- الإعلانات -

جنگی حکمت عملی ناکام

اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو کم کرنے کا عزم ۔ مہنگائی کو ہر صورت کنٹرول کرنے کا اعلان ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ چینی ;200;ٹا دالیں فروٹ بجلی وغیرہ مہنگی ہو گئی ہیں ۔ ان اشیا کی قیمتوں کے بڑھنے سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ۔ زندگی مشکل ہوگی اور مسائل بڑھ گئے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ موجودہ حکومت نا تجربہ کار ہے حکومت کا انتظامی کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ عمران خان نے بیوروکریسی کو کنٹرول کرنے اور ان کی عیاشیوں اور اختیارات کو کم کرنے کے دعوے بھی کیے تھے اور یہ بھی سچ ہے کہ عوام نے عمران خان پر اعتماد کرکے عمران خان کو قائد اعظم ثانی سمجھ کر اعتماد کرتے ہوئے میاں نواز شریف اور ;200;صف علی زرداری کی مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کو شکست دے کر عمران خان کو اقتدار بخشا تھا ۔ میاں نواز شریف اور ;200;صف علی زرداری کو شکست سے دوچار کرنے والی عوام کا خیال تھا کہ عمران خان سابق حکمرانوں کو کرپشن اور لوٹ مار سے جمع خزانوں کو پاکستان واپس لا کر ملکی معیشت کو سنبھالا دے گا ۔ عمران خان نے دعوے کیے تھے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری لا کر ملکی معیشت کو مضبوط اور ملک میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرے گا ۔ عوام کو امید تھی کہ عمران خان اقتدار میں ;200;کر بیوروکریسی جو بد مست ہاتھی بن چکی ہے ۔ اسے قومی خدمت کا ادارہ بنائے گا ۔ کرپشن افسران کریں گے یا حکمران سب کو احتساب کی چکی سے گزرنا ہو گا ۔ تعلیم و صحت کے میدان میں عوامی امنگوں پر پورا اتروں گا ۔ ;200;ج یہ سچ ہے کہ یہ خوبصورت نعرے تھے ۔ یہ پرکشش باتیں تھیں ۔ یہ عوامی جذبات ابھارنے والے اعلانات تھے ۔ عام لوگوں خصوصاً نوجوانوں پڑھے لکھے اور مالدار طبقہ نے عمران خان کی پکار پر لبیک کرتے ہوئے عمران خان کی بھرپور تائید کرتے ہوئے 2018 کے الیکشن میں عمران خان کو فتح سے ہمکنار کیا ۔ یہ سچ ہے کہ عمران خان دیانت دار پر خلوص اور محب وطن اور عوام دوست انسان ہے ۔ مگر عمران خان کی ٹیم ان صفات کی حامل نہ ہے ۔ عمران خان کی ٹیم میں خود غرض نالائق مفاد پرست لالچی اور چور بھی ہو سکتے ہیں ۔ جسکی وجہ سے عمران خان کو کوئی خاص کامیابی تاحال نصیب نہ ہوئی ہے ۔ عمران خان کو اپنے مشیروں نے اپنے گھیرے میں اس قدر چا لاکی سے لے رکھا ہے کہ ملک موجودہ حکومت کے دور میں مختلف بحرانوں کا شکار ہوا ہے ۔ مگر نالائق اور خودغرض مشیروں و وزیروں نے عمران خان کو یہ بھی نہ سمجھنے دیا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی اہمیت و مقبولیت بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ نالائق جاہل اور خود سر مشیروں و وزیروں نے عمران خان کو کچھ ایسے حصار میں لے رکھا ہے جس کو توڑ کر عمران خان کے کانون میں ایسی خبر پہنچانا نا ممکن ہے جو عوامی فلاح و بہبود کی ہو ۔ یا لوگوں کے مسائل و مشکلات کی ;200;گاہی عمران کو ہو ۔ جیسے ;200;ٹا گندم چینی فروٹ سبزی کے ریٹس عوامی دسترس سے باہر ہو چکے ۔ عوام کی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ تاریخی حدود کو کراس کر چکا ۔ حکومت ;200;ئے روز بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے ۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم ;200;ٹے چینی نے عوام کی نیندیں اڑا دیں ہیں ۔ ایک طرف نالائق مشیروزیر گندم چینی کو وافر وفالتو قرار دے کر ملک سے باہر بھیج کر مال کما کر قوم کو دھوکا دے رہے ہیں ۔ تو دوسری طرف اگلے مہینے چینی گندم بیرون ملک سے پاکستان در;200;مد کرکے قومی دولت برباد کرنے میں مصروف ہیں ۔ ایسی کابینہ کو کوئی پکارے تو کس نام سے;238; عمران خان کیا گندم چینی کا بحران عوام نے پیداکیاہے;238; کیا یہ بحران مخالفین نے پیدا کیا ہے;238; کیا اس بحران کی ذمہ دار وفاقی وزرا اور وفاقی سیکرٹری تو نہیں ;238; کیا ;200;پ نے بحران کے ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے;238; اور اگر کارروائی کی ہے تو کس کو کیا سزا دی گئی ہے;238; قوم دیکھنا چاہتی ہے کہ ملک اور قوم کو جس شخص نے بحران کا شکار کیا ہے ۔ اسے کیا سزا ہوتی ہے ۔ ;200;ج ہی خبروں میں صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان فرماتے ہیں کہ مہنگائی روکنے کےلئے جنگی بنیادوں پر حکمت عملی تیار کر رہے ہیں ۔ ادھر اسلام ;200;باد نیشنل پرائز کنٹرول کمیٹی کے اجلاس میں فخرامام عبدالحفیظ شیخ عبدالرزاق داد ڈاکٹر عشرت حسین ڈاکٹر وقار کے علاوہ وفاقی و صوبائی اعلی افسران نے بھی شرکت کی، جنہوں نے مہنگائی کو کنٹرول نہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کرونا وائرس کو ہی مہنگائی کی وجہ قرار دیا ۔ یہ سچ ہے نیشنل پرائز کنٹرول کمیٹی کے تمام شرکا کی کھانے پینے کی ذمہ داری حکومت یعنی عوام کے ذمہ ہے ۔ اس لئے مہنگائی کا ان حضرات پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ ویسے بھی یہ مالدار طبقہ ہیں ۔ جن کو اپنی ;200;مدن کا بھی پتہ نہیں ہوتا ۔ نیشنل پرائز کنٹرول کمیٹی کے ممبران بھی سفارشی ہوتے ہیں ۔ جس طرح اضلاع میں ضلعی سطح پر یہ مختلف کمیٹیاں بنا کر مخصوص افراد کو نامزد کرتے ہیں اور یہ ممبران ڈی سی اور ڈی پی او کی چاپلوسی کرتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملا کر سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں ۔ میرے دیس کی نیشنل پرائز کنٹرول کمیٹی کے معززاراکین بھی گنگ بن کر ہر صورت حکومتی ناکامی پر پردہ ڈال کر اپنے مفادات سمیٹنے کے چکر میں رہتے ہیں ۔ عمران خان یہ مہنگائی جعلی ٹائیگروں پرائز کنٹرول کمیٹی کے نواب سردار جاگیردار ممبران سے کنٹرول ہونے والی نہ ہے ۔ جب تک شوگر ملز مالکان کو پکڑ کر چوراہوں پر ننگا کرکے لٹکایا نہیں جاتا جب تک فلور ملز مافیا کو گرفتار کرکے رینجرز فوج فلور مل نہیں چلاتی یہ معافی حکومتی پردوں کے پیچھے چھپ کر قوم کو لوٹتا رہے گا ۔ جب تک گورنر امیر محمد خان نواب ;200;ف کالا باغ کی حکمت عملی اختیار نہیں کی جاتی یہ منافع خور منافع کی ;200;ڑ میں قوم، ملک لوٹتے رہیں گے ۔ یہ کمیٹیوں والا ڈرامہ چلتا رہا تو اس کا اختیام کبھی نہیں ہوگا ۔ چوہان صاحب ;200;پ بھی میدان جنگ سے باہر ;200;ئیں قوم امن چاہتی ہے ۔ جنگی حکمت عملی سے پرہیز کریں اور ;200;ٹے گھی چینی و بجلی کی قیمتوں کومناسب سطح پر لانے کی کوشش کریں ۔