- الإعلانات -

بھارت کی’ڈرٹی منی ‘اور خاموش دنیا

سالار اعلیٰ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی ’کاکول‘ میں پاسنگ آءوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے افواج پاکستان کی آئین و قانون کے تحت ذمہ داریوں کو اجاگر کیا اور حکومت کی آئین و قانون کی گائیڈ لائنز کے مطابق مدد جاری رکھنے کا اعلان کیا جو درحقیقت افواج پاکستان کی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کا حصہ ہے اور ملک کی سلامتی کے خلاف دشمن کی جاری سازشوں کے توڑ کیلئے یہ ضروری بھی ہے کہ تمام قومی ریاستی اداروں میں مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی کی فضا استوار ہو ۔ انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ یقینا بھارت ہائیبرڈ وار کے ذریعے ملک کی سرحدوں کے تحفظ و دفاع کی ضامن افواج پاکستان کے خلاف منافرت کی فضا پیدا کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے تو ایسے میں ہ میں من حیث القوم سپاہ پاکستان کے ساتھ یکجہت ہوکر دشمن کی یہ گھناءونی سازشیں بھی ناکام بنانی ہیں ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ اپنے ہی شہریوں کو غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی فیکٹریاں بند کر دی جائیں اور ذاتی‘ سیاسی مفادات سے باہر نکل کر دفاع وطن کے تقاضوں کے تحت عساکر پاکستان کے ہاتھ مضبوط بنائے جائیں کیونکہ سسٹم کا قیام و استحکام بھی ملک کی سلامتی کے ساتھ وابستہ ہے ۔ اسی ضمن میں مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کی غیر انسانی اور مجرمانہ روش کا انکشاف اب کئی عالمی طبقات کی جانب سے کیا جانے لگا ہے ۔ امریکی محکمہ خزانہ کے محکموں کو جرائم نافذ کرنےوالے نیٹ ورک (فنچین)نے منی لانڈرنگ میں ہندوستان کے سرکاری بینکوں کی شمولیت کا انکشاف کیا ہے، یہ منی لانڈرنگ اس خطے میں دہشت گردی کی مالی اعانت کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔ مذکورہ رپورٹ میں ہندوستان کو ’’ڈرٹی منی‘‘ کا ہب قرار دیا گیا ہے ۔ مشکوک سرگرمیوں کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی ادارے اور افراد 3 ہزار 201 ٹرانزیکشنز کے ذریعے 1;46;53 ارب ڈالر سے زائد کی غیر قانونی منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہیں ، ان تمام ٹرانزیکشنز کے لئے کل 44 ہندوستانی فنانس تنظیموں کو استعمال کیا گیا ۔ سنجیدہ حلقوں نے اس ضمن میں رائے ظاہر کرتے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو منی لانڈرنگ میں ہندوستان کے کردار پر نظرثانی کرنی ہوگی، یاد رہے کہ 2020 میں ہندوستان کا 10 سالہ جائزہ لیا جانا تھا لیکن کرونا وائرس کی بدولت اس جائزے کو 2021 تک ملتوی کر دیا گیا ۔ اسی کے ساتھ ساتھ مشہور و معروف امریکی جریدے فارن پالیسی نے کہا ہے کہ بھارت عالمی دہشت گردی میں ملوث اوردنیا کےلئے انتہائی خطرناک ہے ۔ جریدے نے اپنی رپورٹ میں بھارت اور داعش کے گٹھ جوڑ کا بھی انکشاف کیا ہے ۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ بھارتی دہشت گردی کی داستانیں تاریخی طور پر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہیں اور اگر بھارت کی انتہا پسند انہ پالیسیوں کا نوٹس نہ لیا گیا تو دنیا پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔ فارن پالیسی کے مطابق داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ نے 2019 ء میں سری لنکا میں ایسٹر پر بم دھماکے کیے، 2017 ء میں ترکی میں کلب پر حملہ، نیویارک اور اسٹاک ہوم میں حملے کیے اور ان حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارتی شمولیت انتہائی پریشان کن ہے ۔ فارن پالیسی میگزین نے بھارت کو انتہا پسند نظریات کے فروغ کی جڑ اور بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ بھارت کے دہشت گرد گروپوں کی سر پرستی کے واضح ثبوت موجود ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر، کیرالہ اور کرناٹک میں بھی بھارت میں موجود انہی عناصر نے کردار ادا کیا اور ہندوستان کے پاکستان و افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط کے واضح ثبوت منظر عام پر آ چکے ہیں ۔ مذکورہ جریدے نے مزید انکشاف کیا کہ پہلے بھارت صرف خطے میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا، اب یہ اس سے بھی آگے کی جانب بڑھ رہا ہے، اسے روکا نہ گیا تو یہ علاقائی اور عالمی امن کےلئے انتہائی خطرناک ہوگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ بھارتی دہشت گردوں نے خاص طور پر افغانستان اور شام کو بیس بنا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا اور کابل میں سکھ گردوارہ پر حملے میں بھی بھارتی دہشت گرد ملوث تھے ۔ داعش بھارت میں موجود اپنے دہشت گرد گروپس کا باضابطہ اعلان پہلے ہی کر چکی ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ جنگی جرائم بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ پہلی قسم کو امن کیخلاف جرم قرار دیا گیا ہے، اس ضمن میں جارحیت کے نقطہ نظر سے جنگ کی منصوبہ بندی، تیاری اور عملی جارحیت شامل ہیں ۔ جنگی جرائم کی دوسری قسم وہ ہے جس کے مطابق انسانی اقدار کے خلاف جرائم ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال کے مطابق اگر دو ممالک یا گروہوں کے مابین بوجوہ جنگ کی نوبت آ ہی جائے تو اس جنگ کے دوران شہریوں کی ہلاکت، عوام پر جان بوجھ کر گولہ باری، زیر حراست افراد کے خلاف دوران حراست تشدد ،ہلاکتیں اور شہری ٹھکانوں کو تباہ کرنا شامل ہے ۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اگر کوئی فرد یا گروہ جان بوجھ کر اس قسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے تو عالمی برادری کا فرض ہے کہ جنگی جرائم کے ٹربیونل قائم کر کے ایسے افراد کے خلاف باقاعدہ مقدمات چلائے جائیں اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’نورم برگ‘‘ میں عالمی برادری نے اسی بین الاقوامی قانون اور روایت کے تحت بہت سے نازی جرمنی کے اہلکاروں اور کئی جاپانیوں کو باقاعدہ مقدمہ چلانے کے بعد مختلف نوعیت کی سنگین سزائیں دی تھیں اور پھر گذشتہ برسوں میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد سربیا کے حکمران ’’ملازووچ‘‘ اور اس کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کیا اور ہیگ (ہالینڈ میں قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل) میں ان کےخلاف مقدمات چلائے گئے ۔ اس کے علاوہ کمبوڈیا کے سابق حکمران ’’پول پاٹ‘‘ کے قریبی ساتھیوں کیخلاف بھی جنگی جرائم کے ارتکاب کے تحت مقدمات چلے ۔ ایسی صورتحال میں بہت سے حلقوں کی یہ رائے خاصی وزن اختیار کر گئی ہے کہ پچھلے پچیس برسوں سے جس بڑے پیمانے پر جموں کشمیر کی مقبوضہ ریاست میں انسانی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں اور جس شدت سے یہ سلسلہ جاری ہے، ہزاروں افراد کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا گیا،ان جرائم کے مرتکب بھارتیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل میں مقدمات کیوں نہ چلائے جائیں اور ایسے میں عالمی برادری کب تک خاموش رہے گی;238;