- الإعلانات -

مہنگائی میں مسلسل اضافہ کن کے سبب ۔ ۔ ۔

ملک عزیز میں آج کل ہر اطراف مہنگائی کا ہی رُونارویاجارہا ہے ۔ افراد کی محرومیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ حد تک بڑھی ہوئی ہے ۔ عام آدمی پریشان چہرے کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے ۔ لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی پڑی ہے ۔ اب تو اِس ملک میں روٹی کا بندوبست کرنا مشکل ہوگیا ہے اور عام آدمی کا طرز زندگی شرمناک حد تک گر چکا ہے ۔ نوجوان ہاتھوں میں سندیں اور ڈگریاں لیکر پھر رہے ہیں اور ُان کو روزگار نہیں مل رہا ۔ اب تو فیکٹریوں ،ملوں اور دفاتر میں بھی کام نہیں مل رہا ۔ ہرفیکٹری،دفتر کے مین دروازے پر ;7879; ;8665676573786789;کا بورڈ لگا ہوا ہے ۔ کام ملے گا کے بس دلاسے ہی ہیں جوہر طرف اور حکومت کی طرف سے بھی دئیے جا رہے ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا جارہا ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جارہاہے ۔ غریب کی فلاح وبہبود کےلئے کوئی قانون سازی نہیں ہوتی ۔ اگر قانون سازی ہوتی بھی ہے تو صرف طاقتور کےلئے ہوتی ہے ۔ غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ غریب کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔ 8 گھنٹے پلس اوور ٹائم لگاکر بھی اُس کے گھر کا چولہا نہیں جلتا ۔ اُس کے بچے دو وقت کی روٹی اور معمولی معمولی چیزوں کے لیے ترستی نگاہوں کے ساتھ اُس کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ بعض گھروں میں نوبت آفاقہ تک دیکھنے کو ملتی ہے ۔ ضروریات اشیاء نہ ہونے کے برابر ۔ غریب رعایا کی حالت سنوارنے کی طرف تو کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے ۔ اِن کی بہتری کے لیے کاغذوں اورفائلوں سے نکل کر حقیقی زندگی پر کام نہیں کرتے ۔ غریب کے مسائل و ضروریات کا ادراک نہیں کرتے ۔ اِن کے حقوق و فراءض ادا کرنے کی طرف کھلے دل کے ساتھ نہیں بڑھتے ۔ غریبوں کے دن بھی سنور جائے اور ہر نوجوان کام میں جتا ہو،پر کوئی پیش رفت نہیں کرتے ۔ رعایا کا ہر بچہ تعلیم یافتہ ہو،پر کام نہیں کرتے ۔ ہر فرد کو برابر کے حقوق میسر ہو ،پر قانون نہیں لاتے ۔ عوام کی پتلی حالت سنوارنے کی طرف نہیں آتے ۔ پاکستان اور یہاں بسنے والی رعایا کے معیار زندگی کو بلند کرنے کی طرف ذہن نہیں دُوڑاتے ۔ ایک عام ورکر کی تنخواہ کیلکولیٹر سے ناپ تول کرآٹھ گھنٹوں کو فی منٹ فی پیس کی ریشو نکال کر ہاتھ اور حوصلہ دونوں باندھے مقرر کرتے بڑھانے کی طرف قدم نہیں اٹھاتے ۔ رعایا کو حقیر وکمتر اوربے بس جانے اس متعلق نہیں سوچتے ۔ ان کےلئے کوئی بہتر سمری پاس نہیں کرواتے مگر اپنے لیے ہر طرح کی مراعات وسہولتیں منظور کروالیتے ہیں ۔ جاگیردار،سرمایہ دار،پیسے والے بادشاہ لوگ شہنشاہوں کی سی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے ہیں ۔ عیش و عشرت میں پلے ہوئے ہیں ۔ ;667787; گاڑیوں کے علاوہ اور کسی گاڑی میں بیٹھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں جب تک اپنے استقبال اورآءو بھگت کے لیے لوگوں کا جم غفیر جمع ہوتا نہ دیکھ لے اپنے گھروں سے نہیں نکلتے،چلتے نہیں ہیں ۔ پہلے ہی مراعات یافتہ اور رعایا کا خون چوس طبقہ ہے جو پنجاب کے عوام کی اب تک کوئی خاطر خواہ خدمت نہ کرسکے ہیں سوائے اپنے آپ کو نوازنے کے ۔ یہ لوگ صرف اور صرف اپنے مفادات واغراض کے اسیر ہیں ۔ صرف اپنے آپ پر ہی توجہ وخیال دیتے ہیں ۔ اپنی ہی فکر رکھتے ہیں اور کسی طرف کوئی خیال نہیں رکھتے ہیں ۔ 17500روپے تنخواہ لیتی زمانے بھر کی تمام سختیاں سہتی8 گھنٹے پلس اوورٹائم بامشقت کام کرتی غریب عوام سے توان کو کوئی سروکار نہیں ہے ۔ غریب رعایاجیسے لوگوں کی اِن کوضرورت صرف تب ہی پڑتی ہے جب اِن لوگوں نے اِن سے ووٹ لینے ہوں یا اپنے جائز،ناجائز حقوق کے لیے انہیں سڑکوں پرلاکرکوئی پاور شو، احتجاج ،ریلی ،جلسہ جلوس یا اجتماع کروانا ہو ۔ اِس کے علاوہ تو ووٹروں کو اِن کا دیکھنا یاووٹروں کا اِن کو دیکھنا کم کم ہی ہوتا ہے ۔ بڑے ہی ’’غریب نواز‘‘ ہوتے ہیں اکثرایسے لوگ ۔ ووٹروں اور سپورٹروں پر اپنا دست شفقت اپنے ہی مقاصد و مطالب کےلئے پھیلائے اپنی ہی جی حضوری اور خوشامد وتائید کےلئے دباءو بھی بنائے ہوئے رکھتے ہیں ۔ یہاں پر بھی لوگوں کو صرف ساتھ ساتھ کا فریب ہی دیتے ہیں فائدہ اور کام نہیں ۔ اقتدار اور اختیار کی حریص ایسی شخصیات کسی کو دے بھی کیا سکتی ہیں سوائے پرفریب باتوں اورجھوٹے وعدوں کے ۔ ایسے لوگوں کے خیال و اعتبار بھی ایک دھوکاہی ہوتے ہیں ۔ ان کے ملنے ملانے کے انداز بھی خاص و عام کےلئے الگ الگ ہی ہوتے ہیں ۔ کوئی خاص آئے توآگے بڑھ کر ملتے ہیں اور عام ہوتو پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتے ۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کو ان کے پیچھے بھاگتے ہوئے بے سکون دیکھاہے اور بہت سوں کو ان کے بغیر بھی سکون و چین میں پایاہے ۔ ایسے لوگوں سے بہتری کی اُمید نہیں لگائی جاسکتی ۔ جس انقلاب کی بازگشت ہم بچپن سے لے کر اب تک سن رہے ہیں وہ انقلاب ایسے لوگوں سے نہیں آیا کرتے ۔ ایسے لوگ خود انقلاب کی راہ میں روڑے ہوتے ہیں ۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک بدقسمتی سے ہم پر مسلط ہیں جن کے باعث ہرطرف غربت وافلاس کے ڈیرے ہیں ۔ مہنگائی اوربے روزگاری ہے ۔ بدامنی ،خون خرابہ اور تباہی ہے جو اِسی ملک کا کھاتے ہیں اور اِسی کی جڑیں کاٹتے ہیں ۔ جن کی وجہ سے معاشرہ روزبروز تنزلی کا شکار ہے ۔ دین سے دوری ، جھوٹ ، اقربا پروری کے بے تاج بادشاہ ،مغربی طرز معاشرت کو اپنانے ہوئے ،مخلوط تعلیم کا رجحان بڑھائے ہوئے اور اس کے خطرناک نتاءج سے بے پرواہ اور ملکی خزانے کو دیمک کی طرح چاٹ کھانے والے ان لوگوں کی وجہ سے پاکستان کا اقوام عالم میں گرتا ہوا مقام ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ کرپٹ ،بے ایمان ،لتھی چڑھی سے بے نیازاوررعایا کے حقوق سے انکاری ایسے لوگوں سے انقلاب کی امید اپنے آپ کے ساتھ ساتھ ملک و ملت سے ایک دھوکا کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے ۔ انقلاب ہمیشہ متقی اورصالح لوگوں سے آتا ہے ۔ انقلاب لانےوالے کرپٹ اورصرف اپنی ضرورتوں کے ہی پجاری نہیں ہوتے اور نہ ہی ملک وقوم اور اس کے اداروں کے خلاف چلتے ہیں ۔ وہ اُوروں کےلئے جیتے ہیں ۔ انقلاب لانےوالے لوگ مسیحا وطن ہوتے ہیں ۔ قوم کے دلوں کی دھڑکنیں ،سالوں نہیں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ افسوس اب کے ملک میں موجود لوگ انقلابی نہیں فسادی ہیں اور اپنے مخصوص ذاتی ایجنڈے پر گامزن ہیں جس میں ملک وقوم کےلئے سوائے گھاٹے کے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔ ملک کے طول وعرض میں موجود بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ذمہ دار یہی لوگ جوچیزوں کو سٹور کیے مصنوعی بحران پیدا کیے حکومت کےلئے مشکلات پیدا بڑھائے ہوئے ہیں ۔ حکومت اگر خلوص نیت سے چاہتی ہے کہ مہنگائی کم ہوتو اسے اناج و گلہ ذخیرہ اندوزوں کے ماسٹرمائنڈوں کےخلاف ایک موثر کارروائی کرنا ہوگی ۔ اگر حکومت مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داران کےخلاف ایک بھرپور ایکشن لے لیں تو تمام ترمالی وانتظامی مشکلات کے باوجود بھی مہنگائی پر خاطر خواہ حد تک اطمینان بخش کنٹرول پا سکتی ہے ۔