- الإعلانات -

مولانا عادل کی شہادت، فرقہ وارانہ فساد کی سازش

شاہ فیصل کالونی کراچی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل اور ان کے ڈرائیورکی شہادت پر صدر ، وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت تمام اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ مجرموں کو کٹہرے میں لانے اور قرار واقعی سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ مولانا عادل ، سابق سربراہ وفاق المدارس العربیہ مولانا سلیم اللہ خان کے بیٹے تھے ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ممتاز عالم دین مولانا عادل خان کی شہادت کی شدید مذمت کر تے ہوئے اسے پاکستان کے دشمنوں کی جانب سے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش قرار دیا اور ہدایت کی کہ مجرموں کوانصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے سول انتظامیہ کی ہرممکن مدد کی جائے ۔

ان کی نمازجنازہ جامعہ فاروقیہ حب ریور روڈ فیز2 میں مولاناعادل خان کے بڑے بھائی مولانا عبیداللہ خالد کی امامت میں ادا کی گئی جس میں مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا حنیف جالندھری، سینیٹر عبدالغفور حیدری، مولانا راشد سومرو، مہتمم جامعہ بنوریہ مفتی نعمان اور حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کے علاوہ علمائے کرام، سیاسی شخصیات، مدارس کے طلبہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

ڈاکٹر عادل خان، جامعہ فاروقیہ کے بانی مولانا سلیم خان کے صاحبزادے تھے ۔ انہوں نے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی اور ملائشیا میں پڑھاتے بھی رہے تھے ۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ کراچی آ گئے اور یہاں جامعہ فاروقیہ کا انتظام سنبھال لیا تھا ۔ وہ ایک ماہر اسلامی علوم تھے اور اعتدال پسندی پر عمل پیرا تھے ۔ ان کے قتل سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ یہاں فرقہ وارانہ فسادات کی سازش ہو رہی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وطن دشمنوں کی طرف سے پھیلائی جانے والی فرقہ واریت کی آگ ہے ۔ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش کر رہا ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔

مولانا عادل کی شہادت عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے اور اس واقعہ میں بیرونی ہاتھ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے وطن عزیز میں فرقہ واریت کے زہر کی مسلسل نشاندہی کی جا رہی تھی ۔ خود وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی سازش کا انکشاف کیا اور اب تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھی نشاندہی کی ۔ اس واقعے سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ دشمن ہ میں زک پہنچانے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد گھٹیا حربوں پر اتر آیا ہے اور فرقہ وارانہ دہشت گردی شروع کر دی ہے ۔ فرقہ واریت کے نام پر ہ میں تقسیم کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ۔

فرقہ واریت پھیلانے والے بدبخت عناصر دراصل بھارت کی مذموم سازشوں کی تکمیل میں بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اس کی مدد کر رہے ہیں ۔ اس لئے ایسے عناصر کو اپنی صفوں میں تلاش کر کے باہر نکالنا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اگر خود باخبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس سازش کو ناکام بنانے اور سازشی عناصر کو منظر عام پر لانے کے لئے کیا کِیا گیا ۔ کیا دینی معززین کے اجلاس سازش کو ناکام بنا سکتے ہیں ۔ ایسے اجتماعات مذہبی ہم آہنگی کے لئے تو درست ہو سکتے ہیں لیکن سازش کو تلاش کر کے ناکام نہیں بنا سکتے ۔ اس کے لئے انٹیلی جنس کی ضرورت ہے اور ہمارے ملک کو یہ وسائل حاصل ہیں اِس لئے ضروری ہے کہ بیانات سے آگے اقدام ہو اور سازشی بے نقاب ہو کر گرفتار ہوں ۔ امریکی اخبار فارن پالیسی نے بھارت کی طرف سے دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے اور پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے مذموم بھارتی عزائم کو بے نقاب کیا ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے کافی عرصہ سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس میں بھارت کے مذموم عزائم کے حوالے سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے اس لیے ایسے نازک موقع پر مولانا عادل کے مدرسہ و جماعت کے علماء اور طلبہ سمیت تمام عقیدت مندوں اور دیگر تمام مذہبی رہنماءوں اور علماء کرام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد اْمت کو فروغ دینے کے لئے تمام کاوشیں بروئے کار لانا ہونگی تاکہ دشمن کو اس محاذ پر بھی عبرتناک شکست ہو ۔

بھارت کی انتہا پسند پالیسی ایک تباہ کن خطرہ ہے ۔ اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو اس کے دور رس اثرات ہونگے ۔ بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں ۔ بھارت دراصل طالبان کے نظریات کو فروغ دینے میں ایک جڑ اور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ کشمیر میں بھی بھارت میں موجود انہی عناصر نے کردار ادا کیا ۔ بھارت کے پاکستان‘ افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے روابط، سر پرستی اور ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں ۔ اس سے پہلے بھارت صرف خطے میں ہی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے‘ لیکن اب یہ تبدیل ہورہا ہے، داعش کو استعمال کر کے مذہبی گروپس خاص کر نوجوانوں کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہاپسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دیا ہے ۔

بھارتی دہشت گردوں کے افغانستان میں داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کے واضح ثبوت ہیں ۔ داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں واضح اضافہ ہوا ہے ۔ چاہے وہ 2016اتا ترک ائیرپورٹ پر حملہ ہو، چاہے وہ زیر زمین پیٹرز برگ پر حملہ ہو ۔ بھارتی دہشت گردوں نے خاص کر افغانستان اور شام کو بیس بنا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا ۔ بھارت میں مودی نے ہندو نیشنلزم کو فروغ دیا ہے ۔ ہندو نیشنلزم انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے ۔ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ زیادہ ہندوستانی علاقائی اور عالمی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہوں ۔