- الإعلانات -

دریاخان کا گلزار

دریا خان صحرا تھا،جہاں گرمیوں میں سرخ ;200;ندھیاں چلتی تو ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیا کرتا تھا ۔ جہاں سورج گرمی کے سارے مہینوں میں سوا نیزے پہ رہاکرتا تھا ۔ گرمی شدت سے چرند،پرند،انسان،حیوان سب بے چین رہتے تھےاوررات کے پچھلے پہر جب ریت ٹھنڈی ہو جاتی تھی تو تھل کےمحوخواب مکیں اس کے طویل ہو جانے کی دعائیں مانگا کرتے تھے ۔ وہی دریاخان دریائے سندھ سے مشرق کی سمت ;200;ج بھی شاد ;200;باد ہے ۔ ایک وقت تھا دریائے سندھ شہرسے تھوڑے سے فاصلے پر بہا کرتا تھا ۔ سیلاب کے دنوں میں دریا،کچے کے مکینوں کے مکان گراتا،فصلیں ڈبوتا،شہر کے غربی کنارے سے سرمارتا تھا لیکن اسے پیربڈھایا صاحب رحم اللہ علیہ کے مزار سے ادھر ;200;نے کی اجازت نہ تھی ۔ مزار کے پاس سے جو سڑک گزرتی ہے،یہ صدیوں پرانا تاریخی رستہ ہے،جہاں سے پنجاب اور سرحد کا ربط تھا ۔ اسی رستے پر کشتیوں کا پل بندھا ہوا تھا اور ایک دو مقامات پر لکڑیوں اور لوہے کے پل بھی ہوا کرتے تھے ۔ بعض محقق اس رستے کو شیر شاہ سوری سے منسوب کرتے ہیں ۔ مگر شیر شاہ اٹک سے ہوتا ہوا،ٹیکسلا اور حسن ابدال ;200;یا تھا اور واہ کینٹ کا معروف مال روڈ شیر شاہ اور مغلیہ خاندان کی یاد گار ہے ۔ جرنیلی سڑک بھی یہی ہے جو اس نے کابل سے کلکتہ تک بنوائی تھی ۔ اسی پر مغلیہ فرمانروا بھی سفر کرتے رہے اور انہوں نے جگہ جگہ باولیاں اور کوس مینار بھی تعمیر کروائے تھے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے دریاخان کارستہ بھی قدیم ترین گزرگاہ ہے ۔ اس رستے پر بھی کئی مقامات پر کوس میناروں کے نشانات ملتے ہیں ۔ لیکن اس رستے کو سب سے زیادہ ترقی انگریز دور میں ملی ۔ جب انگریزوں نے ریلوے لائن بچھائی تو دریاخان کا ریلوے اسٹیشن بڑی اہمیت اختیار کر گیا ۔ مشرق کی طرف سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کے لیے یہ واحد راستہ تھا ۔ چنانچہ یہاں بہت سی سرائیں ، اور ہوٹل بن گئے ۔ جہاں دور دراز سے ریل کے ذریعے ;200;نے والے رات گزارتے اور پھر صبح سویرے ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب عازم سفر ہوتے تھے ۔ دریاخان ریلوے کے اپنے مسافر خانے کی عمارت بھی بہت بڑی ہے ۔ اور وہ اس کے تاریخی پس منظر کی نشاندھی کرتی ہے کہ کس قدر مسافر وہاں سستاتے ہوں گے ۔ دریاخان کے ریلوے اسٹیشن اور وہاں کے مسافر خانوں کا ذکر معروف شاعر ناصر کاظمی نے بھی اپنی ایک غیر مطبوعہ ڈائری میں کیا ہے جب 1925 میں انہوں نے اپنے خاندان کے بعض افراد کے ہمراہ انبالہ سے ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر کیا تھا ۔ پیر بڑھایا کا اصل نام بازید بتایا جاتا ہے ۔ ;200;پ سید تھے ۔ یہاں ;200;پ کب ;200;ئے ۔ ;200;پ کی زندگی کے بہت سے راز، وقت کی گرد میں ملفوف ہیں لیکن ;200;پ کا مزار شریف ;200;ج بھی مرجع خلائق ہے ۔ لوگ یہاں دور اورنزدیک سے حاضر ہوتے ہیں اور مرادیں سمیٹے ہیں ۔ مزار کے احاطے میں حضوری اور سکون و سرور کی کیفیت موجود ہے ۔ ایک دور میں مزار کے قرب وجوار میں ;200;پ کے عرس کے موقع پر میلہ لگا کرتا تھا،جہاں دودا،کشتی، اورگھڑسواری کے مقابلے ہوتے تھے ۔ بے شمار لوگ اس موقع پر عرس کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے ۔ اب طویل عرصہ ہوا ہے یہ میلہ بند کر دیا گیا ہے ۔ فروغ تعلیم کے لیے دریا خان کا ہائی سکول جو بعد میں ہائر سیکنڈری بنا اپنے دور کا ایک مثالی سکول تھا ۔ تھل کے تپتے ریگزار میں یہ واحد سکول تھا جو سارے تھل اور کچے کے نوجوانوں کا تعلیمی سنگم تھا ۔ یہاں کے اساتذہ کرام بھی انتہائی اخلاص اور شفقت سے پڑھانے والے تھے اور طلبا بھی محنت سے کامیابی کے حصول پر یقین رکھنے والے تھے ۔ میں نے اسی سکول سے میٹرک کا امتحان1987 میں پاس کیا تھا ۔ اس نرم گرم مزاج کے شہر میں نوجوانوں کے لیے اب بہت سے پرائیویٹ اور سرکاری سکول اور کالج بن چکے ہیں مگر ایک گوشہ عافیت ;200;ج بھی ایسا موجود جو طلبا کی علمی تشنگی بجھانے میں میٹھے پانیوں کے دریا کی طرح رواں دواں ہے ۔ یہاں نوجوان علم کی دولت سے اپنے ذہنوں کو سیراب اور دلوں کو شاداب کرتے ہیں ۔ یہ گورنمنٹ کالج دریاخان ہے ۔ یہاں پروفیسر منیر بلوچ پرنسپل ہیں ۔ منیر بلوچ ایک بڑے ماہر تعلیم اور استاد ہی نہیں ایک ہمہ جہت مقرراور صاحب اسلوب نثر نگار بھی ہیں ۔ ان کے ہم جلیس،ان کے انداز تخاطب اور قارئین دلکش اسلوب بیان کے دلدادہ ہیں ۔ منیر بلوچ صاحب تمام ضلع بھکر اور میانوالی میں جانےاور پہچانے جاتے ہیں ۔ بھکر کے مقامی روزنامہ بھکر ٹائمز میں ;200;پ کا کالم کئی دہائیوں سے طلبا اور قارئین کی ذہنی و باطنی تربیت کا سامان کرتا رہا ہے ۔ پروفیسر منیر بلوچ کی دو کتابیں منظر عام پر;200; چکی ہیں ۔ ایک ان کے کالموں ،افسانوں اور مضامین کا مجموعہ ہے جو السلام علیکم کے نام سے شاءع ہوا ہے اور دوسری کتاب اصغر خان نوانی کی سوانح حیات ،کارناموں اور نظریات پر مبنی ہے ۔ منیر بلوچ جب سے پرنسپل بنے ہیں کالج میں بہت سی تبدیلیاں لائے ہیں ۔ انہوں اپنی حکمت عملی اور صلاحیتوں سے صحرا کو گلزار بنا ڈالا ہے ۔ کالج میں جہاں سبزہ وگل بصارت کو مہمیز کرتے ہیں وہاں جگہ جگہ صوفیا کے بصیرت افروز اقوال اذہان کو کشادہ اور دلوں کو منور کرتےدکھائی دیتے ہیں ۔ لائبریری موجود ہے لیکن لائبریرین موجود نہیں ہے ۔ اس کا چارج ایک لیکچرر کو دیا ہوا ہے ۔ ;200;ج سےچار پانچ سال قبل جب یہ کالج نئی عمارت میں منتقل ہوا تھا تو اساتذہ کی تعداد 13 تھی ;200;ج چار پانچ سال بعد بھی اساتذہ کی تعداد اتنی ہی ہے جبکہ طلبا کی تعدادبہت زیادہ ہو چکی ہے ۔ یہاں ، فزکس،بائیولوجی،کمپیوٹر سائنس ،انگلش اور کچھ اور مضامین کی ;200;سامیاں خالی پڑی ہیں ۔ پنجاب حکومت کے محکمہ تعلیم کو دیہی علاقوں میں قائم کالجز میں اساتذہ کی کمی کا فوری نوٹس لینا چاہیے خاص طور پر دریاخان کالج میں تمام خالی سیٹوں پر تقرر اس لیے بھی ضروری ہے کہ اردگرد کے دیہی علاقوں کے طلبا کے لیے یہ واحد بڑا کالج ہے ۔ کالج کی لائبریری میں تین سے چار ہزار کے درمیان کتب موجود ہیں ۔ لائبریری کے لیے جگہ موجود نہ ہونے پر اسے ایک لیب کے لیے مخصوص کمرے میں قائم کیا گیا ہے ۔ ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے یہاں ایک ;200;ڈیٹوریم کی بھی ضرورت ہے ۔ دریاخان سے ایم پی اے منتخب ہو کر شہباز شریف بھی وزیراعلی پنجاب رہے ہیں لیکن علاقے کے عوام کے انتظار کے باوجود انہوں نے یہاں قدم نہیں رکھا تھا ۔ اب وزیراعلی بزدار صاحب(جوعلم کے فروغ میں کوشاں ہیں ) ان کی خصوصی توجہ اس علاقے اور کالج کو چار چاند لگا سکتی ہے ۔