- الإعلانات -

حکومتی ٹامک ٹویاں اور

پی ڈی ایم کی دھاڑ
جس دن سے تحریک انصاف کی حکومت نے باگ ڈورسنبھالی ہے اس دن سے مختلف ”انواع و اقسام ” کے مسائل درپیش ہے ، حکومت کا کہنا یہ ہے کہ ان سب کی وجہ سابقہ حکومت کی پالیسیاں ہے، یہ وہ رونا ہے کہ مصداق اس کے بلی کھنبہ نوچے،اپنے آپ سے کام ہونا نہیں اور دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا یعنی کہ” ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا” یعنی کہ خود کچھ نہ کرنا اس حکومت کی تو حالت یہ ہے کہ ”اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی”اس حکومت کا تو اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا ہی نہیں ، اپوزیشن کے گرد گھیراخوب تنگ کررکھا ہے جبکہ اپنے ارد گرد خوش آمدیوں کے ٹولے کا جمگھٹا لگارکھا ہے ، حکومت کا کوئی بھی وزیر کرپشن کرتا ہے تو اسے استعفیٰ لیا جاتا ہے پھر وہ گنگا جمنا نہاکر آتا ہے یا تو اس کو دوبارہ وزارت دی جاتی ہے یا پھر پارٹی کا کوئی اچھا عہدہ تفویض کردیا جاتا ہے جس کی واضح مثال سابقہ وزیر صحت عامرمحمود کیا نی ہے ، اس طرح کے اور بھی مثالیں ہے ، یہ تو انتہائی غلط بات ہے کہ حکو مت کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہ آئے اور دوسری کی آنکھ میں بال بھی دیکھ لیں ، انہیں پالیسیوںکی وجہ سے حکومت راندہ درگاہ ہے ، عوامی اپنی جگہ پریشان اور حکومت خود اپنی جگہ کف افسوس ملنے پر مجبور ہیں ، فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں کئے گئے اب اپوزیشن سڑکوں پر ہے اور رہی سہی کسر جناب عزت مأب ،شہنشاہ عالم نے یہ فرمان جاری کرکے پوری کردی ہے کہ اپوزیشن سے کسی صورت مفاہمت نہیں ہوگی ، یہ بات درست ہے کہ جمہوریت کیلئے یہ فیصلہ زہر قاتل کی طرح مترادف ہوگا کیونکہ جمہوریت نواز حکومت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ، بات یہ ہے کہ حکومت کہتی ہے اپوزیشن والے این آر او مانگ رہے ہیں ،کپتان صاحب کا بھی فرمان ہے کہ وہ اگر آج این آر او دے دے تو سارا جھگڑا ہی ختم ہوجائیگاجبکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ وہ این آر او نہیں مانگ رہی جس نے مانگا ہے اس کا حکومت نا م واضح کریں ، اپوزیشن کی اس بات میں بہت منطق ہے ہر ذی شعور اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا یہ بات سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ اگر بات صرف الزام برائے الزام تک محدود نہیں تو پھر این آر او مانگنے والے کا نام سامنے آنا چاہیے لیکن حکومت ”سیاسی سٹنٹ بازی”جاری رکھے ہوئے ہے اور نام نہیں بتاتی جس طرح کے کرپشن کیخلاف بابانگ دہل نعرہ ہے کہ اس کو ختم کرنا ہے لیکن اس حوالے سے آج تک کوئی قابل ذکر رقم بر آمد نہیں کی گئی ”بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کے ””جو چیرا تو اک قطرہ خوں نکلا”لیکن اس حکومت کے دل تو شاید خون کا قطرہ بھی نہیں حالانکہ جس طرح عوام کا خون چوسا جارہا ہے تو اعتبار سے دل پھٹ جانا چاہیے لیکن ” سب کج آندرتے چوہا جلندر” اب نوسو چوہے کھاکر بلی کے حج کرنے کا کیا فائدہ ، ہم پہلے دن دے کہہ رہے ہے کہ کرپشن کیخلاف آپریشن کرنا ہے تو حکومت اپنی صفوں سے اس کا آغاز کرے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا ، ہر روز یا پھر دوسرے تیسرے روز حکومت کرتے دھرتوں کا کپتان کی زیر صدارت اجلاس ہوتا ہے یا کابینہ بیٹھی ہے ، سب اپنا اپنا راگ الاپتے ہیں لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے جب حمام میں سارے کے سارے ہی ننگے ہوں،وہ میر درد نے کہا تھا کہ ” تردامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو ۔۔۔ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں”تو حکومت کی یہ حالت ہے کہ اس میں شیخ بھی شامل اور اپنی تردامنی کو بھی پاک دامنی ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں لیکن حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے کہ ان کی جولی میں سو چھید ہیںابن انشاء نے کہا تھا ”جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا ”تو اب ان حکمرانوں کی جھولی تو ہوگئی چھلنی، چھلنی،اسی وجہ سے نا بیرونی ملک سے آنیوالی امداد روک رہی ہے اور نہ ہی سرمایہ کار ،کپتان صاحب دل پشوری کرتے رہتے ہیں انہیں یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن ایسا آئیگا جب حالات اچھے ہونگے لیکن شائد وہ اپنے رویے میں تبدیلی لانا نہیں چاہتے اسی وجہ آج حکومت بھنور میں پھنسی ہوئی ہے اسی طرح کے حالات رہے ،مہنگائی عروج پر رہی ،ادویات کی خریداری پہنچ سے باہر رہی ، گندم ناپید رہی ، سبزیاں عنقا رہیں،اشیائے ضروریہ کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف رہا تو پھر حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے۔۔