- الإعلانات -

مہنگائی کو کنٹرول کرنا اہم ترین مسئلہ

اس وقت حکومت کو سب سے بڑامسئلہ جو درپیش ہے وہ مہنگائی کا ہے حکومتی وزراء بھی اس حوالے سے خدشات کا اظہارکررہے ہیں جبکہ کئی ممبران قومی اسمبلی جن کاتعلق اقتدارکے بنچوں سے ہے انہوں نے بھی اس حوالے سے عدم تحفظ کا اظہارکیاہے اگرحکومت آنے والے دنوں میں مہنگائی کو کنٹرول کرپاتی ہے تویہ اس کے لئے خوش آئنداقدام ہوگا تمام حالات کومدنظررکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہاہے کہ وہ مہنگائی کو خودمانیٹرکریں گے ہمارا وزیراعظم کومشورہ ہے کہ وہ مہنگائی کوخودنہ دیکھیں بلکہ عملی طورپرکنٹرول کرنے کے احکامات صادرکریں ۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں کابینہ نے ہدایت کی کہ سابقہ صدور اور وزرائے اعظم پر اٹھنے والے اخراجات اور مراعات کا جائزہ لیا جائے ۔ کابینہ اجلاس میں اشیا کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوانین میں ترمیم کی جا رہی ہے جس کے تحت صدر اور وزیرعظم صرف ایک کیمپ آفس رکھ سکیں گے، کیمپ آفس کے اخراجات کی حد بھی مقرر کی جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عام ;200;دمی کو ریلیف دینے کیلئے تمام سرکاری مشینری کو متحرک کریں گے ۔ ;200;نےوالے دنوں میں ہماری پوری توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی اور ساری صورتحال خود مانیٹر کررہا ہوں ، دیکھتے ہیں اب مافیا کیا کرتا ہے ۔ یقیناوزیراعظم عمران خان کاٹائیگر فورس کے ذریعے مہنگائی کنٹرول کرنے کا فیصلہ درست ہے، منافع خوروں نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے ۔ اس فیصلے سے عوام کو ریلیف ملے گا ۔ موجودہ حالات میں منافع خوری ملک کا بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے اس لئے صوبے اور کاروباری برادری اس فیصلے کی مخالفت نہ کریں بلکہ حکومت سے تعاون کریں تاکہ حالات بہتر ہو سکیں ۔ ٹائیگر فورس کو نئی ذمہ داری دینے کے وزیر اعظم کے فیصلے کو متنازعہ نہ بنایا جائے ۔ عالمی بینک نے مالی سال2021 میں خطے کے تمام ممالک میں پاکستان کی شرح نمو سب سے کم اور مہنگائی سب سے زیادہ ہونے رپورٹ جاری کی ہوئی ہے اور ان حالات میں منافع خوری کا سدباب ضروری ہے ۔ گزشتہ تیس سال سے حکومتوں نے توانائی کے شعبہ اور ایف بی آر میں حقیقی اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں لی جس سے گردشہ قرضہ 2;46;3 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ ٹیکس کا نظام مقاصد میں ناکام رہاہے ۔ حکومت اور آئی ایم ایف نے ٹیکس کے جو اہداف مقرر کئے تھے وہ پہلے دن سے ہی ناقابل حصول تھے جبکہ قدرتی آفات اور کورونا وائرس نے اس میں مزید کمی کی مگر آئی ایم ایف اپنی ضد پر ڈٹا ہوا ہے جس پر عملدرآمد ہوا تو عوام کی باقی ماندہ قوت خرید ختم ہو جائے گی ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ کرونا کیسز بڑھے تو سکولز، شادی ہالز اور دیگر اجتماعات پر پابندی لگائی جاسکتی ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا روز ویلٹ ہوٹل کو فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے کوئی پریشانی نہیں ۔ اپوزیشن انتشار پیدا کرنے کےلئے جمع ہورہی ہے ۔ یہ تمام لوگ اپنی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کےلئے جمع ہوئے ہیں ۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ ریپ جیسے ہولناک جرائم کی موثر روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کو مزید موثر بنایا جائے ۔ کابینہ کو ملک میں سردیوں میں گیس کی ضروریات اور موجودہ ٹرمینلز کی استعداد کار و نئے ٹرمینل لگانے کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی ۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ قانون کا اطلاق سب کے لئے برابر ہے اور گرین ایریاز پر کسی قسم کی تجاوزات کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ کابینہ نے نائیجر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جانب سے امدادی سامان بھجوانے کی تجویز کی منظوری دی ۔ کابینہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بورڈ کے حوالے سے ارکان کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ مقرر کرنے کے حوالے سے تجویز کی منظوری دی ۔ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 12مارچ2020اور 01اکتوبر2020 میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی ۔

