- الإعلانات -

غداری مقدمہ، وزیر اعظم کا اظہار ناپسندیدگی

پاکستان کی سیاست اس وقت جس نہج پر جارہی ہے وہ خوش آئند نہیں اس کے دورس اور منفی نتاءج بر آمد ہونگے ، یوں تو ایوان بالا اور زیریں میں سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں لیکن جہاں تک ملک سے غداری کا مسئلہ ہے تو یہ انتہائی خطر ناک ہے ،اس وقت جو الزام تراشیاں کی جارہی ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے کتنے ثبوت موجود ہیں یا نہیں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان سے ملکی مفادات اور بین الاقوامی سطح پر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ، سیاست عوامی مفادات اور ملکی تحفظ کو سامنے رکھ کی جانی چاہیے ایسے الزامات تو جمہوریت کے منافی اور فاشزم کی جانب ایک قدم ہے ، جمہوریت میں جمہور کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور جب جمہور کے مسائل حل ہوتے ہے تب ہی جمہوریت بھی پنپتی ہے ، اہم بات یہ ہے کہ جیسے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے دیگر ساتھیوں پر غداری ، اکسانے کے حوالے مقدمہ درج کیا گیا ،بقول وفاقی وزیر فواد چوہدری کے جب وزیر اعظم کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا یہ انتا بڑا قدم اٹھا لیا گیا ، کس نے اٹھا ، کیوں اٹھایا، اس کے مضمرات کیا تھے ، ان کے بارے میں تحقیقات انتہائی ضروری اور وقت کا تقاضا ہے ، اگر تو بات سچ ہے تو جو بھی اس کا مرتکب ہوا چاہے وہ اقتدار سے ہو، یا اپوزیشن سے اس کو قرار واقعی سزا ہر صورت ملنا چاہیے اور یہ اگر محض الزام برائے الزام ہے تو پھرجس نے یہ الزام عائد کیا اس کو دیدہ عبرت نگاہ بنا دینا چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کی خطر ناک جرات کوئی نہ کرسکے ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن)کے43عہدیداروں کے خلاف بغاوت، سازش اور عوام کو اکسانے سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں شہری بدر رشید کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ مقدمہ میں مدعی نے موقف اختیار کیا ہے کہ میں ایک محب وطن پاکستانی شہری ہوں جبکہ مجرم نواز شریف جو کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے سزا یافتہ ہے اور اس کیخلاف مختلف بدعنوانی اور کرپشن کے مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور لاہور ہائی کورٹ لاہور نے بنیادی انسانی حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے جان بچانے کےلئے اور علاج معالجہ کےلئے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی اور حکومت وقت نے مخالفت نہ کی ۔ اب سزا یافتہ ملزم نواز شریف علاج کرانے کی بجائے لندن میں بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی سازش مجرمانہ کے تحت پاکستان اور مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کی غرض سے نفرت آموز اور اشتعال انگیز تقاریر کر رہا ہے ۔ نواز شریف نے اپنے خطابات 2020-9-20 اور 2020-10-1 ہمارے دشمن ملک انڈیا کی ڈیکلئیر پالیسی کی تائید میں کئے تا کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کے ;200;ئندہ اجلاس میں گرے لسٹ میں ہی رہے ۔ نواز شریف کی تقاریر کا بنیادی مقصد پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنا تھا اور پاکستان کو روگ سٹیٹ ڈیکلیئر کرنا ہے ۔ اس سلسلے میں نواز شریف نے 20 ستمبر اور یکم اکتوبر 2020 کو آل پارٹیز کانفرنس ، مسلم لیگ کی سنٹرل اور کور کمیٹی اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے خطابات کئے اور ان میں موجودرہنماءوں نے نواز شریف کی تقریروں کی تائید کی ۔ نواز شریف پاکستان کے نیب قوانین کے تحت ایک سزایافتہ مجرم ہے اور نواز شریف کا مقصد میڈیا پر براہ راست پاکستان کے مقتدر اداروں کیخلاف نفرت آموز اور اشتعال انگیز تقاریر کرنا اور پاکستانی عوام کو بالخصوص اپنی پارٹی ممبران کو پاکستان کے مقتدر اداروں کیخلاف بغاوت پر اکسانا ہے ۔ دوسری طرف نواز شریف سرعام سیاسی اجتماعات سے لندن سے بیٹھ کر میڈیا کے ذریعے پاکستانی عوام کو کھلے عام بغاوت کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ عوام ایک منتخب شدہ جمہوری حکومت کےخلاف اعلان بغاوت کریں تاکہ ملک میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جا سکے ۔ نواز شریف کی اس طرح کی تقاریر کا مقصد بھارتی افواج کا کشمیر پر قبضہ کی کارروائیوں اور بھارتی افواج کے مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانےوالے مظالم سے توجہ ہٹ جائے اور بالواسطہ طور پر پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتے ہوئے اپنے دوست بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بالواسطہ فائدہ پہنچایا جا سکے اور عالی برادری میں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں اور مسلح افواج کو بدنام کیا جا سکے اور پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کیا جا سکے اور کہا جائے کہ پاکستان کی عسکری قیادت جمہوریت دشمن ہے ۔ نواز شریف بیرون ملک بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کو بدنام کر رہا ہے کیونکہ پاکستان کے قوانین کسی سزا یافتہ مجرم کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی عوام کو افواج پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسائے ۔ مریم نواز شریف و دیگر متذکرہ بالا مسلم لیگ (ن) کے لیڈران کا مجرم نواز شریف کی تقاریر کی تائید اور حمایت کرنا قانون کی گرفت کے زمرے میں آتا ہے ۔ لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ جس پر تھانہ شاہدرہ نے مجموعہ تعذیرات پاکستان کی 10 دفعات سمیت گیارہ دفعات اور پاکستان پروینشن آف الیکٹرانکس کرائمز ایکٹ کے سیکشن 10 کے تحت بغاوت، حکومت کیخلاف سازش، عوام کو اکسانے اور افواہیں سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے ۔

