- الإعلانات -

غداری

پردیسی نے پوچھا بھائی کیا پاکستان کا ہر سابق وزیر اعظم غدار ہو جاتا ہے ۔ یہ سوال بظاہر سادہ سا نظر ;200; رہا ہے لیکن اس کی گہرائی میں طوفان پوشیدہ ہے ۔ ایک سادہ سی بات ہے کہ پاکستان کی سیاست کے بلند ترین منصب تک رسائی پانے والا کیسے ملک دشمن ہو سکتا ۔ بھائی کسی کو خواب ;200;ئی ہے کہ وہ کیا ہے ۔ یہاں سے ;200;گے ایک دم ہی دو رنگ والا سمندر کی طرح بحث یا وضاحت کا رنگ بدل جاتا ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے لیکر ہر چیز کو ان کی نظر سے گزارا گیا اور پھر غدار قرار دیا گیا تو ٹھیک ہے جو غدار کی سزا ہے وہ اس کو دو ۔ عوام کو گمراہ کرنے اور سیاسی سرکس میں ریٹنگ حاصل کرنے کیلئے ایسا کرنا ضروری ہے ۔ کیوں یہ سیاست خدمات کی نہیں صرف الزامات کی ہے ۔ اب دوسری طرف آئیں تو محترم فرماتے ہیں کہ ہماری فوج جب تک ;200;ئین کی پاسداری نہیں کرتی وہ دنیا کی نمبر ون فوج نہیں ۔ اب یہ وہ شخص کہ رہا ہے جسے خود ;200;ئین کے تحت اپنے سابق منصب سے متعلق یہ گفتگو نہیں کرنی ہے ۔ میاں صاحب کے نزدیک ان کو یا ان کی اولاد کو منصب اعلیٰ پر ہونا ہی ;200;ئین کی پاسداری ہے ۔ حکومت بچانے کیلئے اور اقتدار اعلی تک رسائی کیلئے ہر حد سے گزر جانا جمہوریت اس کا نام ہے ۔ ;200;پ کو حق حاصل ہے کہ ;200;پ ہی منصب پر رہیں تو کیا جس کو ;200;پ نے سرکاری دورہ پر ہوتے ہٹایا تھا وہ میرٹ تھا وہ اصول تھا ۔ ;200;پ کو حق حاصل تھا بس ۔ ۔ یعنی اپنی مرضی کرنے کا حق جس کیلیے ;200;پ اقتدار تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔ یہی جمہوریت ہے اور یہی سب کچھ یعنی ;200;پ کی من مانی اور ;200;پ کی مرضی ۔ کتنے ہی لوگ ;200;پ نے سیاست میں مرضی سے ضائع کیے اور کتنے جنرل سپر سیڈ جو میرٹ پر آتے تھے اور حقدار تھے ۔ ;200;پ نے عدلیہ میں نامزدگیاں ہونے دیں اور سیاسی وکیل جج بنائے جو سیاسی رشتے نبھاتے انصاف کی لٹیا ڈبو گئے ۔ ;200;پ نے ایک لمبا عرصہ دور اقتدار میں گزارا لیکن ملک معاشی طور پر کبھی مستحکم نہیں ہو سکا ۔ ملک میں دیگر انڈسٹری تو ناکام ہوتی گئی لیکن ;200;پ کے اثاثہ جات بڑھتے ہی گئے ۔ پاکستان سٹیل مل خسارہ میں اور اتحاد سٹیل منافع میں کیا ;200;پ کو نمبر ون کہلانے کا حق حاصل ہے ۔ سیاستدان کا اپنا کوئی اصول نہیں اور کسی اصول والے کو بھی یہ پسند نہیں کرتے اور راہ کا روڑا جان کر ہٹا دیتے ہیں تو اصول کہاں رہیں گے ۔ ;200;پ کیا سمجھتے ہیں کہ موٹر وے بنا دیا کام ختم پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا ۔ ایسا نہیں جناب وہ انڈسٹریل زون کہاں ہیں وہ ہیت کہاں وہ کسان وہ گھریلو انڈسٹری کہاں کچھ نہیں ملا کسی کو ۔ ;200;ج کا حکمران بھی خواب دیکھتا ہے بالکل ;200;پ کی طرح تو یہ ;200;پ کو برا لگتا ہے لیکن اپنا ;200;پ اچھا یہ نمبر ون سوچ ہو سکتی ہے ۔ یا نمبر ون لوگوں کی سوچ ایسی ہوتی ہے کیا محب لوگ ایسے ہوتے ہیں کیا قومی رہنما ایسے ہوتے ہیں ۔ کیا غریب کا درد رکھنے والا اور غریب کا رہنما ملک چھوڑ کر بہانہ لگا کر خود عیش میں اور عوام دھکے کھاتی رہے ۔ ;200;پ جمہوری روایات کو پروان چڑھاتے تو ;200;ج نہ ;200;پ کو نہ ہ میں یہ دن دیکھنا پڑتے ۔ اگرچہ ہم سب ذمہ دار ہیں ہم نے ;200;پ سر ;200;نکھوں پر بٹھایا عزت دی ووٹ دیا لیکن ;200;پ نے ووٹ لینے والوں کو تو عزت دی لیکن ووٹ دینے والوں کو نہیں ۔ ووٹ تو عوام ہے پھر ;200;پ نے یا کسی نے بھی کب عوام کی عزت کی ہے ۔ عوام کی عزت تو سر عام ;200;پ جیسے با اثر لوگوں کے کارخاص سرعام سڑک پر لوٹ لیتے ہیں ۔ پھر محافظ کہتے ہیں کہ اتنی رات گئے کیوں حفاظتی اقدامات کیے بغیر نکلے ۔ اور کوئی نہیں پوچھتا ;200;پ سمیت کہ بھائی یہ حفاظت تو ;200;پ کی ذمہ داری اور ڈیوٹی ہے ۔ ;200;پ جواب دہ ہیں ۔ یہ تو ;200;پ کو جواب دینا ہے بجائے ;200;پ جواب لینے پر مصر ہیں ۔ کیا یہ نمبر ون ادارہ اور نمبر ون سربراہ اور اپنے فرض سے محب لوگ ہیں ۔ اگر بات کی جائے تو غدارِ بے وفا ، فریبی ، بے ایمان ، بڑا دھوکا باز ، چھوڑنا ، باقی رکھنا ، بچانا ان معنی میں استعمال ہوسکتا ہے ۔ دیکھیں تو کون کون غدار ہے ۔ ;200;پ نے کیا کیا اور کیا نہیں اور ;200;پ کس زمرہ میں ہیں یہ ;200;پ سے زیادہ کون جانتا ہے ۔ ہم سب غدار ہیں ہم اپنے مفاد کے اسیر ہیں اور اس کیلئے ہر اصول ضابطہ توڑتے آئے ہیں ۔ سیاستدان ایک پارٹی سے دوسری اور پھر تیسری میں جاتا رہے یہ اصول کی سیاست ہے جس کو چور ڈاکو کہہ کر اس کے مخالف ووٹ لو اس کے ساتھ اتحاد بنا کر حکومت کو بلیک میل کرو یہ اصول کی سیاست ہے ۔ ;200;پ جو کریں جیسا کریں کوئی نہ پوچھے یہ اصول کی سیاست ہے ۔ ;200;پ کے پاس اتنا سرمایہ کہاں سے ;200;یا پوچھو تو یہ سیاسی انتقام کی اور بے اصولی کی سیاست ہے ۔ ;200;پ کو کچھ کہنا غداری ہے ۔ ;200;پ سے حساب لینا غداری ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اب سیاسی اور جمہوری طور پر اصطلاحات کی فوری اشد ضرورت ہے ۔ اس میں سب سے پہلے کسی بھی شخص کو ایک دم سے صوبائی یا قومی اسمبلی کا امیدوار ہونے پر پابندی لگائی جائے ۔ جسے سیاست میں حصہ لینا ہے وہ لوکل باڈی سے شروع کرے ۔ اس سے موروثی سیاست اور سیاسی اجاراداری پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ دوسرا اہم قدم بچوں کو خاص طور پر ٹیکنیکل کام سکھایا جائے تاکہ کوئی بے ہنر نہ رہے اور زندگی میں محتاجی کا شکار نہ ہو ۔ میں نہیں سمجھتا کہ غدار اور کافر کا سرٹیفکیٹ دینا معاشرتی خدمت ہے یہ یکجہتی اور محبت کی دشمن اصطلاحات ہیں ان سے دور رہا جائے تو یہ قومی زندگی اور معاشرتی طور پر زیادہ سودمند ثابت ہو گا ۔