- الإعلانات -

مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن پرواضح کردیاہے کہ چاہے یہ جتنامرضی شورمچالیں کوئی مفاہمت نہیں ہوگی کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک ون پوائنٹ ایجنڈا اہم ہے کہ کرپشن پرکسی صورت بھی کمپرومائزنہیں کرنا، حکومت کے مطابق اپوزیشن جو بھی شورمچارہی ہے وہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے اورکرپشن کومحفوظ کرنے کے لئے ہے اسی وجہ سے کپتان نے کہاہے کہ اس معاملے پروہ کسی صورت بات چیت ہی نہیں کریں گے تاہم ایک بات اہم ہے کہ ہم یہ حکومت سے کہتے ہیں کہ جمہوریت کایہ حسن نہیں کہ قطعی طورپردروازے بندکردیئے جائیں کوئی نہ کوئی ایساراستہ کھلارکھناچاہیے جس کے تحت مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوجائیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا دوسرا اجلاس ہوا جس میں ملکی تازہ سیاسی صورت حال، اپوزیشن کی تحریک اور مہنگائی کی صورت حال پر غور کیا گیا ۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن والے پہلے بھی نکلے تھے، اب بھی چوری بچانے نکلے ہیں ۔ دھاندلی کا شور کرنے والوں نے انتخابی عذرداریاں ہی دائر نہیں کیں ۔ پنجاب میں اپوزیشن نے11جبکہ تحریک انصاف نے13انتخابی عذردرایاں دائر کیں ۔ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے ہم نے مخلصانہ پیشکش کی ۔ اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کے ثبوت ہی پیش نہیں کئے گئے ۔ ہمارے اپنے امیدوار بہت کم مارجن سے ہارے ۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو 2017 میں این اے 120 ضمنی انتخاب میں اڑھائی ارب روپے کے خرچ کے معاملے کو منظر عام پر لانے کی ہدایت کی ۔ اجلاس کے دوران ترجمانوں نے مہنگائی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ وزیراعظم کی جانب سے مہنگائی پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی پر کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ مہنگائی پر جلد قابو پا لیا جائیگا ۔ اشیائے خوردونوش کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ مہنگائی جلد کم کرلیں گے ۔ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، بلیک کی نشاندہی کیلئے ٹائیگر فورس کو استعمال کر رہے ہیں ۔ پوری توجہ مہنگائی میں کمی اور معیشت کی بہتری پر مرکوز کر دی ہے ۔ کنزیومر پروٹیکشن کے معاملات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے پارٹی رہنماءوں ، اتحادیوں اور ترجمانوں کے درمیان مشاورت تیز تر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے سینیٹر فیصل جاوید اور سینیٹر ذیشان خانزادہ سے ملاقات کے دوران بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اپوزیشن کو این آر او نہیں دوں گا ۔ مریم نواز نے این اے 120 کے ضمنی انتخاب پر اڑھائی ارب روپے خرچ کئے تھے جبکہ قانون کے تحت یہ پیسہ خرچ نہیں ہو سکتا تھا ۔ یہ معاملہ نیب کو بھجوا رہے ہیں ۔ شریف خاندان نے پنجاب حکومت کا خزانہ ذاتی مفادات کےلئے استعمال کیا ۔ اپوزیشن کے جلسے اور جلوسوں پر دھیان دینے کے بجائے کارکردگی پر توجہ دیں ۔ اپوزیشن جماعتیں خود ہی عوام کے سامنے بے نقاب ہوں گی ۔ اپوزیشن نے ریکارڈ قرضے لے کر قوم کے ساتھ ظلم کیا ۔ مشکل حالات کے باوجود معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ نیز وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوءٹ میں لکھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے لیے پاکستان کے مزید 3 برس کے لیے انتخاب پر نہایت شاد ہوں ۔ اس بڑی سفارتی کامیابی پر میں دفتر خارجہ اور بیرون ملک موجود پاکستان کے سفارتی مشنز کے کردار کو سراہتا ہوں جن کی کاوشوں سے عالمی افق پر پاکستان کی حیثیت اور ساکھ میں اضافہ ہوا ۔ انہوں نے لکھا کہ برداشت کے فروغ اور تعمیری سرگرمیوں کو اپنی ترجیحات کا حصہ بناتے ہوئے ہم سب کےلئے انسانی حقوق کے تحفظ کا عزم کیے ہوئے ہیں ۔ اسلاموفوبیا کے خلاف احترام باہمی کی حمایت میں بھی ہمارا موقف غیر متزلزل ہے ۔ پاکستان اتفاق رائے کے حوالے سے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا اور یقینی بنائے گا کہ کونسل کے کام کی بنیاد عالمگیریت، غیرجانبداریت، گفت و شنید اور تعاون کے اصولوں پر استوار ہو ۔ پاکستان کشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بلاخوف احتساب خلاف ورزیاں بھی بے نقاب کرتا رہے گا ۔

