڈیا پر روزانہ چوبیس گھنٹے اخبارات اور میڈیا پروگرام دیکھتے ہیں تو اُنہیں حکومتی تنقید و تبصروں سے مزین بیشتر لائیو اور دیگر خبریں ضرور دیکھنے کو ملتی ہیں جس سے بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید پاکستانی میڈیا ;200;زدی کی حدود پھلا انگ کر ;200;گے چلا گیا ہے چنانچہ خود سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی طور پر تاعمر نا اہل قرار دئیے جانے والے سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جنہیں احتساب کورٹ نے اشتہاری مجرم قرار دیا ہے اور جن کے ہائی کورٹ کی جانب سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جا چکے ہیں بھی لائیو پاکستانی چینلز اور پرنٹ میڈیا میں ریاست پاکستان کے مقتدر اداروں اور فوج پر حملہ کرتے نظر ;200;تے ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ انہوں اپنی تقریر میں ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 19 کا تذکرہ تو کیا ہے لیکن اِس کے سیاق و سباق میں جائے بغیر یہ پیش گوئی بھی کر دی ہے کہ ;200;زادیَ صحافت کے بغیر قوم بھٹک سکتی ہے اور ملک کھو سکتے ہیں جبکہ ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 19 میں ;200;زادیَ صحافت کے پیرامیٹرز کا تذکرہ اسلامی جمہوری ملک ہونے کے حوالے سے بخوبی کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ : اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اِس کے کسی حصے کی سا لمیت ، سلامتی ، غیر ممالک کےساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت ، کسی جرم یا اِس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع ، ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی ;200;زادی کا حق ہوگا اور پریس کی ;200;زادی ہوگی ۔ ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 19 کے مطالعے سے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے احتیاط کو ملحوض خاطر نہیں رکھا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح مناسب پیرامیٹرز کے اندر پریس کی ;200;زادی کے قائل تھے ۔ مرحوم الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے صحافتی ;200;زادیَ رائے کے پیرامیٹرز بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ;200;پ کو رائے دینے کی ;200;زادی ہے: اگر ;200;پ کسی بھی موضوع پر غور کرو تو اپنے دل میں فیصلہ کرو ۔ اگر تم اِس نتیجے پر پہنچ چکے ہو کہ ایک خاص اعتراض پیش کرنا ضروری ہے تو بالکل وہی لکھو جو حقیقتاً تم نے محسوس کیا ہے ۔ اِس خیال سے کبھی پس و پیش نہ کرو کہ کوئی ناراض ہو جائےگا یا قائداعظم ناراض ہو جائیگا ۔ لیکن قائداعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ;200;پ کسی بیرونی طاقت کی فراہم کردہ رپورٹ کو پاکستان کی ;200;واز بنا کر ملک میں افرتفری پیدا کرو ۔ چنانچہ اُنہوں نے مملکت خداداد پاکستان کے حصول کے بعد کم از کم تین مرتبہ اپنی تقاریر میں ملکی اداروں یا میڈیا کے اندر دشمن کےلئے کام کرنےوالے ففتھ کالمنسٹوں کی عیارانہ سرگرمیوں سے عوام الناس کو ضرور متنبہ کیا تھا ۔ یاد رہے کہ ڈکشنری کے معنوں میں بھی ففتھ کالمنسٹ کو غدار یا دشمن کے ایجنٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ;200;خری مرتبہ قائداعظم نے مارچ 1948 میں ڈھاکہ میں ایک محتاط اندازے کےمطابق تین لاکھ کے جلسے جسے بھارتی میڈیا نے پانچ لاکھ سے زیادہ بتایا تھا ، سے خطاب کرتے ہوئے بڑی وضاحت سے کہا تھا کہ ;34; اگر ہم خود کو بنگالی، پنجابی، سندھی پہلے سمجھیں گے اور مسلمان اور پاکستانی محض اتفاقاً تو پاکستان کا شیرازہ بکھر جائیگا کیونکہ ہمارے دشمن اِن امکانات کےلئے مستعد ہیں بلکہ میں ;200;پ کو خبردار کر دوں کہ وہ پہلے ہی سے اِس کا ناجائز فائدہ اُٹھانے میں مصروف ہیں ۔ کیا یہ محض عیاری نہیں ہے کہ اُن کے سیاسی اداروں اور ہندوستانی اخبارات جنہوں نے قیام پاکستان کو روکنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا تھا اب اچانک ;200;زادی کا ایک برس مکمل ہونے سے قبل ہی مشرقی بنگال کے مسلمانوں سے ہمدردی جتانے لگے ہیں ۔ کیا یہ بات واضح نہیں ہے کہ مسلمانوں کو حصول پاکستان سے باز رکھنے میں ناکامی کے بعد دشمن اب گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو اندر سے توڑنے میں مصروف ہیں ، اِسی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ ;200;پ لوگ صوبائیت کے اِس زہر سے خبردار رہیں جو ہمارے دشمن ہماری مملکت میں داخل کرنا چاہتے ہیں ۔ اندریں حالات، قائداعظم پاکستانی صحافیوں کی ;200;زادانہ رائے کے ضرور حامی تھے لیکن پاکستان کو نقصان پہنچانے کی سازش میں ذہنی و اخلاقی طور پر ملوث ثقافتی دوغلے دانشوروں کےلئے اُن کے پاس کوئی امان نہیں تھی ۔ چنانچہ موجودہ دور میں بھی کچھ پاکستانی نام نہاد صحافیوں اور اُن کے سہولت کاروں کی جانب سے غیر ملکی ایجنسیوں کی گمراہ کن اطلاعات کو اپنی تفتیشی یا تحقیقی رپورٹ قرار دیکر پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے کی کوشش کرنا ;200;زادی َ صحافت کے کسی زمرے میں نہیں ;200;تا ہے ۔ صد افسوس کہ چند صحافیوں کی جانب سے دشمن کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ;200;زدیَ صحافت کی بات کرنا ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 19 میں دی گئی مناسب قانونی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں ہی شمار کیا جائیگا ۔ کیونکہ یہ اَمر اب ڈھکا چھپا نہیں ہے کہ چند بیرونی ایجنسیاں سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے کےلئے سرگرمی سے کام کر رہی ہیں ۔ اِن بیرونی ایجنسیوں کی فکر اور اِن کے کارندے کی تحریریوں و انٹرویوز کا بخوبی مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ دشمن پاکستان کو نقصان پہنچانے کےلئے پاکستان کی محافظ ;200;رمی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں جن کی حمایت پاکستان کے اندر کچھ شیطانی حلقوں کی جانب سے بھی کی جا رہی ہے ۔ بل خصوص بیرون ملک مقیم چند پاکستانی وظیفہ خوار صحافی بشمول حسین حقانی بھارت، اسرائیل اور سی ;200;ئی اے کی کنٹرکٹ ایجنسیوں کی تیار کردہ گمراہ کن اطلاعات کو تحقیقی قرار دیکر پاکستان میں موجود درجن بھر پیلی شہرت رکھنے والے سہولت کار صحافیوں کے توسط سے ایک تسلسل کےساتھ پاکستان ;200;رمی اور مقتدر قومی ایجنسی ;200;ئی ایس ;200;ئی کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہیں جن کی سرکوبی کی جانی چاہیے ۔ قومی دانشور حلقوں میں البتہ یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا بار اور بنچ کے بجائے کسی محترم جج کو ایک پبلک فورم پر ;200;کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 19 کے سیاق و سباق پر گفتگو کرناضروری تھا ۔ کون نہیں جانتا کہ امریکہ میں محض پانچ فیصد ;200;بادی کی حامل یہودی صحافی لابی ہی امریکی میڈیا کی ملجا و ماوا بنی ہوئی ہے ۔ یہی یہودی لابی ، سی ;200;ئی اے اور بھارتی ایجنسیوں کی مدد سے گوادر میں پاکستان چین میگا معاشی اور تجارتی منصوبے کو سبو تاژ کرنے کےلئے نہ صرف دہشت گردوں بلکہ امریکہ میں مقیم کچھ صحافیوں اور پاکستان میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کو استعمال کر رہے ہیں جن کی نشان دہی ماضی میں قائداعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ میں اپنی تقریر میں بھی کی تھی ۔ سابق مشرقی پاکستان کے چیف جسٹس ایس ایم مرشد کا کہنا تھا کہ قانون ہم سے وہ کام کرنے کا تقاضا کرتا ہے جو صرف عادلانہ ہی نہیں بلکہ درست بھی ہو ۔ قانون بذات خود عدل کی تخلیق نہیں کرتا بلکہ قانون کے اطلاق میں عدل کو درآمد کرنا پڑتا ہے ۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے مساوی حق کے خلاف جارحیت کرے ۔ چنانچہ ، یہ مناسب ہوگا کہ اِس مرحلے پر مصر کے گورنر کے نام حضرت علی ;230;کے ایک مکتوب کا ذکر کیا جائے جس کا عدلیہ کی فکر کے حوالے سے تذکرہ ایک سابق چیف جسٹس ایم ;200;ر کیانی نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے ۔ اپنے قاضی القضاۃ کےلئے لوگوں میں سے ایک ایسا شخص منتخب کرو جو ہر لحاظ سے اُن میں بہترین ہو ۔ ایک ایسا شخص جسے خانگی پریشانیاں لاحق نہ ہوں ، جسے خوفزدہ نہ کیا جا سکتا ہو ، جو عام طور سے غلطیاں نہ کرتا ہو ، جو ایک بار درست راستہ پا لینے کے بعد اُس سے ہٹتا نہ ہو ، جو خود پسند یا حریص نہ ہو ، جو تمام حقائق معلوم کئے بغیر فیصلہ نہ دیتا ہو ، جو تمام متعلقہ شکوک و شبہات کا احتیاط سے جائزہ لیتا ہو اور تمام چیزوں کو زیر غور لا کر واضح فیصلہ دیتا ہو ، جو وکلا کے دلائل سے بددل نہ ہوتا ہو ، جو ہر نئی شہادت کو صبر و تحمل سے جانچتا ہو ، جو اپنے فیصلوں میں غیر جانبدار رہتا ہو ، جسے خوشامد گمراہ نہ کر سکتی ہو اور جو اپنی حیثیت پر ناز نہ کرتا ہو;34; ۔ صد افسوس کہ موجودہ دور میں ایسی شخصیتیں خال خال ہی نظر ;200;تی ہیں ، لہٰذا ہم منصبوں پر موجود شخصیتوں کو اہم سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے مملکت خداداد پاکستان کی سلامتی کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے ۔