بھارتی دہشت گردی کے خلاف مزیدثبوت پیش

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے ہندوستانی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو کے دوران پاکستان کے اندر بھارت کی دہشت گردی کے ثبوت پیش کر دئے ہیں ۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کی پانچ شرائط بھی پیش کیں اور کہا کہ اگر مودی حکومت کشمیریوں پر ظلم بند کر دے تو مذاکرات کیے جا سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے بعد کسی پاکستانی سینئر عہدیدار کا بھارتی صحافی کو یہ پہلا انٹرویو ہے ۔ معید یوسف نے دوران انٹرویوبھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے نئے ثبوتوں کے حوالے سے کرن تھاپر کو بتایا کہ پاکستان کے پاس بھارت کی دہشت گردی کو مالی امداد فراہم کرنے کے ثبوت موجود ہیں ۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول حملے کا ماسٹر مائنڈ حملے کے وقت بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے رابطے میں تھا ۔ پاکستان کے پاس بھارت سے کی گئی فون کالز کے ثبوت بھی موجود ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ را نے ایک پڑوسی ملک میں موجود سفارتخانے کے ذریعے چائنیز قونصلیٹ، پی سی گوادر اور سٹاک ایکسچینج پر حملہ کرایا ۔ حال ہی میں را افسروں کی نگرانی میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کو ضم کیا گیا اور اس کےلئے 10 لاکھ ڈالر دیئے گئے ۔ انٹرویو کے دوران معید یوسف نے بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیلئے پاکستان کی شرائط رکھ دیں اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کرے ۔ مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی فوجی محاصرے کا خاتمہ کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی کے لاگو قانون کا خاتمہ کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکی جائیں ۔ پاکستان خطے میں امن کےلئے کوشاں ہے ۔ لیکن بھارت کی ہندوتوا حکومت کی ظالمانہ پالیسیاں حائل ہیں ۔ مودی حکومت توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں تنہا رہ گئی ہے ۔ بھارت کی کشمیریوں پر بربریت اور فوجی محاصرے کو ختم کیے بغیر مذاکرات ناممکن ہیں ۔

صحافتی آزادی کے لئے ایس کے نیازی کابڑا اقدام

لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کا موٹروے زیادتی کیس کی کوریج پر پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ حق معلومات کے تحت عوام کو آگاہی سے نہیں روکا جاسکتا، میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو ایسا نہیں چلے گا ۔ لاہور ہائیکورٹ میں پیمرا کی سانحہ موٹروے کی کوریج پر پابندی کے فیصلے کےخلاف چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز،چیئرمین روز ٹی وی و سینئر اینکر پرسن اور نائب صدر سی پی این ای ایس کے نیازی کی اپیل پر سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔ چیئرمین روز ٹی وی ایس کے نیازی کے وکیل ایڈوکیٹ ابو ذر سلمان خان نیازی نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے حکم پر پیمرا نے موٹروے ریپ کیس کی کوریج پر پابندی لگا دی ہے جو آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے،انسداد دہشت گری اور پیمرا کا حکم کالعدم قرار دیا جائے ۔ چیئرمین روز ٹی وی ایس کے نیازی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے موٹر وے زیادتی کیس کی رپورٹنگ سے متعلق پابندی کا پیمرا نوٹیفکیشن معطل کردیا،چیف جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے پیمرا کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کا حکم سنایا ۔ چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا مقدمہ کی کاروائی سے متعلق رپورٹنگ کرسکتا ہے،تاہم ملزم اور متاثرہ افراد کی فیملی کی تصاویر نہیں چلائی جائیں گی،راءٹ آف انفارمیشن کے تحت عوام کو آگاہی سے نہیں روکا جاسکتا ۔ صحافتی کمیونٹی نے فیصلے کوسراہتے ہوئے کہاکہ روزنیوزنے ملکی تاریخ میں مثالی ضابطہ اخلاق پیش کیا،میڈیاکوضابطہ اخلاق کے اندررہتے ہوئے خبرنشرکرنی چاہیے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے اچھا فیصلہ کیا ۔ فیصلے کے دوررس نتاءج برآمد ہوں گے،ایس کے نیازی ہمیشہ اچھے کام کرتے ہیں ۔ پیمرا حکم نامے کیخلاف پٹیشن دائر کرنا ضروری تھا ۔ میڈیا پر پابندی سے بہت سارے مسائل جنم لیتے ہیں ۔