سرحدپارسے دہشت گردی۔۔۔امن کے لئے خطرہ

افغانستان سے دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا حوالدار تنویر شہید اور ایک جوان زخمی ہو گیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق افغانستان سے دہشت گردوں نے باجوڑ کے علاقے میں اندھا دھند فائرنگ کی ۔ پاک سرزمین کی حفاظت پر مامور حوالدار تنویر جام شہادت نوش کر گئے ۔ زخمی ہونےوالے جوان کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ شہید حوالدار تنویر احمد کو آبائی گاءوں باچھلی میں نماز جنازہ کے بعد مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ۔ شہید حوالدار تنویر احمد نے سوگواران میں بیٹا، دو بیٹیاں ، بیوہ، بھائی اور والدین کو چھوڑا ہے ۔ شہید کے والد بھی ریٹائرڈ فوجی ہیں ۔ واضح رہے کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی فائرنگ کے واقعات ماضی میں بھی رونما ہوتے رہے ہیں ۔ گزشتہ ماہ پاک فوج کے سپاہی صابر شاہ بھی بارڈر پار سے فائرنگ کے واقعہ میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے تھے ۔ پاکستان کے بار بار احتجاج کے باوجود افغان حکومت اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھا رہی ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت افغانستان میں ہونےوالے امن منصوبے کےخلاف اور اس حوالے سے پاکستانی کردار سے خاءف ہے ۔ اس طرح کی دہشتگرد کارروائیوں میں ماضی میں بھارت کے ملوث رہنے کے ثبوت ملتے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ پاک افغان بارڈر پر سرحد پار سے فائرنگ سے پاک فوج کے جوان اور شہری شہید ہوچکے ہیں ۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے ۔ یہ باڑ شرپسند عناصر کی بارڈر کراسنگ کو روک دیگی اور پاکستان میں ان کی سرگرمیاں کم ہوں گی ۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے عمل میں رخنہ ڈالنے کیلئے دہشت گرد اور دیگر شرپسند عناصر تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ پاکستان مسلسل افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کا معاملہ اٹھارہا ہے تاہم افغان سرزمین پاکستان کےخلاف استعمال ہو رہی ہے ۔

اسلام آباد میں دھرنا، جائزمطالبات تسلیم کئے جائیں

آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا)، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور مختلف یونینز نے اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا دیا ۔ مظاہرین احتجاج کیلئے پارلیمنٹ ہاءوس جانے لگے تو پولیس نے انہیں ڈی چوک پر روکنے کی کوشش کی تاہم مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر پارلیمنٹ ہاءوس کے سامنے پہنچ گئے ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے ہیں جن پر مطالبات درج ہیں ۔ مظاہرین نے مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک پر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ مظاہرین سے فنانس اور لیڈی ہیلتھ ورکرز سے وزارت صحت کے نمائندے مذاکرات کرینگے ۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی احتجاج کرنےوالے سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی حمایت کر دی ہے ۔ بلاول نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم کرے ۔ ا ترقیاں ، پنشن اور مساوی مراعات وفاقی حکومت کے ملازمین کے حقوق ہیں پیپلزپارٹی لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت تمام سرکاری ملازمین کے مسائل ہر فورم پراٹھائیگی ۔ اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی)آپریشنز کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا اور ڈرون کے استعمال کو پولیس ائیرپٹرولنگ یونٹ کا نام دیا گیا ہے ۔ ڈی چوک پر لیبر یونین کے احتجاج کی مکمل مانیٹرنگ پہلی بار ائیر پیٹرولنگ یونٹ نے کی ۔ سرکاری ملازمین اور حکومتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے ۔ مذاکرات میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، میاں محمد سومرو اور عمر ایوب نے حصہ لیا ۔ ڈی چوک اسلام ;200;باد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سرکاری ملازمین نے دھرنا دے رکھا ہے ۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور حکومتی ٹیم میں مذاکرات کا پہلا دور ناکام رہا ۔ حکام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرزکے مطالبات صوبے پورے کریں گے ۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز نے کہا کہ وفاق مسائل حل نہیں کر سکتا تو کس چیز کی علامت ہے ۔