- الإعلانات -

مقبوضہ وادی میں بھارتی سفاکی

جموں وکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو پون صدی سے زیادہ عرصہ ہونے کو ہے ۔ اس عرصہ میں بھارت نے سفاکی کی تما م حدود پار کر کے کشمیریوں کے حوصلوں کو شکست دینے کی ہرکوشش کی لیکن ناکام رہا ۔ بیلٹ گنوں اور کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال بھی ان کے حوصلے پست نہ کر سکا ۔ جب مظلوم کشمیری بھارت کے سامنے جھکنے کو تیا رنہ ہوئے تو مودی حکومت نے بھارتی آئین میں موجود شق370 جو کشمیریوں کوالگ خصوصی پہچان اور متنازعی حیثیت دیتی تھی اسے ہی روند کر کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا ۔ بھارت سمجھتا تھا کہ اس طرح تحریک آزادی دب جائے گی ۔ الٹی ہوگئی سب تدبیریں کے مصداق مودی کا یہ ہتھکنڈا بھی ناکام ہو چکا ہے،اب بھی اسے گولی سے اپنا قبضہ برقرار رکھنا پڑ رہا ہے ۔ 370کی منسوخی کے بعد وادی کشمیر میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ پانچ اگست 2019 کے بعد سے اب تک 220 عسکری واقعات واقعات پیش ;200;چکے ہیں جن میں 334حریت پسنداور67 عام شہری شہید ہوئے، جبکہ88 بھارتی سیکیورٹی اہلکارواصل جہنم ہو ئے ۔ تحریک ;200;زادی کشمیر کو 1988ء میں تیزی ملی اور مسلح جدوجہد شروع ہوئی،تب سے اب تک مجموعی طور پر40754 کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے ۔ جن میں بوڑھے، بچے خواتین اور جوان سب شامل ہیں ۔ جبکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال کا جائزہ لیا جائے تو اس عرصہ میں 110 واقعات میں 215 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ۔ کشمیر میں ہونے والے اداروں کے اعدادو شمار کے مطابق جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ،مئی میں 16،جون میں 51، جولائی میں 24، اگست میں 20 اور ستمبر میں 20کشمیریوں کو شہید کیا گیا ۔ 48 بھارتی سیکورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال 121مختلف واقعات میں 251افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ پچھلے سال2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں 160 حریت پسند وں کوشہید اور 102 کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2018 میں 254اور 2017 میں 213 حریت پسند شہید ہوئے تھے ۔

ہندوستان انتہائی مکاری سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے جوڑ تا ہے تاکہ مظلوم کشمیریوں کو دہشت گردبنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے ۔ شکرہے کہ دنیا نے اس جھوٹے بیانیہ کو رد کیا ہے ۔ اب دنیا بھارت کے جھوٹے پراپیگنڈے کو سننا پسند نہیں کرتی ۔ ہندو توا کی پیروکارمودی سرکار نے اپنے آئین میں دیا گیا جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرتے ہوئے اسکے حصے بخرے کر کے بھارت میں ضم کرنے کا جو غیرقانونی اقدام اٹھایا، دنیا نے کھل کر حمایت کرنے کی حماقت نہیں کی ۔ بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر یقین رکھنے والے ممالک، شخصیات اور تنظیموں نے اسکے خلاف آواز ضرور بلند کی ہے ۔ حتیٰ کہ خود بھارت کے اندر سے بھی کشمیریوں کے حق میں آوازیں تیز تر ہو رہی ہیں ۔ گزشتہ روزمقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے 5 اگست 2019 کے اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ چین ;200;رٹیکل370کو بحال کرکے کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دلائے گا ۔ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ چین نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق ;200;رٹیکل 370کی منسوخی کو تسلیم نہیں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ان کی مدد سے ;200;رٹیکل 370 بحال ہوگا ۔ مودی حکومت نے 5 اگست 2019کو جو کچھ کیا ہے وہ ناقابل قبول ہے ، مجھے جموں و کشمیر کے مسائل پر پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ فاروق عبداللہ نے گزشتہ ماہ بھی نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا تھا کہ آج کشمیری خود کو بھارتی شہری نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہ بھارتی شہری بننا چاہتے ہیں ۔ ہر کشمیری یہ یقین رکھتا ہے کہ نئے ڈومیسائل قوانین ہندو اکثریت کو خطے میں بڑھانے کےلئے ہیں ، کشمیریوں اور باقی بھارت کے درمیان جو خلا پہلے سے تھا اب مزید بڑھتا جارہا ہے ۔ بی جے پی کا یہ دعویٰ کرنا کہ کشمیری عوام نے اگست 2019 میں کی جانے والی ترمیم کو مان لیا ہے یہ مکمل بکواس ہے ۔ فاروق عبداللہ وہ فرد ہیں جو بھارت کا ہمنوا رہا ہے لیکن مودی حکومت کے حالیہ اقدام سے وہ بھی بولنے پر مجبور ہوئے ۔

دوسری طرف بین الاقوامی سطح پرکشمیر پر بھارتی جھوٹے دعوءوں کی تردید جنرل اسمبلی کے منتخب صدر وولکن بوزکر نے بھی کی ۔ جب وہ گزشتہ دنوں پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتوں میں دنیا پر واضح کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قرار دادیں موجود ہیں جن کی روشنی میں علاقائی سلامتی کےلئے اس تنازع کا حل ناگزیر ہے ۔ وولکن بوزکر نے اس موقع پرمشترکہ پریس کانفرنس میں بھی کہا تھاکہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کنجی ہے اور مشکل چیلنجز کو بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے مگر اس معاملے میں بھارت کی بدنیتی آڑے آرہی ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ کشمیر پر اسکا مقدمہ کمزور ہے ۔ اسی لئے وہ بات چیت سے بھاگتا ہے ۔ مودی کی ہندو نسل پرستی کی شکار حکومت نے تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ۔ اپنے اس غیر قانونی قبضے کو دوام دینے کےلئے اب وہاں ہندوءوں کو آباد کرکے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ بھارتی حکومت پر دباءو ڈال کر جموں وکشمیر کا خود مختارانہ سٹیٹس بحال کرائیں ۔ نہتے کشمیری شہریوں کے خلاف مظالم اور جبری گمشدگیاں بند کرائی جائیں ، انسانی حقوق کی وحشیانہ پامالی رکوائی جائے ۔ بھارتی سکیورٹی فورسزکی جانب سے کشمیریوں کے خلاف طاقت کا بہیمانہ استعمال جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ کووڈٖ 19 کے ماحول میں نہتے کشمیریوں کیساتھ یہ سلوک انسانیت سوزی کی بدترین مثال ہے،حالانکہ اقوام متحدہ نے اس حوالے سے جنگ بندی کی اپیل کے علاوہ سخت دیگر شرائط بھی عائد کر رکھی ہیں ۔