پناگاہوں کی ملک بھر میں توسیع، مستحسن فیصلہ

پناہ گاہوں کی قیام کے حوالے سے حکومت کے اقدامات قابل تحسین ہے کیونکہ ہزاروں لاکھوں افراد ہمارے ملک میں چھت کے بغیر کھلے آسمان تلے زندگی بسر کررہے ہیں ، جن کو دو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ، ایسے میں حکومت نے پناہ گاہوں کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ بے آسرا اور فاقہ زدہ افراد کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ، اب حکومت اس نیٹ ورک کو ملک بھر میں پھیلانے کا اہتمام کررہے ہیں ، ہم یہ کہہ تھے ہیں حکومت کو شہری آبادی سے نکل کر اندورونی سندھ کے غیر ترقی یافتہ علاقوں ، سنٹرل پنجاب کے دور دراز علاقوں ، بلوچستان کے قحط زدہ علاقوں میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہیے تاکہ جو لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں ،بلکہ انہیں پانی کا قطرہ بھی میسر نہیں ،صاف اور گندا تو ایک علیحدہ بحث ہے وہاں پر ان منصوبوں کو شروع کیا جائے تاکہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کرنیوالے بھی پیٹ بھر کے دو وقت کی روٹی کھا سکیں ، حکومت دیکھے کہ سندھ کے اندرون علاقوں میں فقط قحط کی وجہ سے معصوم بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیرِا عظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت میں قائم پانچ پناہ گاہوں کی اپ گریڈیشن اور ملک کے دیگر حصوں میں بہترین سہولتوں سے آراستہ پناہ گاہوں کے مفصل نیٹ ورک کے قیام کے حوالے سے اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں وزیراعظم نے وفاقی دارالحکومت میں ماڈل پناہ گاہوں کے قیام اور ان میں فراہم کی جانےوالی معیاری سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے سہارا اور کمزور افراد کی ضروریات کو پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس ضمن میں حکومت ہر ممکنہ کوشش کرے گی ۔ پناہ گاہوں میں فراہم کی جانےوالی سہولیات کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ پناہ گاہوں میں قیام کرنےوالے مزدروں ، بے سہار افراد کو رہنے اور کھانے پینے کی بہترین سہولیات میسر آئیں ۔ ان کی عزت نفس کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے ۔ پاکستانی قوم میں خدمت خلق کا بے پناہ جذبہ موجود ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایسی کاوشوں کا خیر مقدم کیا جائیگا ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیرصدارت پاکستان نیشنل نیوٹریشن کو;200;رڈینیشن کونسل کا اجلاس ہوا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ سٹنٹنگ جیسے اہم مسئلے کو ماضی میں نظرانداز کیا جاتا رہا ۔ سٹنٹنگ کی وجہ سے بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں ۔ سٹنٹنگ کی روک تھام کیلئے جامع روڈ میپ تشکیل دیا جائے ۔ یہ قوم کا انتہائی اہم ترین مسئلہ ہے کیونکہ آج کے بچے اس قوم اور ملک کے مستقبل کے محافظ ہوتے ہیں ، اگر ان کی غذائیت پر خاطر خواہ توجہ نہ دی جائے تو ان کی دماغی صلاحتیں بھی جِلانہیں پاسکتی اور باقاعدہ نیوٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے دماغ ایک مقام پر جاکر رک جاتا ہے ، اس حوالے سے وزیر اعظم پاکستان اس ملک کے واحد وزیر اعظم ہے جنہوں نے اس ایشو کی جانب توجہ دی کیونکہ اس سے قوم کا مستقبل منسلک ہے ، آج بچوں کی بہترین پرورش اور بھر پور غذائیت پر توجہ دیکر کل کے ملک کا مستقبل محفوظ اور روشن کیا جاسکتا ہے ۔