- الإعلانات -

وطن عزیز میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش

10 اکتوبر کو مولانا عادل خان کو فیصل کالونی مارکیٹ کراچی میں دو موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ڈرائیور سمیت شہید کر ڈالا ۔ ڈاکٹر عادل خان، جامعہ فاروقیہ کے بانی مولانا سلیم خان کے صاحبزادے تھے ۔ انہوں نے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی اور ملائشیا میں پڑھاتے بھی رہے تھے ۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ کراچی آ گئے اور یہاں جامعہ فاروقیہ کا انتظام سنبھال لیا تھا ۔ وہ ایک ماہر اسلامی علوم تھے اور اعتدال پسندی پر عمل پیرا تھے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی کے مہتمم مولانا عادل خان کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے بھارت پر الزام عائد کیا کہ ہندوستان پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش کر رہا ہے ۔ کچھ عرصہ سے ملک میں فرقہ واریت کے زہر کی مسلسل نشاندہی کی جا رہی تھی ۔ یہاں تک بعض وزرا جن میں وزیر ریلوے شیخ رشید بھی شامل ہیں ،نے سازش کا انکشاف کیا ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اگر خود باخبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس سازش کو ناکام بنانے اور سازشی عناصر کو منظر عام پر لانے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی ۔ دشمن تو اپنی سازش میں کامیاب ہوگیا ۔ ہمارے قابل احترام عالم دین جان سے گئے ۔ ان کے چاہنے والوں میں اشتعال اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ۔ پورے ملک خصوصاً کراچی شہر میں خوف کی فضا بن گئی ۔ یہی تو دشمن چاہتا تھا ۔ مولانا پر حملے کی دو مختلف سی سی ٹی وی فوٹیج کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ملزمان راستوں سے مکمل باخبر تھے اس لیے انہوں نے سڑک کی دوسری جانب موٹر سائیکل کھڑی کی ۔ ظاہر ہے دہشت گردوں نے کئی دن تک ان کی ریکی کی ہوگی ۔ ان کے آنے جانے کے راستوں کے ساتھ ساتھ وقت کا تعین بھی کیا ہوگا ۔ دشمنوں نے فرقہ واریت کی سازش میں مختلف مسالک کے علماء حضرات کو ہی نشانہ بنانا تھا ۔ اس سازش کی نشاندہی ہونے کے بعد بھی علماء کی سیکورٹی کی طرف توجہ کیوں نہیں دی گئی;238; ۔ نامی گرامی علمائے کرام او ر ان کے مدارس یا تنظیموں کو اس سازش سے آگاہ کیو ں نہ کیا گیا کہ وہ خود ہی اپنی سیکورٹی ترتیب دے لیتے ۔ یہاں صوبائی حکومت کی ناکامی بھی سامنے آتی ہے ۔ پولیس براہ راست صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہوتی ہے ۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو اس سازش کا ادراک ہوتے ہی فی الفور علمائے کرام کے تحفظ کےلئے کم از کم پولیس گارڈ ضرور دینی چاہیے تھی ۔ جہاں تک اس واقعہ میں بھارت کے ملوث ہونے کا سوال ہے تو ابھی چند روز قبل ہی امریکی جریدے ’فارن پالیسی‘ نے داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ کو عالمی اور علاقائی خطرہ قرار دیا تھا ۔ جریدے نے داعش اور بھارت کے با ثبوت روابط دنیا کے سامنے رکھ دئیے تھے ۔ جریدے کی رپورٹ کے مطابق بھارت اور داعش نے بین الاقوامی دہشت گردی کو بڑھاوا دیا ۔ اگست میں جلال آباد( افغانستان) میں جیل پر حملہ، 2019ء میں سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر بم دھماکے، 2017 میں نئے سال کے موقع پر ترکی میں کلب پر حملہ اور 2017ء میں نیو یارک اور سٹاک ہوم حملہ سر فہرست ہیں ۔ ان واقعات کے علاوہ اس بات کے بھی ثبوت مل چکے ہیں کہ 2016 اتا ترک ائیرپورٹ پر حملہ ، زیر زمین پیٹرز برگ پر حملہ اور کابل میں سکھ گردوارہ پر حملے میں بھارتی دہشت گرد ملوث تھے ۔ بھارتی دہشت گردوں نے خاص کر افغانستان اور شام کو بیس بنا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا ۔ شام کی لڑائی میں بھارتی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں ۔ ان حملوں کی پلاننگ میں بھارتی ہاتھ انتہائی پریشان کن ہے ۔ یہی بھارتی ہاتھ ہمیشہ ہمارے ہاں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے ۔ کبھی داعش کے ساتھ مل کر تو کبھی تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ۔ کبھی پڑوسی ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی اور افغان سرحد ی علاقے میں چھپے دہشت گردوں کی سرپرستی کر کے ۔ پہلے تو بھارت صرف خطے میں ہی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا ہے لیکن جب سے اسے داعش کا ساتھ ملا ہے تو اس نے مذہبی گروپس خاص کر نوجوانوں کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہاپسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دیا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہندو نیشنلزم انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے ۔ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ زیادہ ہندوستانی علاقائی اور عالمی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہوں ۔ بھارتی دہشت گردی صرف پاکستان تک ہی موقوف نہیں بلکہ کشمیر میں بھی بھارت میں موجود انہی دہشت گردعناصرنے بھیانک کردار ادا کیا ۔ خود داعش نے گزشتہ برس بھارت میں موجود اپنے دہشت گرد گروپوں کا باضابطہ اعلان بھی کیا تھا ۔ ایسا ہی داعش کا ایک گروپ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف دہشت گردی میں بھی ملوث ہے ۔ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی آواز دبانے کےلئے اسرائیل جیسے دہشت گرد ملک کی مدد حاصل کی ۔ ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی وادی میں بھارتی فوج اور پولیس کو تربیت دے رہے ہیں ۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف کئے گئے اقدامات اور تجربات کو کشمیریوں پر بھی لاگو کر رہا ہے ۔ یہاں بھی غزہ کی طرح غیر کشمیریوں کی بستیاں بسائی جا رہی ہیں ۔ کشمیریوں کی طاقت اور اکثریت توڑنے کےلئے لاکھوں افراد کو کشمیر میں بسایا جا رہا ہے ۔ کراچی سانحہ میں مولانا کی شہادت ملک میں امن وامان کیخلاف ایک سازش ہے ۔ حکومت اور ریاستی ادارے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے اقدامات کریں ۔ کروڑوں پاکستانی مسلمانوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو پاتال سے بھی نکال کر قوم کے سامنے لایا جائے ۔ حکومت وقت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنےوالے تمام ادارے شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس شہادت کے تمام پس پردہ حقائق وسازشوں سے پردہ ہٹائیں اور اس سازش میں جتنے بھی کردار ملوث ہیں انہیں بے نقاب کریں ۔ مولانا عادل خان اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے ۔ انہوں نے دین حق کی سربلندی اور اخوت و بھائی چارے کا ہمیشہ پرچار کیا ۔ ماضی میں بھی شرپسند عناصر نے کئی جانیں لیں جن سے اسلام اور وطن کا بہت نقصان بھی ہوا ۔ اس وقت ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے اکابرین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بیرونی طاقتوں کی گھناءونی سازش کو ناکام بنا نے کیلئے آگے آئیں ۔ اپنی صفوں کا ازسرنو جائزہ لیکر شرپسند عناصر کی نشاندہی کریں ۔