- الإعلانات -

دہشتگرد ریاست مستقل رکنیت کی حقدار نہیں ہو سکتی

قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کے ایک ارب 30 کروڑ لوگ اقوام متحدہ میں اصلاحات کے عمل کے مکمل ہونے کے منتظر ہیں ۔ مودی کا کہنا تھا کہ ’آج بھارت کے لوگ تشویش میں مبتلا ہیں کہ آیا یہ اصلاحی عمل کبھی اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا بھی یا نہیں ۔ آخر کب تک بھارت کو اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے سے الگ رکھا جائے گا;238;‘نریندر مودی نے کہا کہ ’بھارت ایک ایسا ملک ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ۔ ایسا ملک جہاں دنیا کی آبادی کا 18 فیصد حصہ آباد ہے، ایسا ملک ہے جہاں سینکڑوں زبانیں ہیں ، کئی فرقے ہیں ، کئی نظریے ہیں ۔ ایسا ملک جس نے سینکڑوں برسوں تک سرفہرست عالمی معیشت ہونے اور سینکڑوں برسوں کی غلامی دونوں کو جیا ہے ۔ بھارت ناروے، آئرلینڈ اور میکسیکو کے ساتھ مل کر یکم جنوری 2021 سے شروع ہونے والی دو سالہ مدت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک غیر مستقل رکن بن جائے گا تاہم یہ اس کونسل میں مستقل نمائندگی چاہتا ہے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے بھارتی مطالبے پرکہا کہ دنیا سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کی حیثیت سے کسی فاشسٹ ریاست کو نہیں دی جاسکتی ۔ بھارت فاشسٹ ریاست ہے ۔ سلامتی کونسل میں اسکی مستقل رکنیت قبول نہیں کرینگے ۔ اسلام آباد بھی اقوام متحدہ میں اصلاحات چاہتا ہے لیکن اقوام متحدہ کے 5 مستقل ممبران کی موجودہ فہرست میں کسی اور ریاست کو شامل کرکے نہیں ۔ ہم سلامتی کونسل میں غیر مستقل ممبران کی توسیع موجودہ 10 سے 20;245;21 تک چاہتے ہیں تاکہ اقوام متحدہ کے 193 ممبر ممالک کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ پاکستان غیر مستقل ارکان میں اضافہ کرنے کی حمایت کرتا ہے کیونکہ اس سے اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی کے عمل میں تمام بڑی، درمیانے اور چھوٹی ریاستوں خصوصا افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے افراد کی رائے شامل ہوگی ۔ اس سے موجودہ پانچ مستقل ممبران اور غیر مستقل ممبران کے مابین توازن میں بھی اضافہ ہوگا ۔ آج دنیا کی نظریں مسئلہ کشمیر پر ہیں ۔ گزشتہ سال 5 اگست کو بھارت نے کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے وہاں مسلم آبادی کا توازن بگاڑنے کی چال چلی‘ اس پر یکدم کشمیریوں کا شدید ردعمل سامنے آیا تو بھارت نے سخت پابندیوں کا حامل کرفیو نافذ کردیا جس کے باعث مقبوضہ وادی میں بدترین انسانی المیہ جنم لے چکا ہے ۔ اس پر پوری دنیا میں تشویش پائی گئی ۔ اقوام متحدہ نے بھی نوٹس لیا ۔ جہاں تک پاکستان کی طرف سے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے بھارت کی مخالفت کا سوال ہے تو اس کا ایک ٹھوس جواز موجود ہے ۔ ایک ایسا ملک جو تنازع کشمیر کے حل کےلئے اسی عالمی ادارے کی قراردادوں سے منحرف چلا آرہا ہے اور اس نے مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ سے زائد فوج متعین کر کے ریاستی دہشت گردی کی انتہا کر دی، جس کی فوج روزانہ درجنوں بے گناہ کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دینے کو تیار نہیں اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرنا چاہتا ہے ۔ اگر اسے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت دے دی گئی تو اس کے مظالم اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہونے والے حصول انصاف کےلئے کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور کس سے داد رسی چاہیں گے;238; مودی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اصل معاملات و امور سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کے حصول کیلئے کوشاں رہے ۔ بھارت آج نہیں عرصہ سے سلامتی کونسل اور نیوکلیئر سپلائر گروپ اور سلامتی کونسل کی رکنیت کیلئے بے قرار ہے اور دونوں اداروں کی رکنیت اسکے مقدر میں نظر نہیں آتی ۔ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک بھارت کی حمایت پر کمربستہ ہیں ۔ کسی بھی ملک کے نیوکلیئر سپلائر گروپ اور سلامتی کونسل کا رکن بننے کیلئے کچھ لوازم اور شرائط ہیں ‘بھارت ان پر پورا ہی نہیں اترتا ۔ محض مودی کی خواہش اور کچھ ممالک کی پشت پناہی پر بھارت نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بن سکتا ہے نہ ہی سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ حاصل کر سکتا ہے ۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد پانچ ہے ، جنہیں ویٹو پاور بھی حاصل ہے ۔ یہی ویٹو پاور مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں بھی استعمال ہوتی رہی ہے ۔ ایوب خان کے زمانے میں ہماری بھر پور نمائندگی کے سبب یہ امید بندھی کہ اقوام متحدہ یہ مسئلہ حل کر دے گی لیکن یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں پیش ہوا تو روس نے اسے ویٹو کردیا ۔ نریندر مودی کس منہ سے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا مطالبہ کرتے ہیں ;238; جبکہ وہ اس ادارے کی قراردادوں کو تسلیم کرنے سے اسرائیل کی طرح انکاری ہیں ۔ اسرائیل بھی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو اہمیت نہیں دیتا اور بیت المقدس کو یہودی ریاست کا دارالحکومت بنا کر فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں آباد کر رہا ہے ۔ اسرائیلی فارمولے کے تحت نریندر مودی بھی کشمیر کی ریاست میں پور ے بھارت سے فسادی ہندووَں کو لا لا کر آباد کر رہے ہیں ۔ اس ناجائز آباد کاری کے دو مقاصد ہیں ایک تو یہ کہ مسلم اکثریت کی ریاست میں آبادی کا تناسب ہندووَں کے حق میں تبدیل کر دیا جائے اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کو دباوَ میں رکھنے کے لئے آمادہ فساد ہندووَں کو آباد کیا جائے، جو تحریک آزادی کے لئے سرگرم کشمیریوں کو خوفزدہ کر سکیں ۔ ان نئے آباد کاروں میں سابق بھارتی فوجی بھی شامل ہیں جن کے لئے کشمیر کے مختلف حصوں میں جدید بستیاں تعمیر کی گئی ہیں ۔ یہ تصور فلسطین میں یہودی بستیوں ہی سے مستعار لیا گیا ہے اور اس میں اسرائیلی مشیروں کی مشاورت کا بھی دخل ہے ۔