- الإعلانات -

کڑے سفر کو بصیرت سے کاٹیے

ملکی صورتحال پر بڑھتا ہوا عدم اطمینان جس کی حال ہی میں شاءع ہونےوالے ایک سروے میں نشاندہی کی گئی ہے حکومت کےلئے لمحہ فکریہ ہے سروے کے مطابق موجودہ ملکی حالات پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے والے پاکستانیوں کی شرح 69فیصد اور معیشت پر تشویش کرنے والوں کی شرح 74 فیصد ہے لوگ بھڑتی ہوئی مہنگائی،بے روزگاری، معاشی جمود اور سیاسی بے یقینی سے پریشان ہیں اور یہ بلند شرح چونکا دینے والی ہے یہ صورت حال حکومت کےلئے ایک بڑا سیاسی چیلنج بھی ہے کیونکہ مزید کوتاہی برتی گئی تو خدشہ ہے کہ حکمران جماعت کےلئے اس کے سیاسی اثرات تشویش ناک ہوں گے آج صبح ناشتے کے بعد جب مختلف اخبارات کے کالم اورادارئیے پڑھ رہا تھا تو سب کا لب لباب یہی تھا جس کا میں تذکرہ کرنے لگا ہوں حکومت کےلئے سب سے بڑا چیلنج اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں آٹے چینی، گندم کا بحران اور حکومتی رٹ کا کہیں نظر نہ آنا ہے اسی لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت کی صفوں کے اندر سراسیمگی‘ پریشانی اور افراتفری میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ جہاں تک موجودہ حکومت کی گورننس کا تعلق ہے تو سانحہ ساہیوال سے لے کر موٹروے ٹریجڈی تک کا حساب کتاب ارباب بست و کشاد کی آنکھیں کھول دینے کےلئے کافی ہے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے وزیراعظم پاکستان کے مصاحب اور معاونین انہیں سب اچھا ہے کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں اور ان کو ایک ایسے بھنور میں لے کے جا رہے ہیں جس میں سے نکلنا انتہائی دشوار اور ناممکن ہوگا اس لیے کہ وہی پرانا کھیل،ذہنی ناپختگی، سیاست سے عدم واقفیت کی بنا پر غدار غدار کے نعرے لگانا حکومت کےلئے آسودگی پیدا کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ مشکلات کھڑی کرنے کے مترادف ہے خان صاحب کیوں اس بات کو بھول رہے ہیں کی سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں یہ بات عیاں ہے کی طاقت کے بل بوتے پر دوسروں کو کچلنے کی کوشش کرنے والے اور اپنی کرسی کو مضبوط سمجھنے والے اور تاج کا ہما اپنے سر پر سجانے والے عنقا کی طرح ہمیشہ کےلئے تاریخ سے ناپید ہوگئے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی فوج کا کسی کو سہارا ہے یا اس کے بل بوتے پر وہ اپنی حکومت قائم رکھ سکتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی بھول اور خام خیالی ہے پاکستانی فوج صرف پاکستان کی محافظ ہے کسی سیاسی جماعت کی محافظ نہیں ہے ۔ اسی حوالے سے ہمارے ایک دوست کی;3939; تلخ نوائی;3939; بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے کہتے ہیں عجوبے دنیا میں آٹھ ہیں مگر سچ یہ ہے کہ دنیا خود سب سے بڑا عجوبہ ہے ۔ جسے شک ہو وہ اسرائیل اور عربوں کے تعلقات میں رونما ہونے والی ناقابلِ یقین تبدیلیوں پر غورکرلے اور سبق سیکھے ۔ یہی دنیاہے جس نے شہنشاہ ایران کو در بدر ہوتے دیکھا‘ جس نے حسنی مبارک کو پنجرے میں بند دیکھا‘ جس نے صدام کو زیر زمین ایک سوراخ نما غار سے برآمد ہوتے دیکھا‘ معمر قذافی کا انجام کس کو بھولا ہو گا;238; رومانیہ کا ڈکٹیٹر چی سیسکو ہیلی کاپٹر پر ایک جگہ سے دوسری جگہ مارا مارا پھرتا رہا پھر پکڑ لیا گیا ۔ کورٹ میں پیش کیا گیا تو رسیوں میں میاں بیوی جکڑے ہوئے تھے ۔ پھر انہیں دیوارکے ساتھ کھڑاکر کے گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ ان پر رونے والا بھی کوئی نہ تھا ۔ جن کے اقتدار کے زمانے پچاس پچاس سال پر محیط تھے وہ بھی بالآخر تخت سے اترے اور تاج سے محروم ہوئے ۔ مغل بادشاہوں کا انجام تو کل کی بات ہے قانون کی حکمرانی قانون پر چھوڑ دیجیے ۔ عدالتیں اپنا کام کریں اور نیب اپنا ;245;حکومت کو چاہیے کہ عوام کی مشکلات اور عوام کی ضروریات پر توجہ مرکوز کرے ۔ چینی‘ آٹے اور پٹرول کی قیمتیں کم کرائے ۔ روزگار کے مواقع مہیا کرے ۔ ہاءوسنگ سیکٹر پر توجہ دے ۔ جیل میں ڈالنے اور این آر او نہ دینے کے اعلانات میں ایک عام شہری کو آخر کیا دلچسپی ہو سکتی ہمارے دو ہی تو اثاثے ہیں ‘ آئین پاکستان اور افواجِ پاکستان ۔ کون انکار کر سکتا ہے کہ سیاچن کی فلک بوس چوٹیوں سے لے کر افغان بارڈر کے بے رحم‘ بے آب و گیاہ‘ پہاڑوں تک اسی فوج کے جوان اور افسر مادرِ وطن پر قربان ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔ اس فوج نے‘ ان مسلح افواج نے‘ پاکستان کی دھرتی کو اپنے لہو سے سینچا ہے ۔ چونڈہ سے کے کر کارگل تک شجاعت و ایثار کی ایک ایسی تاریخ پھیلی ہے جس کی مثال دنیا میں کم ہی ہو گی ۔ پاکستان کی مسلح افواج نہ ہوتیں تو مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کی حیثیت بھارت کے سامنے وہی ہوتی جو سکم اور بھوٹان کی ہے ۔ یہ پاکستانی افواج ہیں جنہوں نے بھارتی توسیع پسندی کو لگام دے رکھی ہے ورنہ ہندو سامراج برصغیر کا بارڈر کراس کرچکا ہوتا ۔ سیاسی سکور بڑھانے کیلئے اپنی افواج کا نام استعمال کرنا نرم ترین الفاظ میں بھی ایک غیر دانشمندانہ اقدام ہے ۔ اسے فوج دوستی کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔ اپنی لڑائی خود لڑیے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس طرح سیاسی مخالفین پر فوج دشمنی کا الزام لگایاجا رہا ہے اسے خودفوج آخر کس طرح پسند کر سکتی ہے;238; وہ اپنی بلند حیثیت کو متنازع بنانے کی اجازت کبھی نہیں دے گی اور اس کی حیثیت متنازع ہے بھی نہیں ۔ آصف زرداری سے لے کر نواز شریف تک‘ مولانا فضل الرحمن سے لے کر سراج الحق تک‘ عمران خان سے لے کر شہباز شریف تک کوئی بھی افواج پاکستان کامخالف نہیں ہو سکتا ۔ کسی کی حب الوطنی کوچیلنج نہیں کیا سکتا ۔ کل تحریک انصاف نے سوات آپریشن کی مخالفت کی تھی تو کیا ہم اس اختلاف رائے کی بنیاد پر فوج دشمنی کا الزام لگا دیں ;238; نہیں ! اختلاف رائے ایک مختلف حقیقت ہے ۔ اختلاف کو اختلاف ہی رہنے دیجیے ۔ اسے دشمنی کا نام نہ دیجئے محترم مظہر بر لاس نے مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے بڑی پتے کی باتیں کی ہیں وہ کہتے ہیں کہ نئے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن زیرک سیاستدان ہیں ، وہ ملکی سیاست میں سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے انتہائی چالاک سیاسی رہنما ہیں ۔ ان کی کچھ خوبیاں انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں ، سارے انگریزی ماڈل سیاست میں ان کے سامنے ہیچ ہیں ، انتہائی خوبصورت اور شستہ اردو بولنے والے مولانا فضل الرحمٰن نے دینی مدرسوں سے تعلیم حاصل کی ہے مگر وہ سیاست آکسفورڈ اور ہارورڈ میں پڑھنے والوں سے کہیں بہتر جانتے ہیں ۔ وہ حالات کی نزاکت کا ادراک بھی انگریزی ماڈلوں سے بہتر کرتے ہیں ۔ سرائیکی، پشتو، پنجابی، عربی اور اردو بولنے والے مولانا فضل الرحمٰن فارسی اور انگریزی بھی خوب سمجھتے ہیں ، ایسا نہیں کہ انہیں کھیلوں سے دلچسپی نہیں ، وہ والی بال کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں ۔ مولانا حاضر جواب ہی نہیں بلکہ کمال کے جملے باز ہیں ۔ مولانا نے کمال مہارت سے دو بڑی پارٹیوں کو پیچھے لگا لیا ہے ۔ شاید اس وقت سیاسی پارٹیوں کی یہ مجبوری بھی ہے کیونکہ ان کے پاس جلسے بھرنے کےلئے افرادی قوت نہیں ، جب سے سیاسی پارٹیوں میں پیسے کی پوجا شروع ہوئی ہے، نظریاتی کارکن دور ہو گئے ہیں ، نظریاتی کارکن مار کھاتے تھے، کرائے کے کارکن مار نہیں کھاتے ۔ اس لئے نہ ن لیگ جلسے بھر سکتی ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی ایسا کر سکتی ہے ۔ ہم نے مختلف الجہات منظرنامہ اس لیے پیش کیا ہے کہ اس صورتحال میں پی ڈی ایم کی تحریک کے مقابلے کیلئے تحریک انصاف کو عوام کی طرف سے یا خواص کی طرف سے یا میڈیا کی طرف سے کہیں سے بھی کوئی مدد نہیں ملے گی ۔ ہر کوئی حکومت کے ہاتھوں نالاں دکھائی دیتا ہے ۔ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا کیا انجام ہو گا ۔ جب جمہوری ملکوں میں اپوزیشن کی طرف سے ایسی تحریکیں چلتی ہیں تو بالعموم سمجھ دار حکومتیں انہیں مذاکرات کی میز پر لانے اور افہام وتفہیم سے مسائل حل کرنے پر آمادہ کر لیتی ہیں ‘ تاہم جمہوری تحریکوں کی کامیابی کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ میں ملی جلی مثالیں ملتی ہیں ۔ حکومت کو بصیرت کے ساتھ کام لیتے ہوئے اپوزیشن سے محاذ آرائی سے بچتے ہوئے ملکی مسائل کو فوکس کرے اور غربت کی چکی میں پستی ہوئی عوام کےلئے کوئی ایسا لاءحہ عمل اختیار کرے جس سے غربت اور قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ملک کو محفوظ بنایا جا سکے ۔